اچھا تو اب یہ بھی مجھے بتانا پڑے گاکہ ہم لوگ یہاں کیوں آئے ہیں ؟ تو میں نے۔۔ جو سب سمجھ چکا تھا ایکٹنگ کرتے ہوئے بولا ۔۔ سوری ۔۔۔ میں سمجھا نہیں ؟ تو وہ ایک دم غصے میں آ گئی اور کہنے لگی ۔۔۔ ۔۔۔ ابھی بتاتی ہوں بہن چود !! ۔۔۔ اس کے منہ سے اتنی بڑی مردانہ گالی سن کر میرا تو پتِہ پانی ہو گیا ۔۔لیکن میں نے ۔ بڑا ہی مسکین سا منہ بنا کر کہا ۔۔۔ میں نے کیا کیا ہے باجی ؟؟؟؟ ۔۔۔ تو وہ ایک دم غصے سے بولی ۔۔۔ بہن چود کے بچے ۔۔۔ ۔۔۔ صبع تم نے میرے ساتھ کیا حرکت کی تھی ؟؟ ۔۔۔۔ اس کی بات سن کر اور اس کا غصہ دیکھ کر میں نے معافی مانگنے میں ہی عافیت جانی اور بولا ۔۔۔ وہ باجی مجھ سے غلطی ہو گئی تھی پلیز معاف کر دیں اور ساتھ ہی اپنے دونوں ہاتھ جو ڑ دیئے ۔۔ مجھے یوں معافی مانگتے دیکھ کر شاید اس کو کچھ ترس آ گیا اور وہ بولی ٹھیک ہے میں تم کو معاف کر سکتی ہوں ۔۔۔۔ لیکن ایک شرط پر ۔۔ تو میں نے جھٹ سے کہہ دیا باجی مجھے آپ کی ہر شرط منظور ہے ۔۔ میری بات سن کر وہ قدرے تیزی سے بولی پہلے سُن تو لے سالے ۔۔۔ پھر کہنے لگی ۔۔۔ یہ جو حرکت صبعتم نے مجھ سے کی تھی ۔۔۔ سچ بتا ۔۔ تم نے مجھے ارمینہ سمجھا تھا نا ؟ اب میں پھنس گیا تھا ۔۔۔۔ سچ بتاتا ۔۔ تو مرتا ۔۔۔ جھوٹ بولتا تو مرتا ۔۔۔ پھر میں نے سوچا کہ جب مرنا ہے تو۔۔۔کیوں نہ میں جھوٹ بولوں کہ اس طرح کم از کم ارمینہ کی تو جان بچ سکتی تھی ۔۔ چنانچہ میں نے مرینہ کی طرف دیکھا اور ۔۔۔ اور بولا۔۔۔ نہیں باجی ۔۔۔ وہ میں ۔۔۔ اس سے پہلے کہ میں فقرہ مکمل کرتا اس نے مجھے تھپڑ مارنے کے لیئے اپنا ہاتھ اُٹھا یا اور بولی ۔۔۔۔ حرامزادے۔۔۔ !!! سچ سچ بتا ۔۔۔۔ ورنہ ابھی ایک دوں گی نا ۔۔۔تو تم کو نانی یاد آ جائے گی۔ میرے دل میں چونکہ پہلے سے ہی چو رتھا اس لیئے میں اس کی ڈانٹ سُن کر ڈر گیا اور آئیں بائیں شائیں کرنے لگا ۔لیکن جب اس نے دوبارہ کڑک لہجے میں کہا تومیں اور بھی ڈر گیا اور اس سے بولا ۔۔۔ وہ ۔۔باجی ۔۔ وہ باجی ۔۔ اور پھر ایک اور ڈانٹ سن کر میں نے اس کو الف سے یے تک ساری سٹوری سنا دی لیکن یہاں بھی ارمینہ کو چودنے اور کچن میں ہونے والا واقعہ گول کر گیا ۔۔۔ جب میں اس کو سٹوری سنا رہا تھا تو اچانک وہ درمیان میں بولی ۔۔۔ یہ بتاؤ ۔۔ اس کے ساتھ تم نے ابھی تک " وہ والا " والا کام کیا ہے یا نہیں ؟ ؟ تو میں نے کہا کہ نہیں باجی ابھی تو ہماری کہانی شروع ہی ہوئی ہے ۔
میری سٹوری سُن کر وہ کسی گہری سوچ میں پڑ گئی اور پھر کافی دیر تک سوچنے کے بعد بولی چلو اب تم مجھے لال کڑتی لے چلو ۔۔۔۔ چانچہ جیسے ہی میں اُٹھا ۔۔۔ اس نے ایک دم مجھے بازو سے پکڑکے نیچے بٹھا دیا اور پھر اسی خونخوار لہجے میں بولی ۔۔۔ دیکھو ۔۔۔!!! ارمینہ کے ساتھ تم جو کچھ بھی کر رہے ہو میرا اس کے ساتھ کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔۔۔ تم نے میرے ساتھ ایسی حرکت کی تھی اس لیئے میں نے تم سے یہ وضاحت مانگی ہے ۔۔۔ پھر وہ اچانک مکا لہرا کر ۔۔۔ بولی ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ خبردار ۔۔ یہ جو تیرے اور میرے بیچ بات ہوئی ہے اس کی بِھنک بھی ارمینہ کو نہیں پڑنی چاہیئے ۔۔۔ اور پھر مزید آنکھیں نکال کر بولی ۔۔۔۔ میری بات سمجھ گئے ہو نا ۔۔۔ تو میں نے کہا جی میں آپکی بات اچھی طرح سے سمجھ گیا ہوں ۔۔۔۔ تو اس دفعہ وہ تھوڑا نرم لہجے میں کہنے لگی کہ دیکھو میں تمھارے اور اس کے معاملے میں بلکل نہیں پڑنا چاہتی ۔اور نہ ہی مجھے اس سے کچھ غرض ہے ۔۔ اور پھر مجھے اُٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے بولی ۔۔۔ یہ بات ابھی اور اسی وقت ختم سمجھو ۔۔۔ آج کے بعدہم اس بارے میں کوئی گفتگو نہیں کریں گے ۔ اس کے بعد ہم لالکڑتی چلے گئے ۔۔۔۔ یہ لالکڑتی سے واپسی کی بات ہے کہ مین سڑک پر اچانک ایک گدھا گاڑی والا میرے سامنے آ گیا اور میں نے بڑی مشکل سے موٹر سائیکل کو ادھر ادھر کے ایک تنگ سے راستے سے بائیک گزاری ۔۔۔ اس وقت تو مرینہ کچھ نہیں بولی لیکن جیسے ہی بائیک تھوڑا آگے بڑھی تو ۔۔ اچانک وہ پیچھے سے کہنے لگی ۔۔ بات سُنو !!۔۔۔ تم وہاں بریک لگا کر رُک بھی سکتے تھے پھر یہ اتنا رسک لینے کی کیا ضرورت تھی ؟ تو میں نے کہا کہ ۔۔۔ وہ باجی اچانک بریک لگانے سے آپ ناراض بھی ہو سکتی تھی اس لئے میں نے یہ رسک لیا تھا ۔۔۔ میری بات سُن کر وہ بولی ۔۔۔ اس میں ناراض ہونے کی بھلا کون سی بات تھی ؟ میں پیچھے بیٹھی یہ سب کچھ خود بھی تو دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔ پھر وہ میری بات کی تہہ تک پہنچ کر بولی ۔۔۔ بیٹا ہمیں سب پتہ چلتا ہے کہ کب بریک ضرورتاً لگائی گئی ہے اور کب غیر ضروری طور پر۔۔۔ اس لئے تم اس بات کی فکر نہ کیا کرو۔۔۔ اور ضرورت کے مطابق کام کیا کرو ۔۔ خواہ مخواہ رسک لینے کی کوئی ضرورت نہ ہے ۔۔
ہمیں گھر پہنچے پہنچتے رات کے ۔دس گیارہ بج چکے تھے ۔۔چنانچہ جیسے ہی ہم گھر میں داخل ہوئے تو سامنے ہی ماسی اور ارمینہ کھڑی تھیں ۔۔۔ خیر خیریت کے بعد ماسی نے سب سے پہلے مرینہ سے میرے بارے میں سوال کیا تو مرینہ کہنے لگی ۔۔۔ بہت اچھا لڑکا ہے اور بڑی ہی میچور بائیک چلاتا ہے ۔۔ یہ کہہ کر وہ جلدی سے واش روم میں گُھس گئی اور ماسی کچن میں جاتے ہوئے ارمینہ سے بولی ۔۔۔ ارمینہ بھائی کو باہر چھوڑ کر دروازہ لاک کر لو ۔۔۔ جبکہ ارمینہ وہیں کھڑی رہی پھر میرے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے ہولے سے بولی ۔۔۔ بات سنو ۔۔!! مرینہ کے سامنے نہ تو تم نے مجھ سے زیادہ بات کرنی ہے اور نہ ہی کوئی ایسی ویسی حرکت ۔۔۔ اتنے میں دروازہ آ گیا تو وہ مجھے باہر نکال کر ایک دفعہ پھر مجھ سے مخاطب ہو کر بولی ۔۔۔ میری بات سمجھ گئے ہو نا ؟؟ تو میں نے اس سے کہا جی میں اچھی طرح سے سمجھ گیا ہوں ۔۔۔ میری بات سُن کر وہ مطمئن ہو گئی اور اس نے ہاتھ ملانے کی غرض سے اپنا ہاتھ آگے بڑھا یا اور بولی۔۔۔ اوکے اب تم جاؤ ۔۔۔ وہ دروازے کے اندر اور میں باہر کھڑا تھا اور میرے پیچھے پردہ لگا ہوا تھا سو کسی کے دیکھنے کا ہر گز کوئی چانس نہ تھا چنانچہ جیسے ہی اس نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ کی طرف بڑھایا میں نے اس کو اپنی طرف کھینچ کر اپنے سینے سے لگا لیا اور جلدی سے اس کے ہونٹوں پر ہونٹ رکھ دیئے اور ایک زبردست ۔۔۔ اور گیلی سی کس دینے لگا ۔۔اس نے ایک جھٹکےسے خود کو مجھ سے الگ کیا اور اپنے ہونٹ کہ جن پر میرا تھوڑا سا تھوک لگا رہ گیا تھا صاف کر کے بولی ۔۔ بد تمیز ۔۔۔ اور دھڑام سے دروازہ بند کے اندر چلی گئی۔۔۔
اگلے ایک دو دن میں روٹین کے مطابق ماسی کے گھر جاتا رہا اور ارصلا کو ساتھ لیکر سکولے جاتا اور لاتا رہا ۔۔ہاں اصلا کو ساتھ لے جاتے وقت اگر مرینہ اُٹھی ہوتی تو ۔مجھ سے بڑی گرم جوشی سے ملتی ۔۔۔ لیکن وہ اس ٹائم سوئی ہوتی تو واپسی پر مجھ سے ضرور گپ شپ کرتی اس کے بر عکس ارمینہ ہمارے آنے کے ٹائم سے پہلے ہی کہیں ادھر ادھر ہو جایا کرتی تھی ۔۔۔ پتہ نہیں وہ اس قدر محتاط کیوں تھی ؟؟؟ جبکہ اس کی بڑی بہن بڑی ہی دبنگ اور کافی کھلی ڈھلی تھی ۔۔دونوں کے مزاج میں زمین آسمان کا فرق تھا ۔ لیکن میرا یہ حال تھا کہ جب تک میں ارمینہ کو دیکھ نہ لوُں مجھے سکون نہ ملتا تھا اس لئے میں شام کو بھی گاہے ان کے گھر چکر لگاتا رہتا تھا ۔۔ جہاں ارمینہ تو نہیں البتہ مرینہ سے گپ شپ ضرورہو جایا کرتی تھی بلکہ اب تو مرینہ سے بہت اچھی دوستی بھی بن گئی تھی ۔۔ لیکن اس کے باوجود اس دن کے بعد ۔۔۔ پھر کبھی اس نے بھولے سے بھی میرے اور ارمینہ کے تعلقات کے بارے میں کوئی بات نہ کی تھی-سالی بات کی بڑی پکی تھی ۔۔
ایک دن کی بات ہے کہ میں ارصلا کے ساتھ اس کے گھر پہنچا تو گرمی کی وجہ سے ہم دونوں کا پیاس سے بُرا حال تھا ۔ ہم گھر میں داخل ہوئے تو حسبِ معمول ماسی نے ہمارا استقبال کیا لیکن مرینہ کہیں دکھائی نہ دی ورنہ عام طور پر مرینہ بھی ماسی کے ساتھ ہی ہوتی تھی چونکہ اس دن گرمی کچھ ذیادہ ہی سخت تھی اس لیئے میرا خیال ہے وہ اندر کمرے میں ہو گی جبکہ ارمینہ کو حسبِ معمول کچن میں ہونا چایئے تھی ۔ ماسی تو ہمیں پیار وغیرہ کر کے باہر نکل گئی کہ اس کا گھر میں بیٹھنا ویسے بھی دشوار ہوتا تھا ۔ گرمی کے دن تھے اور مجھے بڑی سخت پیاس محسوس ہو رہی تھی اور یہی حال ارصلا کا بھی تھا چنانچہ جیسے میں نے پانی کا ذکر کیا ۔تو اس زکر کے ساتھ ہی ۔ ارصلا اور میں نے ٹھنڈا پانی پینے کے لیئے کچن کی طرف دوڑ لگا دی ۔۔۔ ارصلا چونکہ مجھ سے تھوڑا آگے کھڑا تھا سو وہ مجھ سے پہلے کچن میں پہنچ گیا اور جلدی سے گلاس اٹھا کر جو کہ کولر کے پاس ہی پڑا ہوتا تھا پانی ڈالنے لگا اس لئے جب میں کچن میں پہچا تو وہ کولر سے پانی ڈال رہا تھا سو میں اس کے پاس کھڑا ہو کر اپنی باری کا انتظار کرنے لگا ۔۔۔۔۔ اسی دوران اچانک ہی میری نظر ارمینہ پر پڑی ۔۔۔ جو ہم سے بے نیاز کوئنٹر پر جھکی غالباً آلو چھیل رہی تھی ۔ چونکہ یہ ہمارا تقریباً روز کا ہی رولا ہوتا تھا اس لیئے عام طور پر اس نے کبھی ہمارا نوٹس نہ لیا تھا اور خاص کر جب سے مرینہ ان کے گھر آئی تھی تو اس کا رویہ مجھ سے کچھ یوں ہو گیا تھا ۔۔کہ جیسے جانتے نہیں ۔۔۔ اس معاملے میں وہ آخری حد تک محتاط خاتون تھی ۔ ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ ارصلا تو کولر سے پانی ڈال رہا تھا اور میری نظر اتفاق سے ارمینہ سے ہوتی ہوئی اس کی گانڈ کی طرف چلی گی وہ کچھ اس ادا سے کائنٹر پر جھکی آلو چھیل رہی تھی کہ اس کی موٹی سے گانڈ خاصی سے زیادہ باہر کو نکلی ہوئی تھی اوپر سے غضب یہ تھا کہ اس کی قمیض بھی گانڈ والی جگہ سے ہٹی ہوئی تھی ۔۔ جس کی وجہ سے اس کی بُنڈ کے دونوں پٹ بہت ہی نمایاں نظر آ رہے تھے ۔۔۔ جس کو دیکھ کر میں ۔۔ تو ۔۔۔ پاگل سا ہو گیا ۔اس کی گانڈ کے کریک کو دیکھ کر میرے منہ میں پانی بھر آیا ۔ وہ تو مگن ہو کر اپنا کام کر رہی تھی اور غالباً اسے اس بات کا اندازہ بھی نہ تھا کہ ا س کی گانڈ پیچھے سے کیسا غضب ڈھا رہی ہے ۔۔ ارمینہ کی یہ حالت دیکھ کر بے اختیار میرا ہاتھ اس کی خوبصورت گانڈ کی طرف رینگ گیا ۔۔ لیکن ۔۔۔ اس سے پہلے میں نےکن اکھیوں سےایک نظر ارصلا پر ڈالی تو وہ زمین پر اکڑوں بیٹھا پانی پی رہا تھا ۔۔۔ یہ دیکھ کر میں غیر محسوس طریقے سے کھسکتاہوا کولر کی اس طرف ہو گیا کہ جہاں پر ارمینہ اپنی بڑی سی گانڈ نکالے آلو چھیل رہی تھی ۔۔۔ اب میں نے ایک نظر ارصلا کی طرف دیکھا تووہ تقریباً پانی پی چکا تھا اور اب دوسرا گلاس بھرنے کی تیاری کر رہا تھا ۔۔۔ سو میں اس کی طرف سے تھوڑا مطمئن ہو گیا اور پھر میں نے اپنا بائیاں ہاتھ آگے کیا ۔۔۔ اور ارصلا کی طرف دیکھتے ہوئےبڑی ہی آہستگی سے اپنے ہاتھ کو ارمینہ کی گانڈ کی طرف لے گیا اور بڑی آہستگی سے اپنے ہاتھ کو وہاں رکھ دیا ۔۔آہ۔ہ۔ہ۔ہ ۔۔ ارمینہ کی گانڈ بڑی ہی نرم تھی ایسے جیسے روئی کا کوئی گال ہو ۔۔چنانچہ اس کی گانڈ پر ہاتھ لگاتے ہی ۔ میں تو مست ہو گیا اور میرا سارا بدن مستی میں ڈوب گیا ۔اور ارمینہ کی گانڈ پر مساج کرنے لگا ۔۔گانڈ پر مساج کرتے کرتے ۔ میں نے ارصلا کی طرف دیکھتے ہوئے بڑی ہی احتیاط سے اپنی دو انگلیاں ارمینہ کی گانڈ کے چھید میں دے دیں ۔۔۔ اُف۔ف۔ف۔ف جیسے ہی میں نے انگلیاں اس کی گانڈ کے چھید میں ڈالیں تو ایسا لگا کہ جیسے اس نے اپنی ٹانگیں تھوڑی سی اور کھول لیں ہوں ۔۔۔ اور میں نے اپنی انگلیاں اس کی گانڈ کے چھید کے آس پاس پھیرنی شروع کر دیں ۔۔۔ اس کا چھید نرم اور اندر سے بہت گرم تھا ۔۔۔ اتنا گرم کہ اس کی گرمی میرے لن تک آ گئی تھی اور میرا لن کھڑا ہو کر بار بار جھٹکے کھانے لگا ۔۔۔ ادھر میںاپنی انگلیوں کی مدد سے بڑی ہی نرمی اور ملائمت سے اس کی گانڈ کے چھید کے بیچ مساج کر رہا تھا ۔۔۔اور میرا سارا وجود ۔۔۔ ۔ ۔ اس کی چھید کی گرمی سے مزید گرم ہو رہا تھا ۔۔اور ساتھ ساتھ میرا ۔ لن بھی جھٹکے کھا رہا تھا لیکن میری ساری توجہ لن سے زیادہ اس کی نرم گانڈ کی طر ف تھی ۔۔۔ اس وقت تک ارصلا پانی پی کر جا چکا تھا اور مجھے پانی پینے کا کوئی ہوش نہ تھا بلکہ میں تو مست ہو کر مسلسل گانڈ کو سہلا رہا تھا ۔۔ اچانک مجھے پتہ نہیں کیا ہوا کہ میں نے جوش میں آ کر اپنی ایک انگلی اس کے چھید کے عین درمیان اس کی گانڈ کے سوراخ پر رکھی اور انگلی کو اس سوراخ کے اندر گھسانے کی کوشش کرنے لگا۔ ۔ ۔ ۔ تب اچانک وہ پیچھے کی طرف مڑی اور ۔۔۔۔۔ میری طرف دیکھ بولی ۔۔۔ آں آں ۔۔۔سوری دوست رانگ نمبر ۔۔ ۔۔۔۔ اوہ ۔۔۔ اوہ ۔۔ میں جس کو ارمینہ سمجھ کے چھیڑخانی رہا تھا ۔۔ وہ ۔ ۔ ۔ وہ ۔۔ وہ ۔ ۔ تو ۔ ارمینہ نہیں بلکہ مرینہ تھی ۔۔۔ارمینہ کی جگہ مرینہ کو دیکھ کرمجھے بڑا سخت شاک لگا اور میرا تو رنگ ہی اُڑ گیا اور اس سے پہلے کہ میں کوئی بات اپنی صفائی میں کہتا وہ مجھ سے بنا کوئی بات کئے کچن سے باہر نکل گئی ۔ ۔ ۔ ۔ اور میں ہکا بکا ہو کر اسے جاتا دیکھتا رہا ۔۔۔ اور پھر جیسے ہی و ہ باہر نکلی کچھ ہی دیر بعد میں بھی وہاں سے تقریباً بھاگتا ہو ا وہاں سے نکل گیا اور گھر آ کر دم لیا ۔۔۔۔
گھر آ کر میں اپنے کمرے میں لیٹ گیا اور اس واقعہ کے بارے میں سوچنے لگا ۔۔۔۔ جیسے جیسے میں اس واقعہ پر غور کرتا گیا مجھ پر ایک عجیب سا ۔۔ ۔ ۔ انکشاف ۔۔۔۔۔۔ ہوتا گیا ۔اور اچانک میرے دماغ میں ایک بات ایسی بات آئی کہ میں ۔۔۔ جو لیٹا ہوا تھا ایک دم اُٹھ کر بیٹھ گیا اور ۔۔۔ اسی بات پر غور کرتا گیا ۔۔۔ وہ بات جو میرے دماغ میں آئی تھی وہ یہ تھی کہ ارمینہ کی جگہ وہاں مرینہ وہاں کیوں تھی؟ کیونکہ میں نے اس کو کچن میں کم کم ہی دیکھا تھا اور خاص طور پر جب ہم سکول سے واپس آتے تھے تو اس وقت تو ارمینہ ہی ہانڈی روٹی کرتی تھی ۔۔۔ آج مرینہ کیوں ؟ دوسری بات یہ کہ میں نے اس کی گانڈ پر کافی دیر تک مساج کیا تھا ۔۔۔ وہ اس وقت کیوں نہیں بولی تھی ؟ وہ چاہتی تو جب میں نے پہلے دفعہ اس کی گانڈ پر ہاتھ رکھا تو ۔۔۔۔۔ تو۔۔ اس کو اسی وقت مجھے منع کر سکتی تھی ۔۔لیکن اس نے مجھے منع نہیں کیا ۔۔۔ کیوں نہیں کیا ؟ اور کیوں اس نے میری انگلیوں کو اپنی موسٹ پرائیوٹ جگہ (گانڈ کا سوراخ ) تک رسائی دی ؟ اور جب میں نے انگلی اس کے سوراخ میں دینا چاہی تو اس وقت ہی ۔۔ وہ کیوں بولی ؟ اس سے پہلے کیوں نہ بولی ۔؟؟؟؟؟؟۔۔ اور سب سے اہم بات یہ کہ ۔ ۔ ۔ ۔ اس نے کہا بھی تو صرف اتنا ۔۔۔ کہ ۔ ۔ آں آں ۔۔۔ رانگ نمبر ۔۔۔۔۔ مجھے اس گستاخی پر ذرا بھی نہیں ڈانٹا ۔۔۔ اس کی کیا وجہ ہے ؟ جیسے جیسے میں اس کی کیا وجہ ہے پر غور کرتا گیا مجھ پر انکشاف ہو تا گیا ۔۔۔ کہ اس کا مطلب ہے کہ۔۔۔ ہے کہ ۔۔۔۔۔مرینہ بھی ۔۔۔۔ یس س۔س۔س سس ۔۔۔ اور پھر میں نے دل ہی دل میں اس بارے میں ایک فیصلہ کیا اور مطمئن ہو کر اپنے دوستوں سے ملنے باہر نکل گیا ۔۔۔۔
تقریباً 10 یا ساڑھے دس کا وقت کا تھا جب ارصلا ہمارے گھر آیا تواس وقت میں دینا کا سب سے بور کام یعنی کہ ہوم ورک کر رہا تھا اس نے آتے ساتھ ہی مجھے کہا کہ بھائی تم کو ابھی اور اسی ہمارے گھر میں بلایا جا رہا ہے اس پر میں نے اس سے پوچھا کہ خیریت تو ہے نا ؟ تو وہ کہنے لگا بھائ جان خیریت نہیں ہے تو آپ کو بلانے آیا ہوں نا ۔۔۔ اس کی بات سُن کر میں نے ہوم ورک چھوڑا اور امی کو بتا کر اس کے ساتھ چلا گیا ۔۔جب میں اس کے گھر پہنچا تو برآمدے میں مرینہ اور ماسی بے چینی سے ٹہل رہیں تھیں۔ میرے جاتے ہی ماسی تیزی سے بولی بچہ جلدی سے بائیک اسٹارٹ کرو تمھارے ساتھ مرینہ نے ایک بڑے ضروری کام سے جانا ہے میں نے سوالیہ نظروں سے مرینہ کی طرف دیکھا تو وہ بھی جلدی سے بولی تم بائیک سٹارٹ کرو میں تم کو راستے میں بتاؤں گی اس کی بات سُن کر میں چُپ چاپ بائیک کر طرف گیا اور اور اسے سٹارٹ کر کے مرینہ کے پاس لے گیا اس نے جلدی سے جمپ ماری اور میرے پیچھے بیٹھ کر بولی ۔۔۔ ذرا جلدی چلو ۔۔۔ تو میں نے کہا ۔۔۔ جانا کہا ں ہے تو وہ کہنے لگی سی ایم ایچ جانا ہے اور پھر مجھ سےبولی ۔۔۔ تم نے سی ایم ایچ ہسپتال دیکھا ہے نا ؟ تو میں نے اثبات میں سر ہلا کر کہا کہ جی دیکھ ہے اور ۔۔۔پھر ہمارا بائیک CMH کی طرف چل پڑا ۔۔راستے میں میرے پوچھے پر مرینہ نے بتلایا کہ اس کے ایک سسرالی رشتے داروں میں سے ایک بابا جی وہاں پر داخل ہیں اور ان بابا جی کی حالت خراب ہونے کی وجہ سے ڈاکٹروں نے کل ایمر جنسی میں ان کا آپریشن تجویز کیا ہے اور آپریشن کرنے کے لیئے جو پیسے ڈیمانڈ کئے گئے ہیں اس وقت اُتنی رقم ان کے پاس موجود نہ ہے اور رقم انہوں نے کل صبع ہر صورت میں جمع کرانی ہے اور وقت ہم لوگ وہ رقم ان لوگوں کو دینے جا رہےہیں ۔۔۔ اور چونکہ مرینہ کے ابا نامعلوم وجوہات کی وجہ سے وہاں جانا نہ چاہتے تھے اس لئے ۔ اس لیئے میری خدمات حاصل کی گئیں ہیں ۔باتیں کرتے کرتے ۔جب میں ہم لوگ لیاقت باغ پہنچے تو اچانک سڑک کراس کرتے ہوئے ایک بندہ عین بائیک کے سامنے آ گیا جس کی وجہ سے مجھےایمر جنسی میں بریک لگانا پڑ گئی ۔۔۔۔۔ اور جیسے ہی میں نے بریک لگائی ۔۔۔۔ مرینہ ۔۔۔۔ پھسل کر میرے ساتھ لگ گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہر چند کہ اس نے ایک بڑی سی چادر لی ہوئی تھی لیکن اس کے باوجود بھی ۔۔۔ میں نے اپنے دائیں کندھے پر اس کے نرم ممے کا لمس محسوس کیا ۔ ۔۔ اس کے نرم ممے کا لمس محسوس کرتے ہی مجھے دوپہر والا واقعہ یاد آ گیا اور ۔۔۔۔ اور پھر ۔۔۔۔ اس کی گانڈ کی نرمی ۔۔۔ بھی یاد آ گئی ۔۔۔۔ اور گانڈ کا یاد آنا تھا کہ میرا لن کھڑا ہو گیا اور میرے سارے وجود میں یک مُشت شہوت سی بھرنے لگی ۔۔۔ تب مجھے اپنا دوپہر والا فیصلہ یاد آگیا اور اس کے ساتھ ہی میں نے اس سیکسی لیڈی پر ٹرائی مارنے کا فیصلہ کر لیا ۔۔
بریک کی وجہ سے مرینہ نے بس تھوڑی ہی دیر تک اپنے ایک ممے کو میرے دائیں کندھےکے ساتھ لگایا تھا ۔۔۔ اور پھر اس کے بعد وہ نارمل ہو کر دوبارہ اپنی سابقہ پوزیشن پر واپس چلی گئی تھی ۔۔۔ لیکن اب میں کسی موقعہ کی تاڑ میں تھا کہ کب میں اس کے ممے کو دوبارہ اپنے ساتھ مس کروں ۔۔۔ اور پھر جلد ہی وہ موقعہ بھی آ گیا ۔۔۔ جیسے ہی ہماری بائیک موتی محل کے اشارے کے قریب پہنچی تو اچانک اشارہ بند ہو گیا جسے دیکھ کر میرے دل کی مراد بر آئی ۔۔۔۔۔ چانچہ اشارہ کو بند دیکھ کر میں نے ایک ذور دار بریک لگائی اور ۔۔۔۔۔۔۔ اس کے ساتھ ہی مرینہ ایک دفعہ پھر موٹر سائیکل پر پھسلتی ہوئی میرے ساتھ آ کر لگ گئی ۔۔۔۔ اور اس دفعہ پھر میرے سارے وجود نے اس کے بڑے اور نرم ممے کا لمس اپنے کاندھے پر محسوس کیا ۔۔۔واؤؤؤؤؤؤؤؤ۔۔۔۔ اور۔۔ایک دفعہ پھر سُرور کی ایک تیز لہر میرے سارے جسم میں دوڑ گئی اور ۔ میں مزے کے ساتویں آسمان پر پہنچ گیا ۔۔۔ اس کے ساتھ ہی میں نےبڑے محتاط انداز میں موٹر سائیکل کے بیک مرمر سے اس ۔۔۔۔ کے تاثرات کو نوٹ کیا ۔۔۔ لیکن اس کا چہرہ بلکل نارمل تھا ۔پھر میں نےچوری چوری موٹر سائیکل کا بیک شیشہ اس طرح سیٹ کیا کہ مجھے اس چہرہ نظر آتا رہے ۔۔۔ یہ اس لئے کہ میں اس کے تاثرات کو بھی نوٹ کرنا چاہتا تھا ۔۔ اس لیئے میں مطمئن ہو گیا اور اشارہ کھلنے پر دوبارہ چل پڑا ۔۔۔اشارے سے تھوڑی ہی دور جا کر میں نے ایک دفعہ پھر بریک لگائی اور وہ پھر سے میرے ساتھ جُڑ گئی اور میں اس کے نرم مموں کا لُطف لینے لگا ۔۔۔۔ اس کام میں مجھے اتنا مزہ آیا کہ اس کے بعد میں نے تھوڑے تھوڑے وقفے سے تین چار دفعہ اور بریک لگادی جب آخری دفعہ بریک لگی تو پیچھے سے اچانک مرینہ پھٹ پڑی اور وہ بڑے کرخت لہجے میں بولی ۔۔سالے ۔ اگر اب تم نے بریک لگائی نا ۔۔۔۔تو میں پیچھے سے تمہیں ایک ایسا جھانپڑ دوں گی کہ تم کو نانی یاد آ جائے گی ۔۔۔ پھر زہر خند لہجے میں بولی ۔۔۔ تم مجھے جانتے نہیں۔۔۔۔۔ ایک منٹ میں تمھاری یہ ساری شوخیاں نکال دوں گی ۔۔۔ اس نے یہ دھمکی اتنے کھردرے لہجے میں دی تھی کہ جسے سُن کر میں سہم گیا اور میرے ٹٹے ہوائی ہو گئے اور میں خود کو سنے لگا کہ۔۔۔۔ اتنی بھی کیا جلدی تھی ۔۔۔۔ بہن چود تھوڑی ٹھنڈی کر کے نہیں کھا سکتا تھا ۔؟؟ ۔۔ اور پھر میں دل ہی دل میں خود کو گالیاں دیتا بظاہر چپ چاپ ۔۔ بائیک چلانے لگا ۔۔۔۔ میں اپنے آپ کو مسلسل کوسنے دیتا ہوا چل رہا تھا میرا خیال ہے اس نے یہ بات محسوس کر لی تھی کہ وہ مجھے کچھ ذیادہ ہی ڈانٹ گئی تھی اس لئے اس نے مجھ سے بڑے نرم لہجے میں پوچھا ۔۔ کیا بات ہے تم ناراض ہو گئے ہو ؟ تو میں نے جواب دیا نہیں باجی ۔۔۔ پھر دوسری ہی سانس میں بولا سوری باجی ۔۔۔ تو وہ کہنے لگی سوری کی بات نہیں ۔۔۔ تم کو پتہ ہے کہ تم کو یہ ڈانٹ کیوں پڑی ہے ؟ تو میں نے شرم کے مارے اسے کوئی جواب نہ دیا کچھ دیر تک وہ میرے جواب کا انتظار کرتی رہی ۔ ۔ ۔ ۔۔ پھر ہولے سے بولی ۔۔۔ میں نے تم کو اس لیئے ڈانٹا تھا کہ تمھارے بار بار بریک لگانے کی وجہ سے ایک کار والے نے مسلسل ہمارا پیچھا کرنا شروع کر دیا تھا تو میں نے کہا لیکن باجی میں نے تو نہیں دیکھا تو وہ بولی ۔۔۔ یہی تو بات ہےایسی حرکات فرماتے ہوئے اگر تم ادھر ادھر بھی دیکھنے کی زحمت گوارہ کر لیتے ..... تو مجھے تمہیں ڈانٹنے کی نوبت ہر گز نہ آتی ۔۔۔ تو میں نے شرمندہ سا ہو کر کہا آئی ایم سوری باجی ۔۔۔اور پھر میں بڑی شرافت سے بائیک چلانے لگا ۔۔کچھ دور جا کر ۔۔۔ جب بائیک .. مال روڈ سے ہوتا ہوا ایک ویران سی جگہ پر پہنچا تو مرینہ ۔خود ہی تھوڑا آگے ہو کر بولی ۔۔ کیا بات ہے تم کچھ اَپ سیٹ سے لگتے ہو ؟؟ ۔۔۔۔ اور پھر ۔۔ کھسک کر وہ میرے ساتھ لگ گئی اور اپنا جسم میری بیک کے ساتھ چپکا کر بولی ۔۔۔۔۔ اب خوش ہو !!!۔۔۔ مرینہ کے یوں میرے ساتھ لگنے سے میری تو گویا لاٹری ہی نکل آئی تھی ۔۔۔ چنانچہ میں نے شیشے میں اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔ باجی .... تھوڑا اور ساتھ لگو نا ۔۔۔ میری بات سن کر اس نے میرے سینے پر ہاتھ رکھا اوربلکل میرے ساتھ چپک گئی ۔۔۔۔ اور میں اس کے نرم جسم کا مزہ لینے لگا ۔۔۔ پھر مجھے دوپہر والا واقعہ یاد آ گیا اور میں نے مرینہ سے کہا ۔۔باجی ۔۔۔ آپ کو بُرا تو نہیں لگا تھا تو وہ کچھ نہ سمجھتے ہوئے بولی ۔۔ کیا برا نہیں لگا؟ تو میں نے مختصراً دوپہر والا واقعہ دھرا دیا سن کر ۔ بولی ۔۔ ارے نہیں وہ تو میں بس ویسے ہی تم سے شرارت کر رہی تھی ۔۔۔ پھر وہ بڑے معنی خیز لہجے میں بولی ۔۔۔ ویسے تمھاری انگلیاں بڑی مہارت سے چلتی ہیں ۔جسے سُن کر میں خوش بھی ہوا ۔۔ اور تھوڑا سا ۔۔ ۔ ۔ شرمندہ بھی ہو گیا ۔۔۔ پھر میں نے بیک شیشے سے اس کی طرف دیکھا تو وہ مجھے ہی دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔ مجھے اپنی طرف دیکھتے ہوئے دیکھ کر کہنے لگی ۔۔۔۔ ۔۔آج کل تمھاری ارمینہ سے دوستی کیسی جا رہی ہے ؟ تو میں نے بڑی افسردگی سے جواب دیا ۔۔کیا بتاؤں باجی ۔۔ جب سے آپ آئی ہو وہ ۔۔۔ وہ تو بلکل بھی نہیں لفٹ کرا رہی ہے ۔۔ ۔ ۔ ۔سُن کر وہ کہنے لگی ہاں مجھے خوب اندازہ ہے ۔۔۔ وہ بچپن سے ہی بڑی ۔۔۔ محتاط لڑکی ہے ۔۔۔پھر اپنا ایک بریسٹ میرے کندھے سے رگڑتے ہوئے بولی ۔۔۔۔۔ پریشان نہ ہو ۔۔۔ جب میں یہاں سے چلی جاؤں گی تو وہ تم کو خوب عیش کرائے گی ۔۔۔ اس کو یوں میرے ساتھ بریسٹ رگڑنے سے مجھے پھر سے ہوشیاری آ گئی اور میں نے کچھ دیر بعد اس کا ہاتھ جو میرے سینے پر ٹکا تھا ۔۔ کو پکڑ کر اپنی گود میں رکھ دیا ۔۔ فوراً ہی اس نے اپنا ہاتھ وہاں سے ہٹا لیا ۔لیکن بولی کچھ نہیں ۔۔ کچھ دیر بعد میں نے پھر وہی حرکت کی۔۔ اور جیسے ہی اس کا ہاتھ پکڑ ا اس نے دوبارہ تھوڑا سختی سے اپنا ہاتھ وہاں سے ہٹا لیا ۔۔۔۔ . تو میں نے اس سے کہا باجی پلیز۔۔۔!!!!۔۔۔ تو وہ بولی ۔۔۔۔ تم باز نہیں آؤ گے تو میں نے کہا اس میں ہرج ہی کیا ہے پلیز میری خاطر۔۔۔۔ اپنا ہاتھ رکھ لیں نا ۔۔۔۔ تھوڑے سے نخرے کرنے کے بعد اس نے اپنا ہاتھ میری گود میں رکھ دیا جہاں پر ایک تنا ہوا لن اس کا منتظر تھا ۔۔۔
Contact Me For Secret Relation
Email: farhanrajpoot129@gmail.com
Mobile Number: +923174537033
Whatsapp: +923030275325
No comments:
Post a Comment