Breaking

اُستانی جی پارٹ 7



      میری التجا  سُن کر اس نے ہاتھ تو  رکھ  دیا  لیکن  ظالم  نے   اپنا  ہاتھ   ایسے  اینگل  سے میری گود  میں رکھا  کہ  جہاں پر  صرف  ہلکا  سا   میرا ٹوپا   اس کے ساتھ مَس ہو  رہا  تھا ۔۔ جس کی وجہ سے میں بے چین سا ہو گیا کیونکہ  ۔مجھے اس بات کی شدید حاجت ہو رہی تھی کہ اب وہ میرے لن کو اپنے  ہاتھ میں پکڑے ۔ادھر  میری حاجت شدید سے شدید تر ہو جا رہی تھی  ۔۔۔۔    اور وہ ۔۔ انجان بنی بیٹھی تھی۔پھر جب بات میرے بس سے باہر ہو گئی  تو میں  نے اس کا ہاتھ پکڑا  اور اپنے لن پر رکھ  دیا     اور اس سے  بولا  ۔۔۔ اس کو پکڑیں نا پلیز!!!!!!!۔۔ میری درخوست سُن کر اس نے ایک لمحے کے لئے میرے  لن کو  اپنے    ہاتھ میں پکڑا ۔اور ۔ پھر ۔دوسرے ہی  لمحے ۔۔ اپنے ہاتھ کو وہاں سے  ہٹا  لیا ۔۔۔ اور اب بات میری برداشت سے باہر ہو گئی تھی کیونکہ میرے لن کو اس بات کی شدید طلب ہو رہی تھی کہ وہ اس کو پکڑ کر دبائے ۔۔۔ چنانچہ میں نے اس کے  ہاتھ کو   دوبارہ پکڑا  اور  زبردستی اپنے لن پر رکھ کر بولا ۔۔۔ اسے تھوڑا سا  دبا  دیں ۔پلیززززز۔۔۔ تو  وہ تھوڑا    شرارت  سے بولی میں کیوں دباؤں ؟؟؟؟؟  ۔۔۔ تو میں نے دوبارہ  کہا ۔۔۔مجھے نہیں  معلوم   ۔۔۔۔آپ بس  سے ہاتھ میں پکڑ کر  دبا دیں ۔۔۔۔۔پلیز۔زززززززز ۔ اور اپنی بات پر ذور  دیتے ہوئے بولا ۔۔۔۔۔۔اس کو  تھوڑا سا دبا  دیں نا ۔۔۔ میری فریاد سُن کر بولی ۔۔۔ ایک تو تمھاری فرمائشیں ہی نہیں پوری ہوتیں اور  اس کے ساتھ ہی  مرینہ نے اپنی مُٹھی میں میرا لن پکڑ لیا۔۔۔۔ ۔۔۔۔ جیسے  ہی اس کا ہاتھ میرے لن پر  پڑا ۔۔۔ وہ ایک دم چونک سی گئی ۔۔۔۔ اور پھر اس نے ۔۔اپنی انگلیوں کی مدد سے میرےلن کا ناپ تول کیا  ۔۔۔۔ اور  وہ    نہ  رہ سکی ۔۔۔۔۔ بڑے ہی ستائشی لہجے میں  بولی ۔۔۔۔ کمال ہے ۔۔چھوٹے ۔ تمھارا شیر تو ۔۔۔بہت بڑا ہے ۔۔   کسی بڑے آدمی سے بھی بڑا ہے  ......اور اس سے قبل کہ میں اس کو کوئی جواب دیتا  اس نے  میری گود میں رکھا ہوا  اپنا    ہاتھ  وہاں  سے   ہٹایا  اور بولی  وہ  سامنے فروٹ  والی  ریڑھی  کے پاس  با ئیک  روک  لو  اور  میں نے  وہاں  بائیک  روکی تو اس نے کچھ پھل وغیرہ مریض کی تیمار داری کے لیئے ۔۔۔  اور ہم ہسپتال کی جانب روانہ ہو گئے جو اب تھوڑے ہی فاصلے پر رہ گیا تھا ۔۔ راستے میں،    میں نے مرینہ سے پوچھا  کہ باجی یہ ہسپتال میں آپ کا کون داخل ہے تو   وہ  کہنے لگی ۔ ۔  ۔۔۔ میرا  تایا سسر ۔۔۔ اس کی بات سُن کر میں تو حیران ہی رہ گیا اور اس سے بولا کہ ۔۔ اتنا قریبی رشتہ ......بھی پھر بھی آپ کے والدین میں نے کوئی بھی مریض کی عیادت کے لیئے نہیں آیا تو  میری بات سُن کر وہ ایک دم اداس سی ہو گئی اور کھو ئے ہوئے لہجے میں  بولی ۔۔۔ وہ آئیں گے بھی نہیں۔۔۔۔۔ تو میں نے ان سے پوچھ لیا اس  کی کیا  وجہ ہے  تو  وہ  بولی ۔۔۔ہے ایک وجہ ۔۔جو میں تمہیں ۔ پھر کبھی  بتاؤں گی ۔۔۔پھر وہ  موضوع تبدیل کرنے کی خاطر مجھ سے کہنے لگی کہ ۔۔۔ تم کو معلوم ہے کہ میں  تم اچھی  بائیک چلا سکتی ہوں ؟ تومیں نے حیران ہو کر اس سے پوچھا ۔۔ کیا سچ باجی آپ بھی موٹر سائیکل چلا لیتی ہو تو  وہ چمک کر بولی   ہاں۔۔ ماڑا ....موٹر سائیکل چلانا کون سا مشکل کام ہے ۔۔۔ پھر میں نے ا س سے  پوچھا کہ.... باجی  آپ  نے بائیک چلانا کہاں سے سیکھا ...؟؟؟؟؟  تو وہ  کہنے لگی ..  جب ہم حیدر آباد  رہتے تھے تب سے میں نے اسے  چلانا  سیکھا  اور پھر کہنے لگی  مانو گے بائیک چلانے کے  ایک ہفتے کے بعد ہی  میں اس  میں کافی  ماہر ہو چکی تھی ...تو میں نے  حیران ہو کر پوچھا ۔۔ بس ایک ہفتے بعد۔۔؟؟؟؟؟   پر وہ کیسے؟؟  تو  وہ کہنے لگی وہ ا یسے  میری جان کہ اس  ایک  ہفتے  میں  نے  دن  رات  بس بائیک  ہی چلائی تھی  ۔۔۔ اتنے میں  CMH کا گیٹ آ گیا جسے دیکھ کر وہ ایک  دم پیچھے ہو کر نارمل انداز میں بیٹھ گئی اور میں نے پارکنگ میں بائیک روکی تو وہ  مجھ سے کہنے لگی تم یہاں رُکو میں بس ابھی آئی ۔۔۔ اور پھر وہ اس نے مجھ سے فروٹ کا  شاپر  لیا اور تیز تیز قدموں سے چلتی ہوئی ہسپتال کے اندر داخل ہو گئی ...............




    وہاں کھڑے کھڑے مجھے کافی  دیر ہو گئی تھی جب  ایک چھوٹا  سا لڑکا  ہاتھ  میں جوس کا  ڈبہ لیئے  میرے پاس آیا  اور آکر پوچھنے لگا  کہ آپ کا  نام  شاہ  ہے ؟  تو میں نے کہا  جی میں ہی  شاہ  ہوں ۔۔۔ میری بات سُن کر اس نے  جوس کا ڈبہ میرے ہاتھ میں پکڑایا  اور بولا ... یہ مرینہ آنٹی نے بھیجا ہے اور وہ کہہ رہی ہیں کہ آپ اندر آجاؤ کیونکہ   ان کو تھوڑی  اور دیر ہو سکتی ہے  ۔لیکن میں نے جانے سے انکار کر دیا اور کہا کہ ان سے کہیں کہ میں یہاں ہی ٹھیک ہوں  ۔۔ میری اس بات پر ا س نے واجبی سا اصرار کیا اور  پھر۔۔ وہ   یہ کہتا  ہوا  چلا گیا کہ جیسے آپ کی مرضی ۔۔۔۔اس کے جانے کے بعد  میں نے جوس کے کے ڈبے کے ساتھ  چپکا  سٹرا  الگ کیا  اور پھر  مزے سے جوس  پینے  لگا ۔۔۔ کوئی  ایک گھنٹہ کے بعد مجھے   مرینہ پارکنک کی طرف آتی دکھائی  دی جسے دیکھ کر میری جان میں جان آئی اور اس سے  پہلے کہ میں کچھ کہتا اس نے  خود ہی اپنے دیر سے آنے کی معذرت کرتے ہوئے بتلایا کہ اس وہ تو جلد آنا  چاہ رہی تھی لیکن اس کے   تائی ساس  اور  اس کی فیملی اس کو نہیں آنے دے رہی تھی -پھر  وہ  مجھ میرے پیچھے  بیٹھ گئی اور ہم گھر کی طرف چل پڑے ۔۔ ۔ اس وقت آدھی رات کا وقت تھا اور آس پاس کی سڑکیں کافی سنسان تھیں چنانچہ تھوڑا دور جا کر میں نے مرینہ سے کہا باجی آپ بائیک چلاؤ گی ؟ تووہ  ادھر ادھر دیکھتے ہوئے بولی ۔۔۔ ہاں ضرور ۔۔ اور میں نے ایک نسبتاً اندھیری جگہ پر پہنچ کر اپنی  بائیک  روک  لی  اور  اسکے  ساتھ  ہی  وہ    بائیک    نیچے   اتری  اورآگے آکر  بیٹھ گئی ۔جبکہ میں اس کے پیچھے بیٹھ گیا ۔اور اس نے موٹر سائکل چلانا  شروع کر  دیا ۔۔  ۔ اس کے  چلانے  کا ا نداز  بتا  رہا  تھا کہ وہ ۔۔۔ واقعہ ہی  اچھا  خاصا  بائیک  چلا  لیتی  ہے ۔۔۔  کچھ  دور جا  کر  میں  کھسک کر اس کے پیچھے آ گیا ۔۔۔ اور پھرمیں نے   اس  کے  نرم اور گداز جسم کے ساتھ اپنا جسم  چپکا  لیا ۔۔۔ اس نے بس ایک لحظہ کے لیئے  بیک مرمر میں میری طرف  دیکھا ۔۔۔ اور پھر  سامنے کالی سڑک پر دیکھنے لگی ۔۔۔۔ اس کے ساتھ  چپکنے سے  میری فرنٹ  تھائیز اس کی بیک سائیڈ سے ٹچ  ہوئی ۔۔۔ اُف فف ۔۔۔ اس کی  نرم  اور موٹی گانڈ کا لمس  پاتے  ہی  میرا  سارا جسم گرم ہو  گیا  اور لن سر اُٹھانے  لگا ۔۔۔۔۔۔ اور میرے ہاتھ جو کہ بائیک کی پشت پر تھے آگے آ گئے اور میں نے اس کے پیٹ کے اوپر ہاتھ رکھ لیا اور ۔۔۔۔ سفر جاری ہو گیا ۔۔۔

کچھ دیر چلنے کے بعد وہ  شیشے میں سے دیکھتے ہوئے مجھ سے کہنے لگی ۔۔۔میں کیسا بائیک چلا رہی ہوں ؟؟ ۔۔۔ مجھے اس کی بائیک  چلانے کی ہوش ہی کہاں تھی میں تو اس کی نرم گانڈ کی نرمی میں مست  تھا ۔۔۔ لیکن  اس کے سوال کا جواب بھی دینا ضروری تھا  اس لیئے  میں نے اس کا کو  ذور سے پکڑ کر دباتے ہوئے کہا۔۔۔۔باجی آپ بڑا ۔۔ ذبر دست  بائیک چلا  رہی  ہیں  تو وہ بولی  مسکہ نہیں  لگاؤ  سچ  سچ  بتاؤ  نا ۔۔۔۔ تو میں نے کہا رئیلی میں سچ ہی کہہ رہا ہوں میری بات سن کر اس نے ایک ادا سے سر جھٹکا اور موٹر سائیکل کی ریس بڑھا دی ۔۔۔۔ 

اور میں جس کا  اب تک سارا دھیان اس کی گانڈ پر تھا اچانک اس کے بالوں کی طرف دھیان چلا گیا ۔۔۔ کیا لمبے اور سلکی سلکی  بال  تھے ۔۔۔ اور بالوں سے زیادہ اس کی گردن کتنی گوری اور کتنی دلکش تھی ۔۔ چنانچہ میں  اپنا منہ اس کی گردن پر لے گیا اور دونوں ہونٹ جوڑ کر اس کی خوبصورت گردن کو چوم لیا ۔۔میری اس حرکت سے ۔ موٹر سائیکل چلتے چلتے تھوڑا   سا   ڈولا  اور  پھر اس کے منہ سے ایک لذت آمیز سسکی نکلی ۔۔۔ سس س۔س۔س۔س ۔۔اور وہ  شیشے میں میری طرف دیکھ کر دبے دبے لفظوں میں بولی ۔۔۔ کیا کر رہے ہو؟ تو میں نے جواب  دیا  میں آپ کو پیار کر رہا ہوں ۔۔۔ اور اس کے ساتھ ہی دوبارہ اپنے ہونٹ اس کی گردن پر رکھ دیئے اور تین چار دفعہ لگا تار  اس کی گردن کو چوم لیا ۔۔۔ اب کی بار  پہلے کی نسبت بائیک ذرا کم ڈولا ۔۔۔ کہ شاید وہ اس کے لئےپہلے سے تیار تھی اور اسکے ساتھ ہی اس کے منہ سے لذت بھری سسکیاں نکلنا شروع ہو گئیں ۔۔۔ آہ ۔ہ ۔۔ سس ۔س۔۔س۔س  اور وہ پھر ایک گہری سانس لیکر کر بولی ۔۔۔ مت کرو پلیز ۔۔۔لیکن میں اس کی پلیز ۔۔ کے سننے کے موڈ میں ہر گز نہ تھا چنانچہ اس دفعہ میں نے اس  کی چادر تھوڑی سی  پیچھے کی  اور اس  دایاں کاندھا  ننگا کر کے اس پر ایک شاندار کس  کردی ۔۔۔ میرے ہونٹوں کا لمس پاتے ہی وہ پھر سے بے چین ہو گئی اور ۔۔۔ سسکیاں بھرنے لگی ۔۔۔۔ اسی دوران میرا لن بھی شہوت میں آ چکا تھا  اور وہ ۔۔بری طرح سے اس کی گانڈ سے ٹچ ہو  رہا  تھا ۔۔۔ چنانچہ کچھ دیر بعد اس نے اپنا  ایک ہاتھ پیچھے کیا اور لن پر رکھ  کر بولی ۔۔۔ تمھارا یہ مجھے بہت   چُبھ رہا ہے ۔۔۔ تو میں نے لن کو ہاتھ میں پکڑا ۔۔۔اور اس کی  موٹی گانڈ کے کریک پر رگڑتے ہوئے بولا ۔۔۔۔۔ تو کچھ ایسا کریں نہ کہ یہ آپ کو نہ چھبے۔۔۔  تو وہ  کہنے لگی  بھلا  میں کیا  کر سکتی ہوں  ؟ ۔۔۔تو  اسی  دوران  میرے  ذہن میں ایک  آئیڈیا  آ  گیا  تھا ۔۔ اور میں نے مرینہ سے کہا کہاگر  آپ اپنی سیٹ سے تھوڑا اوپر اٹھو  گی تو اس  کا  بندوبست  ہو سکتا  ہے ۔۔۔ وہ میری بات کا مطلب سمجھ گئی  اور پھر وہ موٹر سائیکل  پر تقریباًکھڑی ہوگئیں اور بولی  یہ لو ۔۔۔۔۔سو میں نے جلدی سے اسکی اور اپنی  قمیض کو تھوڑا سا  سائیڈ پر کیا  اور لن سیٹ پر رکھ کر ۔۔۔اس  کو نیچے  بیٹھنے  کا  اشارہ کیا ۔ ۔ ۔میرا اشارہ پا کر  ۔ وہ دھیرے دھیرے نیچے بیٹھنے لگی اور میں اس کے بیٹھنے کے انداز کو دیکھ کر دیکھتے ہوئےاپنا  لن ان کی گانڈ کے کریک کے بیچ میں سیٹ کرنے لگا ۔۔۔فائنلی  وہ بائیک کی  سیٹ پر بیٹھ گئی اور  میرا ۔۔۔لن عین اسکی  کی گانڈ کے کریک  میں دھنس گیا   ۔۔۔ یعنی کہ اس کی  دونوں  پھاڑیوں کے بیچ  میں آ گیا ۔۔۔  ۔چونکہ میرا لن کافی موٹا اور لمبا  تھا اور اس حساب سے اس کی گانڈ کا کریک کافی تنگ تھا اس لئے لن صاحب اس کے کریک میں پھنسا  ہوا  تھا   اور  دوسری بات یہ کہ لمبا ہونے کی وجہ سے لن کا اگلا سرا۔۔۔۔ مرینہ کی گرم چوت کے نازک  لبوں کو بھی  ٹچ کر رہا تھا ۔۔ میرے تو  مزے ہو گئے تھے کہ ۔ لن کے آس پاس اس کی گانڈ کا نرم گوشت۔۔۔۔اُف۔ف۔ف۔ف۔ اور ٹوپے  کو چھوتے ہوئے ان کی پھدی کے نرم  ہونٹ ۔۔۔۔             کیا بتاؤں یارو۔۔۔مجھے اور میرے لن کو ۔۔۔ مجھے کتنا سُرور مل  رہا تھا ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔ اُفف ف ف فف ۔۔۔ ۔۔۔اس کے ساتھ ہی میں نے مرینہ کو پیچھے سے پکڑ کر اپنے دونوں ہاتھ ان کے مموں پر رکھ دیئے ۔۔۔۔ اور ان کو دبانے لگا ۔۔۔۔


       ۔ اور مرینہ باجی ۔۔۔۔آہستہ آہستہ ۔۔ اب اس کے جزبات بھی بھڑکنے لگے تھے ۔۔۔ اور اب    وہ  مستی میں آ کر   اپنی  گانڈ کو میرے لن کے گرد اپن کلوز کرتی  جا  رہی تھی ۔۔۔ جس سے میرا لن ایک انوکھے مزے سے لطرف اندوز ہو رہا تھا۔۔۔   اس کے ساتھ ساتھ  وہ  اپنی  گانڈ کا دباؤ میرے لن پر بڑھاتی تھی اور کبھی اپنی گانڈ کو لن پر رگڑتی تھی ۔۔۔ گویا  آگ دونوں طرف برابر کی لگی ہوئی تھی ۔۔۔۔خود میرے بدن میں بھی شہوت کا غلبہ دم بدم  کچھ  ذیادہ  ہی ہوتا جا  رہا  تھا ۔۔۔ پھر میں  اپنے دونوں ہاتھ ان کی قمیض کے اندر لے گیا اور برا کو ہٹا کر ان کے ممے ننگے کر دیئے اور پھر ان کے  ننگے مموں کو دبانے لگا ۔۔۔ انہوں نے ایک تیز سسکی لی ۔۔۔ اور بیک شیشے میں میری طرف دیکھ کر بولی ۔۔اُف ۔ ۔ف۔ف۔ف ۔۔۔۔۔ تو میں کہا کیا ہوا باجی ۔۔۔۔ تو وہ میری طرف دیکھ کر  کہنے لگی ۔۔۔۔ کتنے ظالم ہو تم ۔۔۔ تو میں نے بھی ان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا وہ کیسے باجی ؟ تو وہ کہنے لگی کتنی بےدردی سے میرے بریسٹ دبا رہے ہو ۔۔۔ تو میں نے کہا میرے دبانے سے آپ کو درد ہو ہو رہا ہے یا مزے آ رہا ہے ؟ تو وہ شہوت سے بھر پُور لہجے میں بولی ۔۔۔۔۔ مزہ آ  رہا ہے  میری جان !!!۔۔   آدھی  رات  کا  وقت تھا  سڑک سنسان تھی ۔۔۔ اور ہم  دونوں ۔۔۔ جنسی کھیل میں مشغول  تھے ۔۔۔۔ اور اس نے  بائیک  کی  رفتار بھی  بہت کم کر دی تھی ۔۔۔۔  ۔ہم  دونوں مسلسل موٹر سائیکل کے  بیک شیشے سے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔ مجھے مرینہ کی آنکھوں میں سُرورکے جنسی  ڈورے تیرتے صاف نظر آ رہے تھے ۔۔۔۔ اس وقت وہ اپنی مستی کے عرج پر تھی ۔۔۔۔ ایسے میں  وہ میری طرھ دیکھتے ہوئے ۔مخمور اور نشلی آواز میں بولی ۔۔۔۔ہے !!!!!!۔۔۔ میرے یہ کیسے ہیں ؟   تو میں نے کہا مست ہیں میری جان ۔۔۔۔ تو وہ کہنے لگی ۔۔۔  میرے نپلوں کو اپنی انگلیوں میں لیکر مسلو   نا ۔۔۔اس کی بات سُن کر میں نے اس کے مموں سے ہاتھ  ہٹایا  اور  اس کے موٹے موٹے  نپل  جو  اس  وقت  اس کے مموں پر اکڑے کھڑے تھے کو  اپنی  انگلیوں میں  لیا  اور انہیں ۔بڑی بے دردی سے ۔۔۔ مسلنے لگا۔۔کچھ ہی دیر بعد اس  کے جسم نے ایک جھٹکا کھایا اور ۔۔۔ مجھے اپنے لن کی ٹؤپی پر کچھ گرم سا پانی   سامحسوس  ہوا  اور میں نے اس سے پوچھا ۔۔۔۔ مرینہ ۔۔۔میری  جان ۔۔ آپ کی چوت  سے پانی رِ س رہا ہے تو وہ  بڑی ہی مست  ہو کر بولی ۔۔۔۔ میری چوت کے پانی سے تمھارا لن گیلا ہو رہا ہے نا ؟  تو میں کہا یس۔س۔س۔س۔ ۔۔۔ آپ کی چوت کا پانی آب میرے لن تک پہنچ   گیا ہے۔  تو وہ  بولی تمھارے لن کو  کیسا  لگا  میری چوت کا پانی ؟؟؟؟؟   تو میں نے جواب دینے کی بجائے ایک گھسہ ان کی گانڈ کی طرف مارا ۔۔۔ جس کی وجہ سے میرا ٹوپا  اس کی گیلی چوت کے لب سے ٹکرایا ۔۔۔۔ اور بولا ۔۔۔ باجی آپ بتاؤ  میرا یہ کیسا  لگا ؟ تو وہ  بولی ۔۔۔۔۔ بہت اچھا  اور بہت  ذبردست ۔ہے ۔۔۔ اس نے ابھی سے مجھے گیلا کر دیا ہے ۔۔۔۔۔ پھر وہ تھوڑا سا آگے کو جھکی اور ۔۔۔۔ اپنی گانڈ کو تھوڑا پیچھے کی طرف کر لیا ۔ ۔ ۔ ۔ اس اینگل سے  میرا لن اب ان کی گانڈ کی حد کو عبور کر  کے میرا ٹوپا  ان کی چوت کے لبوں کے تھوڑا  اندر کی طرف جانے  لگا ۔جس سے مجھے از حد مزہ آیا  اور ۔۔۔ میں نے جوش میں آ کر ان کے نپلوں کو بڑی سختی سے مروڑا ۔۔۔۔۔۔اور ان کو باقی جسم کو فل پاور سے ۔۔ اپنی طرف بھینچا ۔ ۔ ۔۔ آہ ۔۔اپنی اس حرکت سے میں نے مرینہ باجی کی ۔ گانڈ اور چوت دونوں کا ایک ساتھ مزہ لے لیا تھا ۔۔۔ اب وہ بھی فُل مست ہو چکی تھی اور بار بار آگے ہو کر اپنی چوت کے لبوں کے اندر  میرا ٹوپا ۔۔۔لے رہی  تھی ۔۔۔ اسی  دوران میں  اپنا منہ ان کے کان کے پاس لے گیا اور ان کے کان کی لو کو چو س کر  بولا ۔۔۔۔ مرینہ ۔۔ جی آپ کی چوت بڑی گرم ہے ۔۔۔ انہوں نے ایک ہلکی سی لذت آمیز سسکی بھری اور کہنے لگی ۔۔۔ یہ جو تم نے میری ۔۔۔ کے بیچ میں کیا ہوا ہے یہ بھی کیا کم گرم ہے ۔۔۔ تو میں نے کہا مرینہ باجی ۔۔۔ آپ کو پتہ ہے میرا لن جب آپ کی چوت کے لبوں کو چھو تاہے نا ۔۔۔ تو مرے اندر ایک عجیب سا کرنٹ دوڑ جاتا ہے ۔۔۔۔ تو  وہ عجیب  سے لہجے میں کہنے لگی ۔۔۔۔ یقین کرو ۔۔  تمھارے ٹوپے کے اس ٹچ نے میرے اندر ایک ایسی آگ بھڑکا  دی ہے جس کو میں تم سے بیان  نہیں کر سکتی  پھر میں نے ان سے کہا کہ اپنی گردن گھما کر ذرا  پیچھے کی طرف  منہ کریں ۔۔۔ تو وہ بولی کیوں ؟ تو میں نے کہا ۔۔۔ پلیز کریں نا ۔۔ تو اس نے اپنا  منہ پیچھے کیا  تو میں  نے اپنا  منہ آگے بڑھا کر  اس لمحے کے لئے اس کے ہونٹوں کو چوم لیا ۔۔۔   ۔۔۔۔ ہونٹوں سے ہونٹ ملتے ہی دونوں کے بیچ   لگی  ہوئی آگ  اور بھڑک اٹھی  اور اس بار اس نے خود منہ پیچھے کیا  اور بولی  اپنی  زبان  نکالو ۔۔۔ تو میں نے اپنی زبان نکالی۔۔۔ اب مرینہ نے بھی اپنے منہ سے سانپ کی طرح اپنی زبان باہر  نکلی اور اسے  لہراتے ہوئے میری زبان سے  ٹکرا دی ۔۔ ایک لمحے کو مجھے ایسے لگا کہ جیسے ان کی زبان نے میرے بدن میں آگ بھر دی ہو ۔۔۔۔ادھر انہوں نے کچھ سیکنڈ کے لیئے اپنی زبان میری زبان سے ٹکرائی اور پھر وہ  ۔۔۔ پھر سیدھی ہو کر بائیک چلانے لگ پڑی ۔۔ پھر اگلے ہی لمحے وہ ۔۔۔۔۔ بائیک پر بیٹھے بیٹھے  آگے کو جھکی اور اپنی گانڈ کے دراڑ میں پھنسے لن پر گھسے مارنے لگیں ۔اور اپنی گانڈ کو میرے لن   پر بری طرح  رگڑنے لگی ۔۔ اس کے ساتھ ہی وہ  جھٹکے لے لے کر لمبے لمبے سانس بھی لینے لگی ۔۔۔اور پھر  میں  نے  اپنے  لن کے اگلے سرے پر ۔ ۔ مرینہ کی پھدی  کا  بہت سارا گرم پانی محسوس کیا ۔۔۔ ۔۔۔۔ وہ چھوٹ چکی تھی ۔ ۔۔۔ جب  اسکا  سانس   کچھ بحال ہوا ۔۔۔ اور وہ تھوڑی نارمل ہو گئی  تو  انہوں نے  ادھر ادھر دیکھ کر مجھ سے پوچھا  کہ یہ ہم کہاں آ گئے ہیں؟؟؟  تو  میں جو کہ ان کے ساتھ سیکس میں بری طرح سے مگن تھا ۔۔۔ ان کے کہنے پر ادھر ادھر دیکھا ۔۔۔۔۔ تو وقت  ہمارا بائیک ایوب پارک کراس کر رہا تھا  یہ دیکھ کر میں نے کہا کہ مرینہ باجی ہم کافی آگے نکل آئے ہیں میری بات سُن کر نے بیک مرمر سے میری طرف دیکھا اور بڑے سیکسی لہجے میں کہنے لگیں واقعہ ہی ہم کافی آگے نکل چکے ہیں اور ساتھ ہی لن پر گھسہ مار دیا۔۔۔ پھر وہ بڑے حیرانی سے بولیں ۔۔۔ ہا  ۔ ۔ ۔۔ تم  بھی تک ڈسچارج  نہیں  ہوئے ؟؟؟؟؟؟  تو میں کہا کہہ میڈم جی میں نے کیا کیا ہے جو ڈسچارج ہووں ، ۔ ۔ میری بات سُن کر وہ بڑی شوخی سے بولی ۔۔ اچھا تو ذرا یہ بتاؤ کہ گزشتہ کافی ٹائم سے  میری ۔۔۔۔ گانڈ کے  کریک ۔اور چوت کے لبوں پر  تمھارا ۔۔ یہ کیا کر رہا تھا؟ تو میں نے بھی اسی شوخی سے ان کو کہاکہ ۔ ۔ ۔ ۔ کیا کر رہا تھا   آپ  بتاؤ  نا ؟ تو  وہ  بولی ۔۔۔ بدتمیزیں کر رہا تھا ۔اور کیا کر رہا تھا ۔۔ اور پھر  انہوں نے بائیک کی رفتار تیز کر دی اس پر میں نے ان سے کہا کہ باجی اگلے یو ٹرن سے واپس موڑ  لو۔۔۔۔ تو انہوں نے بجائے آگے جانے کے وہیں بائیک روک لی اور مجھ سے کہنے لگی نہیں ۔۔۔  ۔۔۔۔ اب تم  بائیک چلاؤ ۔۔۔ تو میں نے کہا ۔۔۔ کیوں ڈسٹرب کر رہی ہیں ۔۔۔ اچھا بھلا میں مزے کر رہا تھا ۔۔۔ تو وہ کہنے لگی  فکر ناٹ ۔۔ میں تمھارے مزے میں فرق نہیں آنے دوں گی ۔۔۔  بہت ہو گیا بس اب تم چلاؤ  اور پھر بولی ۔۔۔۔مجھے پتہ چل گیا ہے اگر بائیک میں ہی چلاتی رہی نا  تو۔۔۔۔۔ صبع تک ہم یقیناً   ہم  لاہور کے آس  پاس ہوں  گے اس لئے  مہربانی کر کے اب تم بائیک چلاؤ ۔۔
 

چنانچہ نا چاہتے ہوئے بھی میں آگے آ گیا اور بائیک پر بیٹھ گیا اب وہ میرے پیچھے بیٹھی لیکن اس دفعہ  وہ  میرے پیچھے مردانہ سٹائیل میں بیٹھی ۔۔۔ یعنی دونوں ٹانگیں ادھر ادھر کر کے ۔۔۔ اور پھر اس نے پیچھے سے میری قمیض کو سائیڈ پر کیا اور اور میرے ساتھ جُڑ کر بیٹھ گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اُف۔ف۔ف۔ف۔ وہ اس طرح میرے ساتھ جُڑی بیٹھی تھی کی ان کی گیلی  پھدی میری گانڈ سے بلکل جُڑی ہوئی تھی اور ان کی پھدی کا گیلا پن مجھے بڑا ۔۔مزہ  دے  رہا  تھا ۔۔۔  پھر میں نے تھوڑا  آگے  سے یو ٹرن  لیا  اور بائیک  واپس صدر کی طرف موڑ لیا ۔۔۔اور منہ پیچھے کر کے مرینہ سے کہا ۔۔۔ باجی ایک کس تو دو۔۔۔ تو وہ بائیک سے تھوڑا   اوپر اٹھی اور میرے ہونٹؤں سے ہونٹ جو ڑدیئے اور اس کے ساتھ ہی میں نے بائیک اور سلو کر دی اور ان کے نرم ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں لیکر ایک لحظے کے لیئے چوسا اورپھر چھوڑ دیا ۔۔۔۔ پھر میں نے مرینہ سے کہا ۔۔۔۔ باجی میرا پکڑیں نا ۔۔۔۔۔۔ یہ سن کر اس نے میرے پیٹ  پر رکھا ہوا  اپنا   ہاتھ  ہٹایا  اور لن پر رکھ دیا ۔۔۔ پھر بولی ۔۔۔۔ تمھارا  شلوار کیوں گیلی ہے تو میں نے جواب دیا ۔۔۔ کمال ہے آپ بھول گئیں یہ آپ کی اپنی  ہی پھدی کا گیلا پن ہے ۔۔۔ سن کر وہ کھیسانی سی ہنسی ہنس کر بولی ۔۔۔۔۔ ہاں ہاں معلوم ہے یا ر۔۔۔ پھر اس نے میری شلوار کا نالا کھولا  اور میرا ننگا  لن اپنے  ہاتھ میں پکڑ لیا ۔۔۔ اور دھیرے دھیرے میری مُٹھ مارنے لگی ۔۔۔ لن کو پکڑنے کے کچھ دیر بعدوہ پھر سے گرم سے گرم ہوتی گئی اور ۔۔۔۔ اور بولی ۔۔۔۔۔ کمال ہے ۔۔۔ تم ابھی بھی قائم ہو ۔۔۔۔ پھر اس نے ۔میرے ۔۔ لن کو اپنا تھوک لگا کر گیلا کیا اور ہلکی ہلکی مُٹھ مارنے لگی ۔۔۔ اور کبھی کبھی میں منہ پیچھے کی طرف کر کے اس کے ہونٹ چوم لیتا تھا ۔۔۔۔ ہاں جب میں اور وہ اپنی زبانیں لڑاتے تو ۔۔۔ ہم دونوں مزید گرم سے گرم تر ہو جاتے تھے ۔۔ ۔۔۔ایک آدھ دفعہ میں نے اپنا  ہاتھ پیچھے کر کے شلوار کے اوپر سے اس کی پھدی پر بھی رکھا  تو  گیلے پن کی وجہ سے اس کی ریشمی شلوار اس کی چوت کے ساتھ چپکی ہوئی تھی ۔۔۔۔ ایسی ہی ایک بار جب میں نے شیشے سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے اس سے کہا کہ باجی ایک کس تو دو نا ۔۔۔ تو وہ اوپر اٹھی اور اپنی زبان میرے ہونٹوں پر پھیرنے لگی ۔۔۔۔اور ساتھ ہی بڑی زور سے میرا لن بھی دبا دیا ۔۔۔ جس سے میری ہوشیاری میں سو گنا اضافہ ہو گیا اور میں نے ۔۔ مرینہ سے کہا باجی ایک بات پوچھوں؟ تو وہ اسی نشیلے لہجے میں بولی ۔۔۔ پوچھ میرے چندا ۔۔۔۔۔ تو میں نے کہا کیا آپ نے کبھی سکنگ کی ہے ؟ تو وہ اپنے ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے بولی ۔۔۔۔ تمھارا مطلب ہے لن چوسنا ہے ؟ تو میں نے کہا جی باجی ۔۔۔ تو وہ کہنے لگی ۔۔۔ تمھیں کیا لگتا ہے تو میں نے بے دھڑک ہو کر کہا کہ میرے خیال میں آپ جیسی سیکسی لڑکی لن ضرور چوستی ہو گی ۔۔۔ تو وہ کہنے لگی ،۔۔۔ تم درست کہہ رہے ہو ۔۔ جو لڑکی بلیو فلم دیکھ لے خاص طور پر اپنے مرد کے ساتھ ۔۔۔ تو اس کا ۔۔ چاہے جی  چاہے نہ چاہے اسے  لن چوسنا  پڑتا ہے ۔۔۔ تو میں نے کہا کہ ۔۔۔ تو کیا آپ بے دلی سے لن چوستی ہو ۔۔ تو وہ ایک دم اپنے خشک ہونٹوں پر زبان پھیر کر بولی ۔۔۔۔ شروع شروع میں عجیب لگتا  تھا اب تو مزہ آتا ہے ۔۔۔ تو میں نے کہا ۔۔۔ باجی کیا آپ میرا لن چوسو گی ؟ تو وہ بولی ہاں ضرور چوسوں گی ۔۔۔۔  تو میں نے کہا کیا آپ ابھی  میرا لن چوس سکتی ہو؟ تو وہ بولی ۔۔۔ یہاں ؟ اس وقت ہم سٹیٹ بینک کے سامنے سے گزر رہے تھے ۔۔ تو میں نے کہا نہیں باجی کسی سنسان جگہ پر ۔۔۔ تو کہنے لگی ۔۔۔۔ یار پھر کبھی تسلی سے تمھارا لن چوسوں کی لیکن ۔۔۔۔۔ یہاں ۔۔۔ خطرہ  ہو گا یار ۔۔۔ تو میں نے کہا ۔۔۔دیکھیں نا ۔۔۔رات کتنی گہری ہو گئی ہے ۔۔۔ سڑکیں بھی سنسان ہیں ۔۔۔ ایسے میں بس تھوڑی سی دیر کے لیئے آپ میرا لن اپنے  منہ میں لے لو گی تو کچھ بھی نہیں ہو  گا ۔۔۔  وہ نہیں  مان  رہی تھی لیکن تھوڑے سےاصرار اور منت ترلوں کے بعد وہ بالآخر مان ہی گئی ۔۔۔ اور میرے  لن  کو آگے پیچھے کرتے ہوئے  بولی ۔۔ٹھیک ہے بائیک کسی سنسان جگہ پر لے جاؤ۔۔۔


Contact Me For Secret Relation 
Email: farhanrajpoot129@gmail.com
Mobile Number: +923174537033 
Whatsapp: +923030275325

No comments:

Post a Comment