یہ بات سوچ سوچ کر ۔۔۔۔میں مست ہونے لگی ۔۔۔۔۔۔ کچھ دیر تک میں نے فنگرنگ کی ۔۔ پھر میں نے اپنے غیر ضروری بالوں پر کریم لگانا شروع کر دی ۔۔۔۔ کریم لگانے کے بعد اچانک خیال آیا کہ ۔۔۔ یہ لوگ تو ہمارے دشمن ہیں ۔۔ پھر میں ایسا کیوں سوچ رہی ہوں ۔۔۔ لیکن اس کے ساتھ ہی مجھے امی کی کہی ہوئی بات یاد آ گئی کہ چونکہ میرا جینا مرنا اب اسی گھر میں ہے ۔۔۔۔ اور اس گھر میں رہنے کے لیئے یہ بات اشد ضروری ہے کہ میں ہر صورت میں اپنے خاوند کا دل جیتوں ۔۔۔ اور اس کا دل اسی صورت میں جیتا جا سکتا ہے کہ ۔۔۔۔۔ اسی طرح میری اندر مختلف سوچوں نے یلغار کر دی کہ مجھے کیا کرنا چاہیئے ۔۔۔۔ کافی سوچ بچار کے بعد میں نے یہی فیصلہ کیا کہ جیسا بھی ہے قاسم خان جی اب میرا خاوند ہے اور مجھے سب سے پہلےاس کو قابو کرنا ہے اور اسے قابو تبھی کیا جا سکتا ہے کہ جب میں اسے ۔۔۔۔۔۔۔ یہ خیال آتے ہی میں ایک دفعہ پھر گرم ہونا شروع ہو گئی اور ۔۔۔میری ۔۔۔چوت۔۔۔۔میں ہلکی ہلکی آگ لگنے لگی ۔۔۔۔
نہانے کے بعد ایک دفعہ پھر میں نے شیشے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے ننگے بدن خصوصاً اپنی پھدی کو اندر باہر سے اچھی طرح چیک کیا ۔۔۔۔ تو میری چوت کے لبوں سے ہلکا ہلکا پانی رِس کا باہرکی طرف آ رہا تھا ۔۔۔۔ ۔۔۔ پھر میں نے ایک انگلی چوت میں ڈالی وہ اندر سے کافی گیلی ہو رہی تھی ۔۔۔۔پھر میں نے اپنا ہاتھ وہاں سے ہٹا یا اور آنے والے وقت کے بارے میں سوچتے ہوئے۔۔۔ کپڑے پہننے لگی ۔۔۔
میں جب واش روم سے باہر آئی تو صنوبر باجی ایک خاتون کے ساتھ پہلےسے موجود تھیں اورمیرا خیال ہے کہ وہ دونوں میرا ہی انتظار کر رہیں تھیں کیونکہ جیسے ہی میں باہر آئی صنوبر نے میرا ہاتھ پکڑا اور ڈریسنگ کے سامنے بٹھا دیا ۔۔۔۔ فوراً ہی دوسری خاتو ن جو کہ بیوٹیشن تھی آگے بڑھی اور اس نے میرا میک اپ کرنا شروع کر دیا اور ایک دو گھنٹے لگا کر مجھے تیار کر دیا ۔او وقت رات کے 9/10 ہوں گے ۔۔ جب میں میک کرا کے فارغ ہوئی تو صنوبر باجی نے مجھے پلنگ پر بیٹھنے کو کہا اور پھر انہوں نے سائیڈ پر سرسوں کے تیل کی بوتل رکھی اور ساتھ ہی ایک صاف سا کپڑا مجھے پکڑاتے ہوئے بولی ۔۔۔ رکھ لو ۔۔اور پھر بڑے ہی معنی خیز لہجے میں بولی ۔۔۔ یہ بڑے کام آئے گا ۔۔ اور پھر اس کے ساتھ ہی تپائی پر بیٹھ کر وہ میرے ساتھ باتیں کرنے لگیں ۔۔گو کہ ۔ اس وقت تک اس کا میرے ساتھ رویہ بڑا ہی دوستانہ تھا لیکن پتہ نہیں کیوں مجھے ان کا یہ سارا عمل جعلی جعلی سا لگ رہا تھا ۔۔۔ خیر رات کے کوئی بارہ ایک بجے خان جی کمرے میں داخل ہوئے ۔۔ اس وقت انہوں نے سفید کاٹن کا سوٹ پہنا ہوا تھا اور اس کے اوپر کالی واسکٹ تھی ۔۔۔ سر پر سفید ٹوپی تھی اور گلے میں کافی سارے نوٹوں کے ہار پڑے تھے جو غالباً ان کے دوستوں نےپہنائے ہوں گے ۔۔۔ خان جی کے اندر داخل ہوتے ہی صنوبر باجی اُٹھی اور خان کو مبارک دیتے ہوئے کمرے سے باہر چلی گئی لیکن فوراً ہی واپس بھی آگئی اس کے ہاتھ میں دودھ کا گلاس تھا جو اس نے بڑی خاموشی سے تپائی پر رکھا اور پھر اسی خاموشی سے چلی گئی۔۔ خان جی بھی اس کے پیچھے پیچھے دروازے تک گئے اور بولے ۔۔۔ اور تو کچھ نہیں ہے نا ؟ تو وہ بولی ۔۔ اور کچھ نہیں خان جی ۔۔۔ اور وہ باہر نکل گئی ۔۔ اس کے جاتے ہی خان جی نے دروازے کو لاک کیا اور میرے پاس مسہری پر آ گئے اس وقت تک میں نے اپنے چہرے کو دوپٹے سے چھپا لیا تھا ۔۔۔یعنی کہ گھونگٹ آگے کر لیا تھا ۔۔۔ وہ آئے اور انہوں نے بڑے پیار سے میرا گھونگٹ اُٹھا یا۔۔۔۔ مجھے میک اپ میں دیکھ کر وہ دنگ ہی رہ گئے ۔۔۔ اور کافی دیر تک وہ مجھے یک ٹک دیکھتے رہے ۔۔۔ پھر ہولے سے بولی ۔۔۔۔ مرینہ ۔۔۔۔ تم تو اپنی ماں سے بھی زیادہ خوبصورت ہو۔ اور پھر انہوں نے اپنی واسکٹ کے جیب سے ایک انگھوٹھی نکالی اور مجے اپنا ہاتھ آگے کرنے کو کہا میں نے اپنا ہاتھ آگے کیا اور تو وہ اسے دیکھ کر چونک گئے اور بولے ۔۔۔صنوبر نے تم کو مہندی کیوں نہیں لگائی ۔؟؟ لیکن میں نے ان کی اس بات کا کوئی جواب نہ دیا اور بس چُپ چاپ سر جھکائے بیٹھی رہی ۔۔ وہ کافی دیر تک میرے جواب کے منتظر رہے لیکن جب میں نے کوئی جواب نہ دیا تو وہ خود ہی کہنے لگے چلو کوئی بات نہیں اس کے بعد انہوں نے مجھ سے بات چیت شروع کر دی اور بولے ۔۔۔۔ دیکھو جو ہونا تھا ہو گیا ۔۔۔ اب اس کو یاد کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ۔۔۔ اور پھر اس کے بعد انہوں نے کافی دیر تک میرے ساتھ باتیں کیں اور اپنے گھر کے بارے میں سمجھاتے رہے کہ مجھے کیا کرنا ہوگا زیاددہ تر باتیں وہی کر رہے تے میں تو بس ہوں ہاں میں جواب دے رہی تھی ۔۔۔ ۔ضروری باتیں کرنے کے بعد انہوں نے اپنا ہاتھ میری ٹھوڑی پر رکھا اور میرا چہرہ اوپر کرتے ہوئے شوخی سے بولے ۔۔ سارا وقت میں ہی بولے جا رہا ہوں کچھ تم بھی بولو نا ۔۔۔ تو میں نے کہا ۔۔میں کیا بولوں خان جی ؟؟ ۔۔۔۔ تو وہ کہنے لگے کچھ بھی ۔۔۔۔ لیکن میں چپ رہی پھر اس کے بعد انہوں نے میرے حسن کی تعریف کرنی شروع کر دی اوراسکے ساتھ ہی میرے نزدیک ہو گئے اور پھر انہوں نے اپنے ہونٹوں کو میرے ہونٹوں پر رکھ دیا اور مجھے ہلکا سا بوسہ دیا ۔۔۔۔ جو مجھے بڑا اچھا لگا اس کے بعد انہوں نے میرے ہونٹوں کو اپنے منہ میں لے لیا اور ان کو چوسنے لگے ۔۔۔ آہ ،،ہ ۔۔ ان کے اس عمل سے میرے اندر مستی چھانے لگی ۔۔۔
کافی دیر تک وہ میرے ہونٹ چوستے رہے اس کے بعد انہوں نے مجھے نیچے لٹا دیا اور خود میرے اوپر آ گئے اور ایک دفعہ پھر میرے ہونٹ چوسنے لگے ۔۔۔ جس سے میری مستی میں اضافہ ہونے لگا ۔۔ پھر انہوں نے میری قیمض اوپر کی اور برا ہٹا کر میری چھاتی کو ننگا کر دیا ۔۔۔ اور خود پاس بیٹھ گئے ۔۔۔ پھر انہوں نے میرے نپل کو اپنی دونوں انگلیوں میں پکڑا اور اسے مسلنے لگے ۔۔۔۔ اور مسلتے گئے ۔۔۔ کچھ دیر بعد وہ نیچے جھکے اور میری ایک چھاتی کو اپنے منہ میں لے لیا اور میرے نپل کو چوسنے لگے ۔۔۔ اور میں جو مست ہو رہی تھی اب آہستہ آہستہ میرے نیچے آگ لگنا شروع گئی ۔۔۔۔۔ لیکن وہ میری اس آگ سےبے خبر باری باری میرے دونوں نپلوں کو چوسے جا رہے تھے ۔۔۔۔ اور نیچے سے میری آگ تیز سے تیز تر ہوتی جا رہی تھی ۔۔ میرا دل کر رہا تھا کہ خان جی میرے نپلز کو چھوڑ کر اب نیچے لگی آگ کا بھی کچھ کریں ۔۔۔۔ لیکن میں مجبور تھی کچھ کہہ نہ سکتی تھی ۔۔۔
کچھ دیر بعد انہوں نے مر ے نپلز سے اپنا منہ ہٹایا اور میری طرف دیکھ کر بولے کیا خیال ہے ؟؟ میں کچھ نہ سمجھی اور بولی کس بات کا ؟ تو انہوں نے کوئی جواب نہ دیا اور اپنی قمیض اتارنے لگے واسکٹ وہ پہلے ہی اتار چکے تھے ۔۔۔۔ قمیض اتارنے کے بعد انہوں نے اپنی شلوار بھی اتار دی ۔۔۔ جیسے ہی انہوں نے اپنی شلوار اتاری ۔۔۔ میں نے اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیا جب وہ پورے ننگے ہو گئے تو انہوں نےمیری آنکھوں پر رکھا میرا ہاتھ ہٹایا اور بولے۔۔۔ کس بات سے شرما رہی ہو میری جان ۔۔!!! اور میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے لن پر رکھ دیا ۔۔۔۔ تب میں نے ان کے مردانہ عضو کی طرف دیکھا تو حیرت کے مارے میری آنکھیں پھٹنے کے قریب ہو گئیں ان کا "وہ " بہت بڑا اور خصوصاً اس کا اگلا سرا بہت موٹا تھا ۔ ۔۔۔۔ اور یہ سوچ کر ہی مجھے غش آنے لگا کہ خان جی کا اتنا بڑا ۔۔ میری تنگ سی چوت میں کیسے جائے گا؟؟ ابھی میں یہ سوچ ہی رہی تھی کہ خان جی بولے اس کو دباؤ ۔۔۔ اور میں نے ان کا وہ پکڑ کا ہلکا سا دبا یا اور پھر ۔۔ اسے چھوڑ دیا ۔۔۔ ان کا وہ بہت گرم اور سخت اکڑا ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔۔جب میں نے ان کے اس سے ہاتھ ہٹایا تو ۔۔۔۔ہنس پڑے اور بولے ،۔۔۔ کیاگ ہے میرا لن ؟ لیکن میں نے کوئی جواب نہ دیا پھر وہ مجھ سے بولے میں نے اپنی شلوار اتار دی ہے تم بھی اپنے کپڑے اتارو ۔۔۔ میرا بھی یہی جی چاہ رہا تھا ۔۔۔ لیکن شرم کے مارے میں کچھ نہ کہہ سکتی تھی ۔۔ انہوں نے بھی میری یہ حالت بھانپ لی اور پھر وہ آگے بڑھے اور خود ہی میرے کپڑے اتار دئے اب میں ان کے سامنے ننگی پڑی تھی ۔۔۔ انہوں نے ایک نظر میرے ننگے سراپے پر ڈالی اور پھر وہ ٹانگوں کے بیچ آ گئے اور دونوں ٹانگوں کے بیچ بیٹھ کرانہوں نے اپنا ہاتھ میری پھدی پر رکھ دیا ۔۔۔ اور بولی ۔۔۔اوئے ۔۔۔۔ کتنی گرم ہے تمھاری۔۔۔۔۔۔۔۔ اور پھر میری چوت کے دانے کو مسلنے لگے ۔۔۔ جس سے میری تن میں ایک عجیب سی ہلچل مچ گئی اور مجھے خواہ مخواہ انگڑائیاں آنے لگیں اور شہوت کی وجہ سے میرا سارا جسم کانپنے لگا ۔۔۔ پھر انہوں نے میری آنکھوں میں دیکھا تو وہاں بھی انہیں شہوت کے لال ڈورے تیرتےنظر آئے ۔۔۔ یہ دیکھ کر انہوں نے میری ۔۔۔ ہپس کے نیچے ایک تکیہ رکھا اور خود میری ٹانگوں کے درمیان اکڑوں بیٹھ گئے اور پھر پاس پڑے سرسوں کے تیل کی شیشی سے کافی سارا تیل نکلا اور اپنے لن پر اچھی طرح مل دیا پھر انہوں نے اپنے اس کا بڑا سا ٹوپ میری چوت کے لبوں پر رکھا اور میری طرف دیکھ کر بولے ۔۔۔۔ بس تھوڑی سی تکلیف ہوگی ۔اور پھر میری ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھ لیں ۔۔۔ اور اپنے لن کو میری چوت کے نشانے پر رکھ کر ہلکا سا دھکا لگا دیا ۔۔ ان کے لن کا نوکیلا سرا پھسل کر میری چوت کے تھوڑا سا اندر چلا گیا ۔۔۔ جو میں نے اپنی چوت میں محسوس کیا اور پھر میں نے شرم کے مارے اپنی آنکھوں کو اپنے بازؤں سے ڈھانپ لیا انہوں نے میری اس حرکت کا کوئی نوٹس نہ لیا ۔۔۔ کیونکہ ان کی سار ی توجہ میری چوت کی طرف تھی ۔۔۔۔۔
اس کے بعد ۔۔۔ پہلےتو انہوں نے میری چوت میں اپنے لن کے اگلے سرے کو بڑے آرام سے اِن آؤٹ کرنا شروع کر دیا ۔۔ ان کا لن اندر جاتے ہی میری چکنی چوت کی دیواروں نے مزید چکناہٹ چھوڑنے شروع کر دی ۔۔۔۔ جس کی وجہ سے میری تنگ چوت میں ان کے لن کے اگلے سرے کو آنے جانے میں کافی آسانی ہو گئی ۔جب ان کے لن کے آنے جانے میں کچھ روانی آ گئی تو وہ رک گئے اور مجھے مخاطب کر کے بولے ۔۔۔ مرینہ جان ۔اب میں سارا لن تمھارے اندر ڈالنے لگا ہوں ۔تمھیں ۔بس ۔تھوڑا سا درد ہو گا ۔۔۔۔ پھر اس کے بعد انہوں نے ایک زور دار ۔۔۔ جھٹکا مارا اور ۔۔۔۔ ان کا سارا لن میری چوت میں اتر گیا ۔۔۔۔۔ لن اندر جاتے ہی درد کی ایک تیز لہر ۔۔۔ میرے سارے بدن میں پھیل گئی اور پھر ۔۔۔ اس درد کی وجہ سے ۔۔۔ خود بخود ہی میرے منہ سے چیخیں نکلنا شروع ہو گئیں ۔۔۔۔۔۔ اوئی مورے ۔۔۔ خوگی کی ۔۔۔ خوگی کی ۔۔۔۔۔۔ (ماں مجھے درد ہو رہا ہے ) ۔۔۔ انہی چیخوں کے درمیان مجھے خان جی کی آواز سنائی دی ۔۔۔ چپ شا ماڑا ۔۔ اس شے نشتا ۔(چپ ہو جاؤ کچھ بھی نہیں ہے ) لیکن مجھے خود پر کنٹرول نہ تھا اس لیئے میری چیخیں جاری رہیں ۔۔۔ خان جی کچھ دیر تک تو کہتے رہے ۔۔۔۔ اس شے نشتہ ۔۔۔۔لیکن ان کے ہر گھسے پر میری جان نکل رہی تھی اس لیئے جب انہوں نےدیکھا کہ میر ی چیخیں نہیں بند ہو رہیں تو انہوں نے ہاتھ آگے بڑھا کر میرے منہ پر رکھ دیا ۔۔۔ اور ۔۔۔ پھر میری چوت کی دھلائی شروع کر دی ۔۔ مجھے ان کی اس چودائی سے مزہ بھی آ رہا تھا اور درد بھی ہو رہا تھا ۔۔۔۔۔ اس طرح کافی دیر گزر گئی ۔۔۔اس دوران میں کافی دفعہ فارغ ہوئی لیکن وہ ظالم نہ ہوا ۔۔ آخر ۔ ۔۔۔۔ کوئی 20،25 منٹ بعد میں نے دیکھا کہ خان جی کو سانس چڑھا ہوا ہے اور وہ بری طرح سے ہانپ رہے ہیں گو کہ اس دوران میں کافی دفعہ چھوٹ چکی تھی ۔۔۔ لیکن خان جی کی یہ حالت دیکھ کر میں نے یہ بھی محسوس کیا کہ میری پھدی کی ساری دیواریں خان جی کے لن کے ساتھ چمٹ سی گئیں ہیں ان اس کے ساتھ ہی خان جی نے لمبے لمبے سانس لیئے ۔۔۔ اور ان کے لن نے منی چھوڑنا ۔۔۔۔ شروع کر دی ۔۔۔۔اور میں نے اپنی چوت کے اندر ۔۔۔ خان جی کے لن کا یہ گرم گرم پانی اپنی پھدی کے اندر جمع ہوتا ہوا محسوس کیا ۔۔۔ اس کے ساتھ ہی ایک عجیب سا نشہ میرے سارے وجود پہ چھا تا گیا ۔اور اس نشے اور غنودگی کی وجہ سے خود بہ خود میری آنکھیں بند ہوتی چلی گئیں ۔۔۔۔ ۔۔۔۔
کچھ دیر بعد خان جی میرے اوپر سے اُٹھے اور اپنے لن کو میری چوت سے کھینچ کے باہر نکلا اور فوراً ہی واش روم کی طرف روانہ ہو گئے ان کے جانے کے کچھ دیر بعد میں بھی اُٹھ گئی اور میں نے دیکھا تو بیڈ کی سفید چادر میری چوت کے خون سے رنگی ہوئی تھی میں اٹھی اور اپنی چوت پر ہاتھ لگا کر دیکھا تو وہ کافی سوجی ہوئی تھی اتنی دیر تک پٹائی نے اس کا برا حال کر دیا تھا ۔۔۔ ابھی میں اپنی چوت اور بیڈ پر بچھی چادر کا جائزہ لے رہی تھی کہ واش روم سے خان جی باہر آئے اور آکر میرے پاس کھڑےہو گئے اور بیڈ کی چادر پر لگے خون کو دیکھ کر بڑے خوش ہوئے اور مجھے اپنے گلے سے لگا کر بولے تم نے بڑا مزہ دیا ہے مرینہ ۔۔ میں نے ان کی بات سُنی اور اور واش روم میں چلی گئ وہاں جا کر اچھی طرح اپنی چوت صاف کی اور اس کے آس پاس کا ایرا صاف کیا اپنی پرائیوٹ جگہوں کو اچھی طرح دھونے میں کافی دیر لگ گئی ۔۔ چنانچہ فارغ ہو نے کے بعد جب میں واپس آئی تو خان جی ۔۔۔ بیڈ پر لیٹے تھے اور ان کا وہ ۔۔ کسی کھمبے کی طرح اکڑا کھڑا تھا جسے دیکھ کر میں خاصی حیران ہوئی کہ ابھی تو ۔۔۔۔۔پھر ۔۔ مجھے بعد میں پتہ چلا کہ خان جی نے اس دن سپیشل گولیاں کھائی ہوئی تھیں ۔جس کی وجہ سے ان کا " وہ" نیچے ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا چنانچہ جیسےہی میں واپس بیڈ پر آئی تو خان جی نے اشارے سے مجھے اپنے ساتھ لیٹنے کو کہا ۔۔۔ اور میں ان کے ساتھ لیٹی تو انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے اس پر رکھ دیا اور بولے اس کے سہلاؤ ۔۔۔۔
ان کے کہنے پر میں نے ان کا اپنے ہاتھ میں پکڑا اور اسے سہلانے لگی ۔۔۔ تو وہ بولے ۔۔۔بتاؤ کیسا لگا ۔۔؟ تو میں نے شرماتے ہوئے جواب دیا کہ ۔۔ بہت اچھا ۔ اور وہاں سے ہاتھ ہٹا لیا تو وہ کہنے لگے ۔۔۔ ایک اور دفعہ لو گی ؟؟ میں نے ان کی بات تو سنی لیکن کوئی جواب نہ دیا ۔( حال آں کہ میرا دل چاہ رہا تھا لیکن ۔۔ شرم کے مارے بتا نہ سکتی تھی ) ۔۔ وہ کچھ دیر تک میرے جواب کا انتظار کرتے رہے ۔۔پھر میری خاموشی کو رضامندی سمجھتے ہوئے وہ بیڈ سے اُٹھے اور بولے ۔۔۔ اب تم اُلٹی ہو جاؤ ۔ میں ان کی اس بات کا مطلب نہ سمجھی اور سوالیہ نظروں سے ان کی طرف دیکھنی لگی میری بات سمجھ کر انہوں نے ایکشن کرتے ہوئے کہا ایسے اور وہ ڈوگی سٹائل میں ہو گئے ۔۔۔ ان کی دیکھا دیکھی میں بھی ان کے سامنے ڈوگی بن گئی اور وہ میرے پیچھے آ گئے اور ایک میری گانڈ پر ہاتھ پھیرنے لگے ۔۔۔ جس کی وجہ سے مجھے بڑا مزہ ملا ۔۔۔ پھر انہوں نے اپنا لن ہاتھ میں پکڑا اور اس کی نوک میری چوت پر پھیرنے لگے ۔اُف ف۔ف ۔ف ان کی اس حرکت سے میری چوت نے پانی چھوڑنا شروع کر دیا ۔۔۔ اور جب انہوں نے دیکھا کہ اب میں فُل گرم ہو گئی ہوں تو انہوں نے پیچھے سے اپنا موٹا لن میری چوت کے لبوں پر رکھا اور ۔۔۔ دھیرے دھیرے میری چکنی چوت میں اپنا لن اندر ڈال کر ان آؤٹ کرنا شروع کر دیا ۔سچی بات یہ ہے کہ پہلی بار کی نسبت اس دفعہ مجھے بڑا مزہ مل رہا کہ کیونکہ اس دفعہ ان کا "وہ " میری چوت میں پھنس پھنس کرآ جا رہا تھا اور ان کی اس رگڑائی سے میں بے حال ہو رہی تھی اور میں مزے کے ساتویں آسمان پر پہنچ چکی تھی ۔۔ ان کے ہر گھسے سے میں مزے کی نئی منزلوں کو چھو رہی تھی ۔۔۔ پچھلی بار کی طرح اس دفعہ بھی انہوں نے کافی ٹائم لگایا ۔۔ اور ایک دفعہ پھر ان کے اس نے میرے اندر ہی پچکاری ماری ۔۔ جس سے میرا انگ انگ شانت ہو گیا ۔۔ اور میں نڈھال سی ہو کر بستر پر گر گئی ۔اور پھر جب ان کے بعد میں واش روم سے واپس آئی تو یہ دیکھ کر میری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں کہ ان کو لن ابھی بھی اکڑا کھڑا تھا۔۔میں نے ان کے لن کی طرف دیکھا تو وہ کہنے لگے ۔۔۔
پہلے دو شارٹ تو میں نے آگے سے لگائے تھے اب تیسرا اور آج رات کا آخری شارٹ میں تمھارے پیچھے سے کروں گا اور مجھے دوبارہ ڈوگی بننے کو کہا ۔۔۔ پیچھے سے کرنے کا سُن کر میری تو جان ہی نکل گئی ۔۔ پر میں بوجہ انکار نہ کرسکتی تھی اس لیئے ان کے حکم کے مطابق میں ڈوگی بن گئی ۔۔ اس دفعہ کی شارٹ نے جس میں کہ انہوں نے مجھے پیچھے سے کیا ۔تھا ۔۔ جس نے میرا بُرا حال کر دیا ۔۔ اور میری چھوٹے سے سوراخ میں ان کا تنا بڑا سا لن جانے کی وجہ سے ۔۔ میری پھٹ گئی اور جب پہلی دفعہ ان کا اندر جا رہا تھا تو مجھے ایسا لگا کہ ۔۔۔۔ میری گانڈ کے اندر ایک آگ کا گولہ ۔۔ جا رہا ہے ۔۔۔ جس کی وجہ سے درد کے مارے میرا برا حال ہو گیا اور میری وہاں سے کافی خون بھی نکلا ۔۔۔ لیکن اس بے دردی پر میری چیخ و پکار کا کوئی اثر نہ ہوا اور اس نے ویسے ہی میری گانڈ مارنی جاری رکھی ۔۔۔۔ اور مجھ پر زرا ترس نہ کھایا ۔۔۔ادھر میرے درد کا تو پوچھو نا اتنا درد ہوا کہ پہلی دفعہ شدید درد اور کر ب کی وجہ سے میرے آنسو نکل آئے اور ۔۔۔۔۔ ۔۔
اس طرح میری شادی شدہ زندگی کی شروعات ہو گئیں ۔۔۔ شادی کے ابتدائی دنوں میں خان جی تقریباً روز ہی مجھے چودا کرتے تھے اور خاص طور پر پیچھے ضرور ڈالتے تھے پیچھے ڈالنے سے شروع شروع میں تو مجھے بڑا درد ہوا لیکن پھر آہستہ آہستہ میری گانڈ کے ٹشو کھل گئے اور ان کے لن کی موٹائی کے ساتھ ایڈجسٹ ہوگئے اور پھر کچھ عرصہ بعد میں دونوں طرف سے یوزڈ ٹو ہو گئی اور پھر اس کے بعد ایک وقت وہ بھی آیا کہ مجھے پیچھے سے بھی کروانے میں مزہ آنے لگا ۔۔کچھ عرصہ تو خان جی نے مجھے جم کر چودا ۔۔۔۔ پھر اس چودائی میں وقفہ آنا شروع ہو گیا اور خان جی جو روز مجھے چودتے تھے اب دوسرے تیسرے دن چودنے لگے پھر اس کے بعد انہوں نے ہفتے بعد مجھے چودنا شروع کر دیا ۔۔۔۔۔
دوائیوں کا اثر کم ہونے لگا تو ان کے لن کی تڑ بھی کم ہو گئی اور تین ماہ بعد ایک دن میں نے ان کا لن پکڑ کر دیکھا تو وہ خاصہ ڈھیلا ڈھالا تھا ۔۔۔ لیکن مجھے اس کی کوئی خاص پرواہ بھی نہ تھی کہ میرا خیال تھا کہ میں خان جی کے دل میں گھر کر چکی تھی لیکن پھر یوں ہوا کہ جیسے جیسے ان کا لن ڈھیلا پڑتا گیا ۔۔ویسے ویسے میرے ساتھ خان جی کارویہ کچھ عجیب ہوتا جا رہا تھا۔۔ ۔ پھر اس کے بعد پتہ نہیں کیا میرا وہم تھا یا کیا تھا کہ میں نے محسوس کیا کہ دن بدن میرے ساتھ خان جی کا برتاؤ کچھ سخت سے سخت ہوتا جا رہا تھا دوسری طرف صنوبر باجی کا بھی یہی حال تھا ۔۔ شروع شروع میں ان کا میرے ساتھ برتاؤ بڑا ہی دوستانہ تھا لیکن پھر آہستہ آہستہ انہوں نے بھی میرے ساتھ سختی برتنا شروع کر دی ۔۔شادی سے پہلےانہوں نے نے گھر میں کام کاج کے لیئے ایک لڑکی رکھی ہوئی تھی جو میری شادی کے کچھ عرصہ بعد تک تھی لیکن پھر۔۔۔۔ پتہ نہیں کیا ہوا کہ انہوں نے اس کو بھی چھٹی دے دی ۔۔۔ اور مجھ سے گھر کے سارے کام کروانے شروع کر دئیے۔۔گھر کے کام کرنے میرے لیئے کوئی مشکل نہ تھا کہ جب میں جوان ہوئی تھی تو میں نے امی کو چُھٹی دیر خود گھر کے سارے کام اپنے ذمہ لے لیئےتھے ۔۔ لیکن یہاں مجھے جس چیز کا سخت افسوس تھا وہ ان دونوں کا رویہ تھا ۔۔۔۔اگر گھر کے لوگ سختی کریں اور خاوند آپ کے ساتھ سیٹ ہو تو کام چل جاتا ہے لیکن اگر گھر والے بھی ٹھیک نہ ہوں اور شوہر صاحب کا رویہ بھی درست نہ ہو تو بڑی تکلیف ہوتی ہے ۔خاص کر صنوبر باجی تو ہر وقت غصہ میں رہتی تھیں اور مجھے طعنے دینے دینے کا کوئی موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دیتی تھیں ۔۔۔۔ پتہ نہیں کیوں صنوبر باجی کو طعنے دینے میں کیوں اتنا مزہ آتا تھا ۔۔۔ خیر میں یہ سب برداشت کرتی گئی اور کوشش کرنے لگی کہ کسی طرح خان جی کو راضی رکھوں۔۔ لیکن وہ بھی ہر وقت ناک بھوں چڑھائے رکھتے تھے اور میں حیران تھی کہ ایسا کیوں تھا ۔۔ پھر میں نے اس بات پر غور کرنا شروع کر دیا کہ خان جی کا موڈ کس وقت اور کس وجہ سے آف ہوتا ہے تا کہ میں اس بات سے پرہیز کروں ۔۔ اور پھر کچھ دنوں کی جاسوسی کے بعد مجھ پر یہ بات آشکارا ہوئی کہ ۔۔۔۔
۔ یہ سب کیا دھرا صنوبر باجی کا ہے ۔۔۔ وہی خان جی کو اُلٹی سیدھی پٹیاں پڑھاتی رہتی تھی جس کی وجہ سے خان مجھ سے بات بے بات پر ناراض ہوتا تھا ۔۔۔ یہ سب جان کر میں سوچ میں پڑ گئی کہ اس صنوبر کا کیا علاج کروں ۔۔۔۔؟؟ میں اس کی شرارتوں سے کیسے توڑ کروں؟؟ کہ میں ان کی ریشہ دوانیوں سے عاجز آ چکی تھی ۔۔۔کافی عرصہ سوچتی رہی لیکن کچھ سمجھ نہ آیا پھر ۔۔ ایک دن میری ایک پرانی کلاس فیلو اور سہیلی مجھ سےملنے آئی ۔۔۔اور مجھے مرجھائے دیکھ کر ۔ وہ بھی پریشان ہو گئی ۔۔۔ اور مجھ سے میری اس پریشانی کا سبب پوچھا تو میں نے ساری حقیقت بتا دی ۔۔۔سُن کر وہ بھی سوچ میں پڑ گئی تب میں نے اس سے کہا کہ یار اس کا آخر حل کیا ہے ؟ سوچ سوچ کر اس نےمجھے کہاکہ میری جان اس کاایک ہی حل ہے کہ تم صنوبر کی کوئی کمزوری پکڑو ۔۔۔۔ اور پھر اس کی اس کمزوری کو اپنی طاقت بناؤ ۔۔۔بس یہی ایک طریقہ ہے ۔۔۔ ورنہ یہ عورت تمھاری زندگی میں زہر گھولتی رہے گی ۔ اور تمھارے خاوند کو مزید تمھارے خلاف کرتی رہے گی ۔اپنی دوست کی یہ بات میں نے اپنے پلو سے باندھ لی اور پھر ۔۔ میں تاڑ میں رہی کہ صنوبر باجی کی کوئی کمزوری پکڑوں ۔۔۔ ایک دفعہ ایسا ہو جائے تو ۔۔ میں اس صنوبر کی بچی کو ایسا سبق سکھاؤں گی کہ سالی یاد کرے گی ۔۔۔ اور پھر اس کے بعد میں نے صنوبر کی کمزوریاں تلاش کرنا شروع کر دیں ۔
۔۔لیکن کافی کوشش کے بعد بھی میں اس کی کوئی خرابی کوئی کمزوری نہ تلاش کر سکی ۔۔ یہ بات میں نے اپنی دوست کو بتائی تو اس نے کہا کہ تم اس سلسلہ میں اپنے کام والی کی مدد لو یہ لوگ اپنے مالکوں کے ہر راز اور ساری کمزوریوں سے خوب واقف ہوتے ہیں ۔۔ دوست کی یہ بات میرے دل کو لگی اور ایک دن میں اپنے کام والی کے گھر چلی گئی ۔۔۔۔۔ اور پھر بڑی منت سماجت اور ۔۔ کچھ نقدی خرچ کرنے کے بعد اس نے مجھے ایک ٹپ دی ۔۔۔۔اس کی یہ ٹپ سن کر میں تو ہکا بکا رہ گئی ۔۔۔ اور پھر بے یقینی کے عالم میں اس سے بار بار اس بات کی تصدیق کی ۔۔۔ اور جب مجھے پکا یقین ہو گیا کہ ۔ کہ بات ایسی ہی تھی ۔۔ لیکن اس میں کافی رسک تھا ۔۔۔ لیکن کیا کروں کہ یہ رسک لیئے بنا چارہ بھی نہ تھا ۔۔پھر مجھے خیال آیا کہ اگر سچ مچ یہ کام ہو گیا تو ۔۔۔۔ صنوبرباجی تو بے موت ماری جائے گی ۔۔۔ اور اس کام نہ کرنے کا سوچا پھر میرے اندر ااچانک یہ سوچا ابھری کہ اس نے تمھارے ساتھ کون سی نیکی کی ہے جو تم اس کا اتنا خیال کر رہی ہو ؟ اور سالی کی کمزوری پکڑو اور ۔۔۔۔ یہ سوچ کر میں نے اپنا کام جاری رکھنے کی ٹھانی ۔۔۔۔ ٹپ ہی ایسی تھی کہ ۔۔ جس کی وجہ سے وہ۔۔ ماری جاتی ۔۔۔ اور وہ ٹپ یہ تھی کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے ۔
Contact Me For Secret Relation
Email: farhanrajpoot129@gmail.com
Mobile Number: +923174537033
Whatsapp: +923030275325



No comments:
Post a Comment