Breaking

اُستانی جی پارٹ 5



کافی دیر تک ارمینہ  میرے ساتھ لپٹ کر   مجھے چومتی رہی    پھر وہ بیڈ سےنیچے  اتری اور واش روم کی طرف جاتے ہوئے ایک پرانا  سا کپڑا  میری طرف پھینکتے ہوئے   بولی ۔ ۔ ۔۔    یہ لو  اور اس سے اپنے وہاں (لن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے)    پر لگا ملبہ صاف کر  لو ۔۔ اور میں نے اس سے کپڑالیکر  لن اور اس کے آس پاس لگی    اپنی اور ارمینہ کی لگی ہوئی  منی  اچھی طرح  صاف کی اور پھر وہ کپڑاپھینک کر جلدی سے پاس پڑے ہوئے   اپنے  کپڑےاٹھا کر  پہن لیئے۔۔۔ اتنی دیر  میں ارمینہ بھی  واش روم سے واپس آ گئی تھی آتے ساتھ ہی اس نے بیڈ پر رکھی اپنی  شلوار پہنی  جبکہ قمیض اس نے پہلے ہی پہن رکھی  تھی  اس کے بعد  وہ میری طرف مُڑی اور  مجھے اپنے گلے سے لگا کر بولی  ۔ ۔ ۔  جان جی  ۔۔۔جی تو بہت  چاہ رہا ہے  کہ تمھارے ساتھ مزید مستیاں کروں ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن مجبوری ہے  ۔۔کہ ۔ ۔  ۔۔ گھر والوں کے آنے کا ٹائم  بھی ہو  گیا ہے   اس لئے  باقی مستیاں پھرکبھی  کریں گے  اورپھر اس نے مجھ ہاتھ ملایا اور میں نے اس کے لال  گال پر ایک چمی دی اور گھر آ گیا ۔اور راستے میں اس کے بارے میں ہی سوچتا  رہا  کہ  بظاہر  وہ کس قدر    ریزرو   قسم  کی لڑکی ہے ۔۔۔ پھر مجھے اس کے سینے کی  گولائیاں  اور دیگر چیزیں یاد آنا شروع ہو گئیں ۔۔۔ اور اسی اثنا میں ۔۔ میں گھر پہنچ گیا ۔۔۔۔۔اور جاتے ساتھ ہی سیدھا واش روم میں   نہانے کے لیئے میں چلا گیا ۔ اور ارمینہ کی تنگ چوت اور  خاص کر اس کےلال  لال گالوں کا تصور کرتے ہوئے نہانے لگا ۔ ۔ ۔ ۔ پھر  پتہ نہیں کیسے  اچانک ہی میرے زہن میں  ربے کا خیال آ گیا اور اس کے ساتھ ہی یاد آیا کہ ۔۔۔   مجھے تو   لائیبریری  بھی جانا تھا  ۔ ربے کی سوچ آتے ہی ارمینہ کا تصور جانے کہاں چلا گیا ۔۔۔ اور   اس کی جگہ میرے ذہن میں ربے کا  منحوسچہرہ  آ گیا ۔۔جسے سوچ کر میں خاصہ بے مزہ ہوا ۔۔    اور  پھر میں  جلدی سے نہا کر  ۔۔۔ اس کی دکان کی طرف بھاگا اور راستے میں دعا کرتا رہا کہ اس کی دکان کھلی ہو۔۔۔  اور اس کے ساتھ ساتھ  اس  بہن  چود کا   موڈ بھی اچھا  ہو -

 اور جیسے ہی میں ربے کی دکان کے قریب  پچاتھ تودُور سے مجھے اس کی دکان  بند نظر آئی ۔ ۔ ۔۔ یہ دیکھ کر میرا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا  ۔۔۔ لیکن جب  میں نے  غور سے دیکھا تو اس کی دکان پر ایک بڑا سا کاغذ چپکا ہوا نظر آیا ۔۔ اور میں   چلتے چلتے اس کی دکان پر لگے نوٹس کے پاس پہنچا ۔اور اسے  پڑھنے لگا ۔۔۔۔ دوستو ۔۔۔  یقین کرو  وہ نوٹس پڑھ کر مجھے ایک عجیب سی کمینی خوشی ہوئی    ۔۔۔ اس پر لکھا  تھا۔۔
                        "بوجہ وفات والد صاحب  دکان 15 دن کے لیئے   بند رہے گی '"
 اور نیچے فٹ نوٹ میں ربے نے اپنے گاؤں کا پتہ بھی لکھا تھا جو ضلع ساہیوال کے قریب کا کوئی گاؤں تھا ۔۔ نوٹس پڑھ کر میں نےساتھ والے دکان دار سے پوچھا کہ ربے  کے  والد صاحب کب فوت ہوئے ہیں ؟؟؟؟ تو وہ کہنے لگا کہ یہ آج صبع کی بات ہے-  اس کے بعد میں اپنے پرانے محلے چلا گیا  اور  یار  دوستوں کے ساتھ خوب گپ شپ لڑا کر رات کو واپس گھر آ گیا ۔۔


        اگلی صبع   تیار ہو کر جب میں سکول جانے کے لیئے گھر سے نکلا  تو  میں کشمکش کا  شکار ہو  رہا  تھا  کہ ارصلا کو لینے اس کے گھر جاؤں کہ نہ جاؤں ۔۔ کیونکہ ارصلا  نے  مجھے  بتایا  تھا کہ اس کی  بڑی  باجی  اسے   چھٹی  کروا  دے گی  پھر سوچا  کہ یہ بات تو ارصلا  نے  مجھے کل بھی  بتائی تھی لیکن ارمینہ  نے اس کو چھٹی  نہ کرنے  دی تھی  ارمینہ  کا  نام  ذہن میں آتے ہی  میرے  انگ انگ میں اک جل  ترنگ  سا بجنے  لگا  اور میں خود سے  یہ کہتا  ہوا  ارمینہ  کے گھر کی طرف چل پڑا کہ ارصلا   سکول جائے یا نہ جائے ۔میری بلا سے ۔ میرے جانے سے ارمینہ کا  دیدار   تو  ہو  جائے  گا نا ۔۔     یہ سوچ کر میں نے  نے ارصلا کے گھر کا  پردہ  ہٹایا  اور اندر داخل ہو گیا ۔۔۔ سامنے  ہی  ماسی  پٹھانی  کھڑی تھی میں نے اسے سلام کیا اور ارصلا کے بارے میں پوچھا  تو  وہ بڑی  شفقت  سے بولی ۔۔۔ بیٹا  ارصلا  کا موڈ  تو چھٹی  کا ہے پر تم ارمینہ کو تو جانتے ہی ۔۔۔۔ وہ اسے ایسا نہیں کرنے دے رہی ۔۔۔ اس لیئے ارصلا  روٹھ کر  چھت پر چلا گیا ہے اور ارمینہ بھی  اس  کے ساتھ  ہی  چھت پر موجود  ہے  اور   وہ  دونوں چھت پر  اسی بات کا فیصلہ کر رہے ہیں  ۔۔۔۔ کہ سکول سے چھٹی کی جائے یا نہ ۔۔۔۔ پھر  وہ  مجھ سے کہنے لگی بیٹا آپ بھی  اوپر جا کر اپنے دوست کو کچھ سمجھاؤ۔ ماسی کی بات سُن کر میں ان کی سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا اور   جلدی جلدی سیڑھیاں چڑھنے لگا  ابھی میں آدھی  ہی سیڑھیاں چڑھا  تھا کہ اچانک مجھے اوپر سےارمینہ آتی دکھائ دی  اسے آتے دیکھ کر مجھےشرارت سوجھی  اور میں ایک دم  سیڑھیوں کے درمیان کھڑا ہو گیا اور جیسے ہی ارمینہ میرے قریب آئی میں نے اپنا سر نیچے کیا اور ارمینہ کی خوبصورت  چھاتیوں کو اپنے دونوں ہاتھوں میں  پکڑ لیا ۔۔۔۔ارمینہ کی نرم نرم چھاتیاں میرے ہاتھوں میں تھیں اور میں  انہیں بڑے پیار سے دبا رہا تھا ۔۔ حیرت انگیز بات  یہ ہے ارمینہ نے  میری چھاتیاں پکڑنے  پر نہ تو کوئی مزاحمت کی تھی اور نہ ہی  وہ منہ  سے کچھ بولی ۔۔۔۔۔ مزید حیرت کی بات یہ تھی کہ اس نے    اپنی چھاتیوں کو برا  سے نہیں  ڈھکا  ہوا  تھا  سو۔ ۔ ۔ ۔ اس کی  پتلی سی  قمیض کے اوپر سے ہی میں نے اسکے گول گول اور نرم  مموں کو پکڑ کرخوب دبایا ۔۔اور پھر ۔۔۔۔۔۔پھر دوسرے ہی لمحے  میں اپنا ایک ہاتھ اس کی دونوں ٹانگوں کے بیچ لے گیا اور  اس کی چوت سے اپنا ہاتھ ٹچ کر دیا ۔۔۔ یہ سب میں نے اتنی جلدی میں اور آناً فانناً کیا  کہ  ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔  اس سے قبل کہ وہ مجھ سے کچھ کہتی  یا کوئ ری ایکشن دیتی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔میں   جلدی سے سیڑھیاں پھلانگتا  ہوا    اوپر کی طرف   بھاگ گیا ۔۔۔۔

           جیسے ہی میں چھت  پر  پہنچا ۔ ۔۔  ۔۔ تو  سامنے ہی  ارصلا کھڑا  تھا  اور  اس کے ساتھ ۔۔۔۔۔ اوہ ۔۔۔ اس کے ساتھ  ارمینہ کھڑی تھی ۔۔۔۔۔ ارمینہ کو  ارصلا کے ساتھ کھڑے  دیکھ کر کچھ دیر تو میں ششدر کھڑا اس کو دیکھتا  رہا  اور پھر یاد آیا کہ اگر  ارمینہ یہاں کھڑی  ہے  تو  وہ ۔۔۔ وہ ۔۔ لڑکی جس کے میں نے ابھی ابھی ممے دبائے  ہیں ۔۔۔ تو وہ کون تھی ۔۔۔۔۔ ہو  نہ ہو  وہ ۔۔۔۔ ارصلا  اور  ارمینہ  کی بڑی بہن  مرینہ ہو گی ۔۔۔تو۔۔ تو ۔۔تو ۔۔کیا  میں نے ارمینہ کی جگہ مرینہ کے ممے  ؟؟؟؟؟؟؟؟؟ ۔۔۔۔۔۔ اُٖف  ف ف ففف              ۔۔ یہ بات سوچتے ہی  میری ریڑھ کی ہڈی میں سرد  سی لہر دوڑ گئی اور میری ٹانگیں جواب دیں گئیں ۔۔ اور کانوں میں سیٹیاں سی بجنے لگیں اور میری آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا۔ ۔ ۔ خیر میں گرتا  پڑتا  ان کے پاس پہنچا  اور  ان کے پاس   چپ چاپ  کھڑا ہو گیا ۔۔۔ ارمینہ جو میری طرف ہی دیکھ رہی تھی ۔۔مجھے دیکھ کر ۔۔ تھوڑا فکر مندی سے بولی ۔ خیر تو ہے   نا ؟؟  کافی  پریشان  لگ  رہے ہو   ؟؟ ۔۔  تو میں جواباً  ایک  نے پھیکی سی مسکراہٹ سے کہا  ۔ جی ۔۔ میں ۔۔ ۔میں ۔ ٹھیک ہوں ۔۔۔۔  تو وہ کہنے لگی اگر تم ٹھیک ہو تو یہ تمھارے چہرے پر بارہ کیوں بج رہے ہیں ؟ اس سے پہلے کہ میں کوئی جواب دیتا  ارصلا کہنے لگا  بھائی  آپ  جاؤ میں آج  چھٹی کروں گا ۔۔۔۔ اس کی بات سُن کر ارمینہ  اس سے کہنے لگی  ۔۔۔۔ ارصلا پلیز ۔ ۔ !!! تم پہلے ہی پڑھائی میں کافی کمزور ہو ۔۔۔ لیکن ارصلا نے اس کی بات سنی ان سنی کرتےہوئے بولا ۔۔۔جب مرینہ باجی  نے بھی  چھٹی  کا کہہ دیا ہے توآپ کو کیا تکلیف ہے ؟؟؟؟؟؟ ۔ ۔تو ارمینہ بولی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دیکھو  چندا ۔۔ابھی ارمینہ نے اپنی بات پوری نہیں کی تھی کی پیچھے سے ماسی کی آواز آئی وہ ارمینہ سے کہہ رہی تھی کہ۔ ۔ ۔ ۔ بیٹا کیوں  ضد کر  رہی ہو  ارصلا کو چھٹی کرنے دو نا ۔۔۔۔۔ بھلا  ایک دن کی چھٹی سے کیا فرق پڑتا ہے ؟ پھر وہ مجھ سے مخاطب ہو کر بولی ۔۔ بیٹا آپ کے آنے کا بہت شکریہ ۔۔۔ ارصلا آج چھٹی کرے گا تمہیں سکول سے دیری ہو رہی ہو گی تم جاؤ ۔۔ اور میں ماسی کی بات سُن کر واپس مڑا  اور  تیزی سے ان کے گھر سے باہر نکل گیا کیونکہ میرے دل میں مرینہ کا شدید خوف تھا۔۔ سکول جاتے ہوئے سارے راستے میں  ، میں اسی حادثے کے بارے میں سوچتا اور خود کو کوستا رہا ۔۔۔۔ لیکن اب پچھتائے ۔۔۔ کیا ہو سکتا تھا ۔۔۔


      سکول پہنچ کر بھی یہ واقعہ میرے دماغ سے چپکا رہا  اور میرے  سارے وجود  پر  ایک عجیب  انجانا  سا خوف طاری  رہا   اسی لیئے چھٹی کر کے میں سیدھا گھر گیا اور پھر وہاں سے اپنے پرانے محلے چلا گیا اور شام کو واپس آیا تو گھر والوں نے بتلایا کہ ارصلا دو تین چکر لگا چکا ہے ۔۔۔چونکہ صبع والی بات کے حوالے سے میرے دل میں چور تھا اس لیئے  ان کی یہ بات سُن کر میری  تو گانڈ  ہی پھٹ گئی  چنانچہ  جلدی سے کوئی بہانہ بنا کر گھر سے باہر چلاگیا کہ اب میں رات کو ہی گھر آؤں گا ۔۔۔ ابھی میں اپنے گھر سے باہر ہی  نکلا  تھا کہ سامنے سے مجھے  ماسی پٹھانی  آتی ہوئی  دکھائی  دی ۔۔۔ مجھے دیکھتے  ہی  بولی ۔۔۔ ارے  بیٹا کہاں  رہ گئے  تھے تم ۔۔۔؟   میں نے تین چار دفعہ ارصلا کو بھیجا لیکن پتہ چلا کہ تم گھر پر نہیں ہو اور اب میں خود آئی تو تم کہیں جا رہے ہو ۔۔ اس کی بات سن کر پتہ نہیں میں کیا سمجھا اور بولا ۔۔ وہ ۔۔وہ ۔۔ ماسی ۔۔ میں ایک کام سے گیا  تھا ۔۔۔ تو وہ بولی چلو کوئی بات نہیں ۔۔ پھر میری طرف دیکھ کر بڑی شفقت سے کہنے لگی ۔تم  کافی پریشان سے  لگ رہے ہو ۔۔۔ بیٹا خیریت تو ہے نا ؟ ۔۔۔پھر کہنے لگی اگر کوئی ایسی بات ہے تو مجھے  بتاؤ ؟ اور اب میں اس کو کیا بتاتا کہ صبع اس کی چھوٹی بیٹی کے بھلیکھے  میں ،میں اس کی بڑی بیٹی کے ممے دبا بیٹھا  ہوں ۔اور ا س کی چوت پر بھی ہاتھ  لگا  بیٹھا   ہوں    ۔۔ اور  اب ڈر کے  مارے میری  گانڈ پھٹی  جا  رہی  ہے ۔۔لیکن نہ کہہ سکا اور کہا تو بس اتنا کہ نہیں ماسی ایسی کوئی بات نہیں ۔۔۔۔ اور پھر میں نے ان سے کہا حکم کریں ۔۔ماسی کہ   میں نے سنا ہے کہ آپ مجھے یاد کر رہیں تھیں ۔۔۔ ؟؟ تو وہ سر ہلا کر بولی  ہاں  بیٹا  اصل میں بات یہ ہے کہ  مرینہ کو ایک بڑے ہی  ضروری کام سے   ہمارے  رشتے دار کے گھر جانا ہے اور اس کے دا جی (والد صاحب) کے پاس ٹائم نہیں ہے جبکہ میں نہ تو   خود وہاں جانا چاہتی اور نہ ہی کسی بیٹے  یا بیٹی کو اس کے ساتھ ان رشتے داروں کے گھر  بھیجنا  چاہتی ہوں  اور مصیبت یہ ہے کہ اس کے دا جی اس کو اکیلا بھی نہیں جانے دے رہے تو ایسے میں ایک تم ہی مجھے نظر آئے جو کہ   جس پر بھروسہ  کیا جا سکتا ہے اور دوسرا یہ کہ تم بائیک بھی چلانا  جانتے ہو اس لیئے میں تمہیں مرمینہ کے ساتھ  لال کُڑتی   تک بھیجنا  چاہ  رہی تھی ۔۔۔مرینہ کے ساتھ جانے کا سُن کر  بے اختیار مجھے پنجابی کا  ایک محاورہ  یاد آ گیا  کہ  "موسیٰ ڈریا   موت کولوں تے موت  اگے کھڑی "۔۔۔۔۔۔۔ یعنی میں صبع سے جس خاتون سے بچتا  پھر رہا تھا  تقدیر مجھے اسی کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔  چنانچہ اب میں نے آخری چارے کے طور پر  ماسی کے سامنے تھوڑا سا ہیچر میچر کیا لیکن شاید ان کا بھی کام  کام ضروری تھا  ۔۔  اس نے میری ایک نہ سُن ی اور ۔۔۔ مرتا کیا نہ کرتا ۔۔۔ میں ماسی کے ساتھ اس کے گھر کی طرف چل پڑا۔۔۔۔۔۔


ماسی کے گھر پہنچ کر اس نے مجھے ڈرائینگ روم میں بیٹھنے کو کہا اور خود دوسرے کمرے میں چلی گئی تھوڑی ہی دیر بعد میرے سامنے مرینہ کھڑی تھی ۔۔۔ اور میں نے دیکھا کہ  مرینہ اور ارمینہ کا جسم ،   قد کاٹھ  بلکل  ایک جیسا تھا (تبھی تو صبع میں نے دھوکا کھایا تھا ) چہرہ   البتہ دونوں  کا  مختلف تھا جیسے ارمینہ کے گال قدرتی لال تھے اور مرینہ کے گال گورے تھے  ان میں لالگی  نہ ہونے کے برابر تھی اسی  طرح مرینہ  کی آنکھوں میں ایک شرارت ناچتی تھی اور ارمینہ کی آنکھوں میں گہری اداسی نظر آتی تھی   اسی طرح مرینہ کا چہرہ بیضوی تھا جبکہ ارمینہ کا قدرے لمبوترا تھا ۔ وغیرہ وغیرہ  ۔۔۔ مرینہ نے میری طرف ایک گہری نظر سے دیکھا اور ماسی سے بولی اچھا  تو اس لڑکے نے  میرے ساتھ جانا ہے  ؟ تو ماسی سر ہلا کر بولی ۔۔۔ ہاں یہی وہ معشوم (لڑکا) ہے  جو تمہارے ساتھ  جائے گا   اور پھر خود ہی کہنے  لگی ۔۔   بچارہ  بڑا  ہی  نیک  اور  اچھا  لڑکا  ہے پھر ماسی مجھ سے مخاطب ہو کر بولی بچہ جلدی سے  جا کر موٹر سائیکل سٹارٹ کرو   ۔۔ اور میں ڈرائینگ روم سے نکل کر   ان کے  برآمدے  میں آ گیا جہاں  ان کے دا جی کا  موٹر سائیکل  کھڑا تھا  اور اس پر  ایک بڑا  سا کپڑا  پڑا  ہوا  تھا میں نے وہ کپڑا  وہاں  سے  ہٹایا  اور بائیک کو کک  ماری   تو  وہ  پہلی  کک  پر ہی  سٹارٹ  ہو گیا   چنانچہ میں اس پر بیٹھ گیا اور اسے گرم کرنے کی نیت سے ہلکی ہلکی ریس دینے لگا ۔ کچھ دیر بعد جب مرینہ کمرے سے باہر  نکلی تو وہ سر تا پا   ایک بڑی سی چادر سے ڈھکی ہوئی تھی  اور اس  نے اپنے چہرے پر نقاب بھی کیا ہوا تھا ۔ وہ   چپ چاپ میرے پیچھے بیٹھ گئی اور میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولی چلو ۔۔! اور میں نے موٹر سائیکل چلا  دی  ماسی نے پہلے سے ہی دروازہ کھولا ہوا تھا ۔۔۔  میں موٹر سائیکل بھی چلا رہا  تھا اور اس بات پر بھی بڑا حیران  ہو رہا  تھا کہ میں نے اس کے ممے دبائے اور  اس نے ابھی تک مجھے  کچھ بھی نہیں کہا  اور نہ اس نے ابھی تک  میری کوئی  شکایت وغیرہ لگائی تھی  ۔۔۔  اس کی خاموشی  مجھے بُری طرح   چُبھ   رہی تھی ۔۔ اور میں  اندیشہ  ہائے دور دراز میں کھویا   بائیک چلا  رہا تھا ۔۔۔  جب ہم لیاقت باغ کے قریب  پہنچے  تو میں نے  پہلی دفعہ  مرینہ کی آواز سُنی وہ کہہ رہی تھی کہ ذرا   بائیک کو لیاقت باغ کے اندر لے چلو !۔۔۔ اس کی آواز سُن کر میں تھوڑا کنفیوز ہوا  اور بولا ۔۔۔ لیکن ماسی جی تو کہ رہی تھیں کہ ہم نے لال کڑتی جانا ہے ؟ تو میری بات سُن کر وہ بولی ۔۔ ہاں ہم نے جانا  تو لال کُڑتی  ہی  ہے ۔۔۔ لیکن   فی الحال   تم  بائیک کو     لیاقت باغ  لے  جاؤ ۔۔شام  کا  وقت تھا ۔۔ ہلکا  ہلکا  اندھیرا  چھا  رہا تھا جب ہم لیاقت باغ کے اندرنسبتاً  ایک ویران سےگوشے میں واکنگ   ٹریک کے ساتھ لگے  بینچ  پر جا کر بیٹھ گئے  ۔۔ اندر  سے  تو  مجھے  کچھ کچھ    اندازہ  تھا ۔۔۔ کہ چکر کیا ہوسکتا ہے ۔۔۔ لیکن پھر بھی بینچ  پر بیٹھتے  ہی میں  نے اس سے کہا ب ہم یہاں کیوں آئے ہیں باجی   ؟؟ ؟ میری بات سُن کر  تو وہ جیسے پھٹ پڑی اور بڑے ہی  زہر آلود لہجے میں بولی ۔۔ 



Contact Me For Secret Relation 
Email: farhanrajpoot129@gmail.com
Mobile Number: +923174537033 
Whatsapp: +923030275325

No comments:

Post a Comment