Breaking

اُستانی جی پارٹ 4


اب     میں نے اس کے دانے کی طرف جو نگاہ کی تو دیکھا کہ   ارمینہ کی چوت کا دانہ کافی پھولا ہوا تھا ۔۔۔۔ اور  رنگ میں ڈارک براؤن تھا  چنانچہ ارمینہ کی فرمائش پر  میں نے  اپنے منہ سے زبان  باہر نکالی اور اس  پھولے ہوئے دانے پر رکھ کر اسے چاٹنا شروع کر دیا ۔۔۔۔ جیسے ہی میری زبان ارمینہ کے دانے سے ٹچ ہوئی  ارمینہ کے منہ سے ایک سسکی نکلی اور وہ  جوش میں آ کر ُاٹھ کر بیٹھ گئی اور بڑے غور سے میری کاروائی دیکھنے لگی ۔۔ادھر کچھ دیر تو میں نے اس کی چوت کے دانے پر زبان پھیری پھر میں نے سر اُٹھا کر ارمینہ کی طرف دیکھا اور اس سے بولا ۔ ۔ ۔ ارمینہ جی ایک بات پوچھوں تو وہ قدرے نشیلی آواز میں بولی ضرور پوچھو !! تو میں نے اس سے کہا کہ کیا آپ کے شوہر بھی آپ کی چوت چوستے تھے تو وہ قدرے افسردگی سے
 بولی ۔۔۔ نہیں یار  وہ  پکا  پٹھان  ہے  اس نے کبھی بھی میری چوت کو نہیں چوسا ۔ ۔ ۔۔ تو میں نے اس سے کہا کہ وہ کیا پسند کرتا تھا تو ہو کہنے لگی اس کو تو بس دو ہی کام پسند تھے  تو میں نے پوچھا  وہ کون سے۔ ۔ ؟؟؟؟؟ تو وہ بولی ایک تو اپنا  ۔ ۔ وہ ۔۔ ۔ ۔چسوانا  اور دوسرا ۔ 


۔  ۔ وہ کہتے کہتے رُک گئی تو میں نے اصرار کے پوچھا دوسرا کام کونسا  اور پہلا کونساارمینہ جی ؟ تو وہ کہنے لگی دوسرا  وہی جو ہر پٹھان کو پسند ہے ۔ تو میں نے کہا وہ کون سا  ۔۔ تو وہ قدرے شرماتے ہوئے بولی  ۔ ۔ ۔ ۔ یار وہی ۔ ۔ ۔ گانڈ مارنا ۔۔۔۔ ۔۔ تو میں نے حیرانی سے اس سے پوچھا ارمینہ جی تو کیا وہ آپ کو آگے سے نہیں کرتے تھے ؟ تو وہ کہنے لگی یار آگے سے کرنے کے علاوہ اس کو یہ دو کام از حد پسند تھے تو مین نے اس سے کہا اب پہلا والا کام بھی بتا دیں پلیز ۔ ۔  تو  کہنے لگی تم پکے بدمعاش ہو تم کو سب معلوم ہے لیکن پھر میرے اصرار پر کہنے لگی ۔۔  ۔ وہ  سکنگ یار  ۔۔ یہ سُن کر میں نے اس
 کہا   ارنیبہ جی ۔ ۔ کیا آپ میرا    ۔ بھی  ۔ چوسو گی نا۔   ؟ تو وہ بلا تامل  کہنے لگی ہاں  میں تمھارا یہ موٹا اور لمبا سا۔۔۔۔ ضرور چوسوں گی ۔۔ پر اس سے پہلے تم جیسے میں کہتی ہوں میری چاٹو ۔۔ تو میں نے اس سے کہا  اوکے ۔۔ ارمینہ جی ۔۔۔ اور اس کی چوت پر سر جھکا دیا  پھر  وہ کہنے لگی اب تم ۔ ۔   اپنے ہونٹوں میں میرا یہ موٹا دانا لو اور اسے ایسے چوسو  جسے تھوڑی دیر پہلے تم میرے ممے چوس رہے تھے  اور میں نے ارمینہ کے کہنے پر اس کے دانے کو اپنے منہ میں لیا اور اسے چوسنے لگا ۔۔۔۔ اس کا دانہ بہت گرم تھا ۔۔۔ اور اس کے ساتھ ساتھ اس کی چوت سے بڑی ہی مست سمیل  بھی آ رہی تھی ۔۔۔ وہ مجھے  اپنی چوت کا دانہ چوستے  ہوئے دیکھ رہی تھی اور اس کے ساتھ ساتھ اپنی انگلیوں سے میرے  بالوں  میں  کنھی  بھی کرتی جا رہی تھی اور  وقفے وقفے سے سسکیاں بھی لیتی جا رہی تھی ۔آہ ہ ہ ۔۔۔ اُف ،ف،ففف  ۔۔۔ اوہ ۔۔۔۔ پھر کچھ دیر بعد میں نے اس کی آواز سُنی وہ اپنی مست آواز میں کہہ رہی تھی ۔۔۔۔  دانہ چوسنے کے ساتھ ساتھ اپنی  دو انگلیاں بھی  میری پھدی میں بھی ڈال دو  ۔۔۔ اور پھر میں نے جیسے ہی اس کی گرم پھدی میں اپنی دو  انگلیاں ڈالیں وہ ایک دم سے تھرا کر رہی گئی اور بولی ۔۔آہ ۔ ۔ ۔ ہ ہ ۔۔ فاسٹ ۔۔۔ فاسٹ ۔۔۔  اپنی انیوے ں کو   تیزی سے میری پھدی کے اندر باہر کرو اور میں نے ایسا  ہی کیا تو وہ ایک لمبی سی سسکی لیکر بولی ۔۔۔ ش ش ش۔۔ شاباش بچے تم بہت اچھے جا رہے ہو ۔ ۔ 


۔ ۔پھر کچھ دیر
 بعد وہ مجھ سے بولی اب اپنے منہ سے میرا دانہ ہٹا دو ۔ ۔ ۔ اور میں نے اسکے دانے  کو منہ سے باہر نکال لیا اور بولا اب کیا کروں تو وہ کہنے لگی ۔ ۔ ۔  اب تم میری پھدی چاٹو ۔ ۔  ۔ اور اپنے رانوں کو مزید کھول کر بولی اپنی زبان یہاں ۔ ۔ ۔ ( پھدی کے اینڈ کی طرف اشارہ تھا )  پر رکھو    ۔ ۔اور پھر کہنے لگی اس سے پہلے تم اپنی دونوں انگلیوں سے میری پھدی کے لب کھولے کرو ۔ ۔ اس کی بات سن کر میں نے انے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں سے اس کی چوت کے لبوں کو ممکن حد تک کھلا کیا اور ۔ ۔ ۔ اب ارمینہ کو پھدی کا اندرونی حصہ میری نظروں کے  سامنے تھا  میں نے ایک نظر ارمینہ کو دیکھا اور پھر اپنی زبان اس
 کی چوت کے اندرونی حے  پر رکھ کر اسے چاٹنا شروع کر دیا ۔اس کی چوت کی دیواریں  سالٹی سے پانی سے اٹی پڑیں تھیں میں نے آہستہ آہستہ ان دیواروں کو اپنی زبان سے صاف کرنا شروع کر دیا  ۔ ۔  کچھ ہی دیر بعد ارمینہ گہرے گہرے سانس  لیتے ہوئے ایسے تڑپی کہ جیسے جل بن مچھلی  ۔۔۔۔ اوراس نے بڑی سختی سے میرا سر پکڑ لیا اور خود اپنی پھدی کو میرے منہ پر رگڑنے لگی ۔۔۔ پھر  کچھ ہی دیر بعد   اس  کا  سارا  وجود  کانپا اور ۔۔۔ اس کی پھدی سے سالٹی سا  پانی بہنے لگا جو سیدھا میرے منہ میں جا رہا تھا اور میں نہ چاہتے ہوئے بھی اس پانی کو اپنے منہ  میں لینے پر اس لیئے  مجبور تھا کہ اس نے میرے سر کوبڑے ہی   زور سے اپنی پھدی پر دبایا ہوا تھا ۔۔۔  پھر کچھ دیر بعد ا نے میرا سرسے اپنے ہاتھ ہٹا لیئے اور تیز تیز سانس لینے لگی ۔۔۔۔
اس  کو تیز تیز سانس لیتے دیکھ میں سیدھا لیٹ گیا اور جب اس کے سانس کچھ بحال ہوئے  تو میں نے  اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے  تنے ہوئے لن پر رکھ دیا ۔ ۔  ۔ میرے لن پر اپنا ہاتھ پڑتے ہی جیسے اس کو ہوش آ گیا وہ فوراً نیچے میرے لن پر جھکی اور  اپنے منہ سے زبان نکال کر میرے ٹوپے پر پھیرنے لگی ۔۔۔اور اپنی زبان کو میرے ٹوپے کے چاروں طرف گول گول گھمانے لگی  اور پھر اس نے میرے ٹوپے کو اپنے منہ میں لے لیا اور اپنے ہونٹوں  میں لیکر  اس کو چوسنے لگی ارمینہ کا یہ انداز اس قدر دلکش تھا کہ میں اونچی آواز میں سسکیاں لینے لگا ۔۔ آہ ہ ہ۔ ۔ ہ ۔ ہ ۔ ۔۔۔ اُف فف۔ف۔ف۔ اور لن پہلے سے زیادہ تن گیا
 لیکن وہ اس بات سے بے نیاز مسلسل لن کو چوسے جا رہی تھی ۔۔۔ تھوڑی دیر بعد اس نے اپنے منہ سے میرا لن نکالا اور   مجھے متوجہ کر نے اپنی زبان کی طرف اشارہ کرنے لگی اب میں نے اس  کے اشارے  کی طرف دیکھا  تو اس نے اپنی لمبی سی زبان اپنے منہ سے کافی باہر نکالی ہوئی تھی اور اس کی زبان کی نوک پر میری مزی کا ایک موٹا سا قطرہ پڑا ہوا تھا جواس نے مجھے دکھانے کے بعد اپنےمنہ کے اندر لے گئ اور وہ قطرہ نگھل لینے  کے بعد مجھ سے بولی تمھارے لن بہت مزی چھوڑ رہا ہے ۔


۔۔ تو میں نے اس سے پوچھا آپ کو کیسی لگتی ہے یہ مزی ؟ تو وہ کہنے لگی زبردست ۔۔۔ مجھے یہ بڑی پسند ہے اور ایک
 بار پھر نیچے جھک گئی اور میرا لن پر اپنی زبان پھیرنے لگئی اور ایک بار پھر میرے منہ سے سسکیوں کا طوفان نکلنے لگا  کچھ دیر تک میرا لن چوسنے کے بعد وہ نیچے لیٹ گئی اور بولی ۔۔۔ میرے اوپر آؤ ۔ ۔ ۔۔ اور میں ارمینہ کی دونوں ٹانگوں میں جا کر گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا  اس نے جلدی اے اپنی ٹانگیں میرے کندھوں پر رکھ دیں اورپھر اپنا ہاتھ بڑھا کر میرے  لن کو پکڑ لیا پھر اس نے  اپنے منہ سے تھوڑا  سا تھوک   اپنے منہ  سے نکال کر ا پنے بائیں ہاتھ  کی تین انگلیوں پر لگایا اور میرے ٹوپے پر مل  دیا ۔۔۔ پھر لن کو اپنی چوت کے لبوں پر رکھا اور کچھ دیر وہاں رگڑتی رہی  اور
 پھر اس نے میرا ٹوپے کو چوت کے آخر میں رکھ دیا اور بولی  ۔۔۔۔ دھکا لگا ۔۔۔ میری جان ۔۔۔۔ اور میں نے  تھوڑا پیچھے ہو کر ایک ہلکا سا دھکا لگایا تو لن تھوڑا  کھسک کر   اس کی  ٹائیٹ    چوت  میں چلا گیا ۔ ۔ ۔ ۔ اس نے ایک لزت آمیز سسکی بھری ۔۔۔ آہ ہ ہ ہ ۔  اور بولی  ۔۔ ۔ ۔بڑا موٹا  لن ہے تمھار ا۔۔۔ ۔۔ اس کی یہ لزت آمیز سسکی کی آواز سُن کر میں نے ایک اور  زور دار دھکا لگایا  تو لن ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھلستا ہوا اس کی چوت کی آخری دیوار سے جا ٹکرایا اور  ۔۔۔ اس کے ساتھ ہی آرمینہ کے منہ سے ایک زور دار چیخ برآمد ہوئی ۔۔۔۔ وئی وئی مورے ۔۔ اس لڑکے نے میری چوت پھاڑ دی  ۔ ۔ ۔۔ ۔۔  اس کی بات سن کر  میں نے  اس کی چوت میں دھکے  لگانا  سٹارٹ کر دئےچ۔ ۔ ۔ اور لن اندر باہر کرنے لگا ۔۔۔ اس کی چوت اندر سے بڑی ہی تنگ اور پانی سے بھری ہوئی تھی  ۔  ۔ ۔ جیسے ہی
 میں دھکا مارتا وہ  ایک دلکش چیخ  کے ساتھ میرا حوصلہ بڑھاتی  اور کہتی ۔ ۔ ۔۔  زور سے میری جان  ۔۔ آج میری چوت کو پھاڑ دو ۔ ۔ ۔ ۔ اور پھر میں بھی جوش میں آ گیا اور پھر نان سٹاپ دھکے پے دھکا مارنے لگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور مارتا گیا وہ چیختی گئی اور مجھے ہلا شیری دیتی گئی ۔۔۔۔۔۔ اور ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر آخر وہ ٹائم بھی آ ہی گیا جب ۔۔۔۔  میں نے محسوس کیا کہ ۔۔۔ میں اس کے بعد ۔۔۔ اور دھکے نہیں مار سکوں گا ۔۔ اور میں نے  دھکوں  کو روک دیا ۔۔۔۔ یہ دیکھ کر وہ مجھ سے بولی کیا ہوا ؟ تو میں نے کہا میرا خیال ہے کہ میں بس ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ سنتے ہی وہ کہنے لگی ۔۔۔ اوکے ۔۔۔




 میں بھی بس کچھ ہی دھکوں
 میں جانے والی ہوں پھر اس نے میرے کندھوں سے اپنی ٹانگیں نیچے کیں اور فوراً   ہی ڈوگی سٹائل میں ہو گئی اور بولی ۔۔۔ آخری گھسے فل سپیڈ سے مارنا ۔اورمیں ارمینہ کے پیچھے آ گیا اور لن اس کی چوت پر رکھ کر ایک زور دار گھسا مارا ۔ اور پھر  مارتا گیا ۔۔۔ مارتا گیا ۔۔۔۔۔ یہاں تک کہ مجھے لگا کہ میری ٹانگوں کا سارا خون ایک جگہ جمع ہونے لگا ہے ۔۔۔۔۔ اور میں ۔۔ ۔ ۔ ۔ نے ایک زور دار گھسہ مارا ۔۔۔   یہ میرا گھسہ ۔ ۔ ۔آخری   گھسہ ۔ ۔ثابت ہوا اور اس کے ساتھ ہی میرے لن سے منی نکل نکل کر ارمینہ کی چوت میں گرنے لگی ۔۔۔ ادھر ارمینہ کے سانس بھی تیز ہوئے اور اس کی چوت نے  میرے لن  کو چاروں طرف سے جکڑ لیا  ۔۔۔۔۔  اور وہ اپنا نچلا حصہ میرے نچلے حصے کے  ساتھ جوڑ کر بولی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چھوٹ میری جان ۔ میراے اندر چھوٹ ۔۔  اور اس کے ساتھ ہی  اس کا جسم بھی ۔۔ کپکپایا ۔۔۔ تھرتھرایا۔۔ اور اس نے ایک زور دار چیخ ماری ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ آہ ۔۔۔۔۔۔ میں گئی ۔ئ ئ ئ ۔۔۔   اور اس کے ساتھ ہی اس کی چوت سے گرم  گرم پانی بہہ   کر میریے لن  سے ہوتا ہوا   باہر نکلنا  شروع ہو گیا  اور یہ گرم گرم  پانی   میرے لن کو مزید گرم کرنے لگا ۔۔۔ کچھ دیر بعد جب ہم مکمل چھوٹ گئے تو وہ پیچھے مڑی اور مجھے اپنے گلے سے لگا لیا اور میرا منہ ۔۔چومتی گئی ۔۔۔چومتی گئی ۔۔۔چومتی گئی…………..
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔


Contact Me For Secret Relation 
Email: farhanrajpoot129@gmail.com
Mobile Number: +923174537033 
Whatsapp: +923030275325

No comments:

Post a Comment