ہیلو دوستو کیسے ہیں آپ ؟ میں ھوں آپ کا دوست شاہ جی ۔ دوستو میں اردو فانٹ میں لکھنا سیکھ رہا ہوں ۔ تو سوچا ٹرائ کے لیۓ کیوں ناں میں اپنی رومن سٹوریز کو اردو کے قالب میں ڈھالوں اس ﷽طرح ٹرائ بھی ھو جاۓ گی اور میری سٹوری بھی اردو کے قالب میں ڈھل جاۓ گی اور پھر جب میرا ھاتھ اس کام میں رواں ہو جاۓ گا تو سلسلہ وار کہانی شروع کر دوں گا اس سے قبل آپ میری سلسلہ وار کہانی"
فرینڈز باجی "کے نام سے پڑھ چکے ھیں-
اب ہم سٹوری کی طرف آتے ھیں – ایک اور بات وہ یہ کہ ترجمہ کرتے وقت میں نے اس سٹوری میں تھوڑی کمی و بیشی بھی کی ھے جو امید ھے کہ آپ کو اچھی لگے گی ۔
یہ تب کی بات ہے جب میں نیا ینا جوان ہوا تھا اور میٹرک کا امتہان دے کر فارغ ہوا تھا میں فریش تو
تھا پر تب تک بہت ساری چوتوں کا مزہ لے
چکا تھا اور مُٹھ تو روزانہ کا کام تھا ھی- امتہان کے فوراً بعد میرے کزن کی شادی آ گیء تھی اور ھم مہ فیملی گاوءں چلے گۓ – اور وہاں شادی پر خوب ھلہ گلا کیا – گاؤں میں میرے انکل زمان بھی اپنی فیملی کے ساتھ لا ہور سے گاؤں آۓ ھوۓ تھے – اور اُن کا لڑکا آصف میرا ہم عمر تھا اور وہ بھی میری طرح فری تھا-چنانچہ شادی کے ھلے گلے میں اُ س نے پوری طرح میرا ساتھ دیا – جس کا رزلٹ یہ نکلا کہ شادی کے اختتام تک ھم بڑے اچھے دوست بن چکے تھے چنانچہ شادی کے بعد اس نے اور اُس کے ساتھ ساتھ زمان انکل اور اُن کی بیگم ندا آنٹی نے بھی مجھے اپنے ساتھ لاہور چلنے کی آفر کی اور بولے تم آج کل فری ہو چلو تم کو لاہور کی سیر کرواتے ھیں کچھ ہچکچاہٹ کے
بعد میں اس شرط پر راضی ہوا کہ گھر والوں سے اجازت آپ لیں گے اور یہ کام اُنہوں نے بڑی آسانی کر لیا
اور اس طرع میں شادی کے فوراً بعد ان کے
ساتھ لاہور چلا گیا
اسی دن صبع کو ہم گاوں سے چلے تو رات کو ہم لاہور پہنچ گۓ ان کا گھر کافی اچھا خوب صورت اور دو منزلہ تھا جہاں انکل اور آنٹی گھر کے گراءونڈ فلور پر رہتے تھے جبکہ آصف اوراس کی بڑی بہن آسیہ گھر کے فرسٹ فلور پر رہتے تھے – میں نے وھاں خوب انجواۓ کیا اور انہوں نے تھوڑے ھی
دنوں میں مجھے لاہور کی کافی سیر بھی کروا دی۔
ایک دن با توں باتوں میں آصف بولا یار پتہ نہیں کیوں آج صبع سے ہی مجھے دادا دادی بڑے یاد آ ر رہے ھیں اس پر آسیہ بولی یار آصف تم نے تو میرے منہ کی بات چھین لی ہے قسم سے میرا بھی بڑا جی کر رہا تھا ان سے
ملنے کو اور پھر بیٹھے بیٹھے ان دونوں کا وہاں جانے کا پروگرام بن گیا- اسی دوران ان کو میرا بھی خیال آ گیا اور انہوں نے مجھے بھی ساتھ
چلنے کو کہا لیکن پتہ نہیں کیوں میرا وھاں جانے کا مُوڈ نہ بنا سو میں نے ان کے ساتھ وہاں جانے سے صاف انکار کر دیا – تب آصف نے مجھ سے پوچھا کے ھمارے
جانے کے بحد تم اُوپر اکیلے سو جاوء گے ؟ تو میں نے جواب دیا کہ میں
اکیلا نہیں سو سکتا کہ اکیلے میں مجھے ڈر لگتا ھے اس پر ںدا آنٹی
بولی کوئ بات نہیں اگر تم کو ڈر لگتا ھے تو تم ھمارے ساتھ والے رُوم میں
سو جانا
سو اس طرح اُس رات میں آنٹی کے ساتھ والے روم میں سویا ۔
اس کمرے کی خاص بات یہ تھی کہ اس کمرے اور آنٹی کے کمرے کا باتھ روم مشترکہ تھا- اب میں آپ کو ندا آنٹی کا تھوڑا سا تعارف کروا تا ہوں ۔ ندا آنٹی گورے رنگ کی ایک بھرے بھرے جسم کی مالک خاتون تھئ قد اچھا تھا اور گانڈ اور ممے بہت بڑے تھے- غرض یہ کہ آنٹی ایک چلتی پھرتی قیامت تھی لیکن اس سے قبل نا انہوں نے نا میں نے کھبی ایک دوسرے کو ایسی نطروں سے دیکھا تھا پر وہ دیکھنے میں مجھے ہمیشہ ہی بڑی اچھی لگتی تھی خاص کر ان کی موٹی گانڈ پر میں دل و جان سے فدا تھا ۔۔وہ بھی دل ہی دل میں ورنہ ان کے سامنے ایسی کوئ بات نہ تھی – ہاں تو میں بتا رہا تھا کہ آدھی رات کا وقت تھا کہ مجھے بڑے زور سے پیشاب کی حاجت محسوس ہوئ اور میری آنکھ کھل گئ اور
میں اس پریشر کو ریلز کرنے کے لیۓ فوری طور پر واش روم چلا گیا
اور
جیسے ھی میں واش روم میں داخل ھوا مجھے آنٹی کے روم سے پلنگ کی
چرچراہٹ اور سسکیوں کی مخصوص آوازیں سنائ دیں ان آوازوں سے میری
بڑی اچھی شناسائ تھی اور میں سمجھ گیا کہ اندر آنٹی انکل کا چودائ سین چل رہا ہے چنانچہ جیسے ہی میرے کانوں نے یہ آوازیں سنی
میں پیشاب کرنا بھول گیا اور اگلے ہی لمحے میں ان کی چودائ کا منظر دیکھنے کے
لیۓ ان کے روم کی طرف بڑھا اور جیسے ھی میں نے آنٹی کے روم کے
دروازہ پر ھاتھ رکھا تو خوش قسمتی سے وہ تھوڑا سا کھلا ھوا تھا ۔
اندر کا منظر دیکھ کر میرا جی خوش ھو گیا کہ منطر ھی بڑا دلکش تھا ندا
آنٹی فل ننگی پلنگ پر لیٹی تھی اور اس کےاوپر انکل زمان چڑھے ھوۓ تھے اور وہ آنٹی
کے موٹے موٹے ممے چوس رہے تھے اور ساتھ ساتھ ان کی ایک انگلی آنٹی کی چوت میں بھی
گھوم رہی تھی کچھ دیر بعد انہوں نے آنٹی کا نپل اپنے منہ سے باہر
نکلا اور انھوں نے آنٹی کے موٹے ممے اپنے دونوں ھاتھوں میں
پکڑ لیۓ اور انکو زور زور سے پریس کرنے لگے - اس کے ساتھ ھی آنٹی نے اور اونچی آوازوں
میں کراہنا شروع کر دیا آہ ہ ہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔آہ ۔۔۔۔اور ۔۔۔۔۔زور سے
دباؤ نا میری جان ۔۔۔۔۔۔۔۔مزہ آ۔۔۔رہا ھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اُف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اورآنٹی کی یہ مست آوازہں سن کر انکل مزید
زور سے آنٹی کے ممے دبانے لگے ۔۔۔
کچھ دیر تک انکل ایسے ھی کرتے رہے پھر وہ اٹھے اور پلنگ پر لیٹ کر بولے
" "ندا اب تم میرا لن چوسو" جون ہی انکل پلنگ پر لیٹے تو میری نطر ان کے لن پر پڑی ۔۔۔سوری اسے لن کہنا لن سے مزاق تھا انکل کی تو چھوٹی سی للی تھی ۔۔پتلی اور باریک سی جسے وہ آنٹی کو منہ میں لینے کو کہ رہے تھے " پر انٹی نے ان کا لن چوسنے سے انکار کر
دیا اور بولی " نہیں جانو اس طرح آپ جلدی چھوٹ جاؤ گے" اس پر انکل بڑی لجا جت سے بولے پلیز
ڈارلینگ میرا بڑا دل کر رھا ھے کہ تم میرا لن اپنے منہ میں ڈالو۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور آخر کار
انکل کے بے حد اصرار پر آنٹئ ان کے پاس جا کر بیٹھ گئ اور انہوں نے انکل کا لن اپنے ھاتھ میں پکڑا اور برا سا منہ بنا کر مُٹھ مارنے لگی یہ دیکھ کر
انکل بولے ۔۔۔۔ندا۔۔۔۔۔۔مُٹھ نہیں پلیز ۔۔۔۔ منہ میں ڈالو نا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب چار و ناچار ندا آنٹی اپنا منہ انکل کے لن پر لے گیء اور زبان نکال کر ٹوپے پر پھیرنے لگی ۔۔۔۔جب آنٹی نیچے جھکی تو میری نطر ان کی گانڈ پر پڑی۔۔۔۔واہ۔۔۔کیا مست گانڈ تھی اسے دیکھتے ھی میرا لن بری طرح سے کھڑا ہو گیا-پھر انٹی نے انکل کا پورا لن منہ میں ڈال لیا اور اسے اچھی طرح چوسنے لگی جیسے ھی آنٹی نے انکل کا ننھا سا لن پورا منہ میں لیا میرے بڑے سے لن نے مجھ سے فریاد کی اور بولا ۔۔ میرا بھی کچھ کر سا لے ۔۔۔۔پر میں اس کا کیا کر سکتا تھا۔۔؟؟؟
سواۓ ھاتھ میں پکڑ کر مسلنے کے۔۔۔۔سو وہ میں نے کیا اور لن کو ھاتھ میں پکڑ کر دبانے لگا ۔ اُدھر انکل اپنے لن پر آنٹی کے نرم ہونٹ محسوس کر کے مستی سے کراہ رہے تھے ۔۔۔۔۔۔ آہ ہ ہ ہ ۔۔۔۔۔۔ ندا تم بہت اچھا لن چوستی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔اُف ف ف۔ف۔ف۔ف۔ف۔۔۔۔۔میری جان مزہ آ گیا- بلا شبہ آنٹی کا لن چوسنے کا انداز بڑا ھی زبردست تھا جسے دیکھ کر میں اور بھی گرم ہو گیا ۔۔۔اور۔۔۔لن۔۔۔مت پوچھو دوستو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لن تو اتنا ۔۔بس ۔۔اتنا مست ہو گیا تھا کہ ۔۔۔۔۔۔۔ اور اتنا اکڑ گیا تھا کہ ۔۔۔۔۔۔ مجھے اپنے لن میں درد ہوتا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔او ر میں سوچ رہا تھا کہ آنٹی کتنا زبردست لن چوستی ھے اُ ن کو لن چوستے دیکھ کر میرا یہ حال ہو رہا ھے تو انکل کی حالت کیا ہو گی؟؟؟
۔۔۔۔۔ آنٹی ایسے ھی 2،3 منٹ تک انکل کا لن چوستی ر ہی ۔"۔۔۔۔اور پھر اچانک انہوں نے اپنا منہ لن سے ھٹایا اور بولی" بس" اس سے زیادہ میں نہیں چوسوں گی تو انکل بولے تھوڑا سا اور چوسو کہ بڑا مزہ آ رہا تھا ۔۔۔۔لیکن آنٹی نہ مانی۔۔۔ اور پلنگ پر لیٹ گئ اور بولی بڑی ادا سے بولی ۔۔۔۔۔۔ . مجھے ۔چودو نا۔۔۔ جان۔۔۔۔۔۔۔
یہ سُن کر انکل بیڈ سے اٹھے اور آنٹی کی ٹانگوں کے درمیان آ گے اور آنٹی سے بولے ایک دفح اور چوس لیتی تو کیا بات تھی ۔۔پر آنٹی نے ان کی یس بات کا کوئ جواب نہ دیا بس ٹانگوں کو تھوڑا اٹھا دیا یہ یو با ت کا سگنل تھا کہ اندر ڈال۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب انکل نے اپنے لن پر تھوڑا سا تُھوک لگایا اور آنٹی کی ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھ کر ھلکا سا دھکا لگایا اور آئ تھنک لن انٹی کی چوت میں اتر گیا تھا ۔۔۔۔۔کیونکہ میں نے آنٹی کی ہلکی سی کراہ سنی تھی وہ کہ رہی تھی ۔۔۔۔۔آہ۔۔۔۔۔۔آہ میری جان زور سے دھکا مار نا۔۔۔۔۔۔ یہ سن کر انکل نے اپنے دھکوں کی رفتار تیز کر دی اور زور زور سے لن کو آنٹی کی چوت میں اندر باہر کرنے لگے۔۔۔۔ اور پھر 7،8 دھکوں کے بحد ہی انکل ایک دم چیخے۔۔۔۔۔۔۔۔آو۔۔آو۔۔و۔۔و۔و۔وو۔و۔و۔۔و۔۔۔ ان کی یہ اواز سنتے ھی آنٹی ان کے نیچے سے چلائ ۔۔۔۔نہیں ۔۔۔پلیز۔۔۔نہیں ۔۔۔۔۔۔ ابھی نھیں ۔۔۔۔۔ زمان مجھے اور لن چایۓ ۔۔۔۔ میں نے ابھی اور چدوانا ھے ابھی تو میری پھدی گرم ہوئ ھے ۔۔۔۔۔۔۔پلیز۔۔۔ جان۔۔۔۔ پر انکل نے آنٹی کی بات سنی ان سنی کر دی اور تیز تیز دھکے مارتے رہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور پھر اگلے ھی لمحے ان کی کافی اونچی اواز سنائ دی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ندا۔۔ا۔ا۔ا۔ا۔ا۔ا۔اا۔۔ا۔۔ا۔۔ا۔ا۔۔ا۔۔۔۔ میں جا۔۔۔رہا ہوں اور یہ کہتے ہوۓ وہ آنٹی کے اوپر ہی لیٹ گۓ اور جھٹکے لینے لگے اور انہوں نے اپنی ساری منی آنٹی کی چوت میں ھی چھوڑ دی۔۔۔۔۔
Contact Me For Secret Relation
Email: farhanrajpoot129@gmail.com
Mobile Number: +923174537033
Whatsapp: +923030275325

No comments:
Post a Comment