Breaking

یہ بُخا ر نہیں ہے آنٹی جی پارٹ 2


   اُس   ٹائم   میں نے آنٹی کو دیکھا  تو وہ بڑی اپ سیٹ نظر آ رہی تھی ۔۔۔۔ پھر میں نے ان کی غصوے سے بھری آواز سنی ۔۔۔ وہ کہ رہی تھی یہ تم نے کیا  کیا زمان ؟؟؟ ۔۔۔۔۔ مجھے تمھارا  لن   مزید  لینا   تھا  ۔  دیکھ لو  تم نے پھر وہی    حرکت  کی ہے نا۔۔۔۔۔ منح بھی کیا تھا کہ لن نا    چوسواؤ۔۔۔۔ پر تم کسی کی سنتے کب ہو۔۔۔۔ آنٹی کی ڈانٹ سن کر انکل نے ایک کھسیانی سی ھنسی  ھنس کر بولے ۔۔ کوئ با ت نہیں ڈارلنگ  میں کل زیادہ  ٹائم  لگا دوں گا۔۔۔۔ یہ سن کر آنٹی آگ بگولہ  ھو گئ اور بولی ٹائم  کے بچے مجھے ابھی لن چاہۓ اور تم کل کی بات کر رہے ہو۔۔۔ آنٹی کی بات سن کر انکل دوبارہ کھسیانی ھنسی ھنس کر بولے " انگلی  مار دوں"   
   یہ سن کر آنٹی کو مزید غصہ آ گیا اور  تقریباً چلا کر بولی ۔۔۔۔بہن چود ۔۔۔ حرامی ۔۔۔۔۔ سالے۔۔۔۔ تم ہمیشہ ایسے  ہی  بہانے بناتے  ہو۔۔۔۔ اور پلنگ سے اُٹھ کر کپڑے   پہننے  لگی –
 یہ دیکھ کر میں وہاں سے بھاگا  اور جا  کر بیڈ  پر لیٹ  گیا  لیکن  نیند  میری آنکھوں سے کوسوں  دور تھی  میں بہت  زیادہ  گرم ہو چکا  تھا  اور میرا  لن میرے پاجامے  میں کھڑا تھا اور  بیٹھنے کا نام ھی نہیں لے رہا تھا  گرمی سے میرے ہونٹ خشک ہو رہے تھے اور میں ھلکا  ہلکا  کانپ  بھی  رھا   تھا میرا حلق بھی  خشک ہو  رہا تھا اور میں لن کو ہاتھ    میں  پکڑے اسے   مسلسل  دبا  رھا  تھا  میں نے سوچا  چلو  مُٹھ   مارتا شاید کھچھ سکُون    مل جاۓ  ۔۔ پر  مُٹھ سے پہلے مجھے سخت  پیاس  لگ  رہی   تھی  چنانچہ   میں  ٹھنڈا  پانی  پینے کے لیۓ  کچن کی طرف  چلا گیا اور پھر ٹھنڈے پانی کی بوتل کے لیۓ  جیسے ھی میں نے   فرج   کا  دروازہ    کھولا  مجھے ندا آنٹی  بھی  کچن کی طرف  آتی     دکھائ  دی     اُنہوں نے  بھی مجھے    دیکھ  لیا  تھا  سو جیسے ھی وہ میرے پاس  آئ اور بڑے خوشگوار لہجے میں  بولی ھیلو شاہ    جی  کیا ہو رہا ھے ؟  میں  نے ندا آنٹی کے سوال کا کوئ  جواب نا  دیا اور چپ  رہا کہ اس وقت  میری حالت  کافی  خراب تھی میری  آنکھیں اور چہرہ بہت  سُرخ  ہو رہے تھے اور میں  جزبات  کی وجہ سے ہولے ہولے کانپ بھی   رہا تھا میری ساری باڈی    ہیٹ کی وجہ سے  بہت  تپ رہی تھی ۔۔ آنٹی نے جو میری حالت دیکھی  تو وہ یہ  سمجھی  کہ میں بخار کی وجہ سے  تپ رہا ہوں – وہ آکے  بڑھی اور اپنا ایک ہاتھ میرے ماتھے پر رکھ کر بولی۔۔۔۔۔۔او۔۔۔۔۔ شاہ جی تم کو تو بڑا سخت  بخار  ھے

 اور تمہارا  جسم بخار کی وجہ سے تپ رھا ھے اور یہ کہ کر انہوں نے میرا ھاتھ  پکڑا  اور مجھے بیڈ روم میں لے گئ  اور مجھے بستر پر لٹا کر بولی  تم لیٹو  میں تمھارے لیۓ دوائ وغیرہ   لے کر آتی ہوں یہ کہا اور  دوائ لینے کے لیۓ چلی  گئ    کچھ   دیر بعد جب وہ واپس آی تو  ان کے ہاتھ  میں کچھ  گولیاں اور پانی کا گلاس تھا وہ میرے پاس آی اور بولی     اُٹھو  بیٹا  یہ  دوائ کھا لو  اور مجھے ہاتھ سے پکڑ کر  اٹھا لیا  ۔  اور میرے ساتھ پلنگ پر ہی  بیٹھ  گئ میں نے ان کے ہاتھ سے گولیاں لیں اور وہ تھوڑا میری طرف جھک گئ اور پانی کا   گلاس  میرے منہ سے لگا  دیا-
  گرمیوں کے  دن  تھے  اور آنٹی  نے  باریک سا لباس  پہنا ہوا تھا اُس پر قیامت  یہ کی ان کی  قمیص  کا گلا  کچھ  زیادہ  ھی کھلا  تھا  میں جو  پہلے ھی سیکس    کی آگ میں جل رہا تھا  اور اب اُن کے یوں نزدیک بلکل میرے پاس  بیٹھنے سے میرا حال مزید  بے حال ہوتا جا رہا تھا   چنانہ جب انہوں نے   جھک کر پانی کا گلاس میرے منہ   سے  لگایا  تو  میری نطر  ان کے شفاف بدن پر تھی ان کے اس طرح جھکنے سے مجھے  ان  کے موٹے ممے  اس قدر صاف اور واضح نظر  آۓ کہ مجھے خود پر قابو رکھنا مشکل ہو گیا چنانچہ  میں نے اپنا  لن اُن کی کمر کے ساتھ   ٹچ  کر دیا لکین  وہ میری صحت کے بارے  میں اتنی فکر مند تھیں کہ ان کو محسوس ہی نہ ہوا کہ  میرا لن ان کی کمر کو ٹچ کر رہا ہے  چنانہ انہوں نے   اس ٹچ  کا  کوئ نوٹس نہ لیا  لیکن جب میں نے اپنا لن    اُن کے ساتھ  دوسری ۔۔۔۔۔ پھر  تیسری دفحہ ٹچ کیا تو وہ تھوڑا  سا  چونکی  اور پھر جوں ہی اُنہوں نے گردن موڑ کر پیچھے کی طرف دیکھا  تو ۔۔۔۔۔۔ وہاں ایک  موٹا  اور  بڑا  سا  لن  مست ہاتھی کی طرح  پاجامے میں  لہرا رہا تھا   میرے لن کا سائز ۔۔  لمبائ ۔۔  موٹائ یہ  سب دیکھ کر وہ ہکا بکا رہ گئ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور بے اختیار ہو کر  بولی ۔۔۔۔   اوہ۔۔۔اوہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اوہ۔۔  میں نے دیکھا کہ حیرت کی وجہ سے  ان کی آنکھیں  ڈھیلو ں سے باہر نکلی ہویئں  تھیں اور وہ متاثر کُن نطروں سے لہراتے ہوۓ لن کو  مسلسل دیکھے جا رہی تھیں ( بحد میں انہوں نے مجھ  سے  اس بات کا  اعتراف بھی  کیا تھا کہ وہ ایک چھوٹے سے لڑکے سے اتنے بڑے لن کی توقع نہیں کر رہی تھی) وہ کبھی مجھے اور کبھی میرے لن کو دیکھتی اور اپنے خشک ہونٹوں کو تر کرنے کے لیۓ  ان  پر زبان پھیرتی جا رہی تھی ۔۔۔ اُ ن کا چہرہ جزبات کی وجہ سے سُرخ ھو رہا تھا اور اُن کو کچھ سمجھ نھیں آ رہا تھا کہ وہ میری اس حرکت پر کیا ری ایکٹ کرے۔۔۔۔۔ کیونکہ  تھوڑی دیر قبل  وہ خود بھی اس آگ میں جل چکی تھی ۔۔۔۔ اور میرا لن دیکھ کر اُن کے جزبات میں اُتھل پتھل ہو چکی تھی جس کا ثبوت اُن کا سُرخ چہرہ اور خشک ہونٹ تھے۔ جب وہ لن کی طرف دیکھتی تو ان کا دل کرتا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کچھ کر لیں پر جب میری طرف دیکھتی   تو وہ سوچ میں پڑ جاتی کہیں ایسا نا ہو جاۓ کہیں ویسا نہ  ہو جاۓ 
غرص کی وہ ایک دوراہے کر کھڑی نظر آ رہی  تھی ۔۔۔۔

اُن کے یہ  تائثرات  دیکھ  کر میں نے ہی کچھ کرنے کی ٹھانی  ویسے بھی عورت ہونے کی وجہ سے وہ پہل نہ کر سکتی تھی اور میرا یہ حال تھا کی منی میرے سر پر چٹرھی ہوئ تھی ۔۔۔ چنانچہ میں نے فوراً  ہی  پاجامے  کا  نالا  کھولا  اور  لن کو پاجامے سے باہر کر دیا میرے موٹے ٹوپے کو دیکھ کر وہ اور متاثر ہوئ کہ نھیں یہ  میں  نہیں  جانتا پر میں نے یہ ضرور جج کر لیا کہ اُن کی نظریں اب بھی میرے لن پر ھی تھیں میں نے دوسری حرکت یہ کی کہ میں نے اُن کا گورا ہاتھ پکڑ کر اپنے لن پر رکھ دیا ۔۔۔۔۔۔۔ کہ جو ہو سو ہو ۔۔۔
جیسے ھی میں نے اُن کا ہاتھ اپنے لن پر رکھا اُنہوں نے فوراً ہی  اپنا  ہاتھ  وہاں سے ہٹانے کی کوشش کی۔۔۔۔۔۔پر میں نے  زبردستی ان کا ہاتھ اپنے لن پر ٹکا دیا- 
انُہوں نے لن پر ہاتھ   رکھے رکھے میری طرف دیکھا اور سرگوشی میں  بولی ۔۔۔۔۔۔ ایسا نہ کرو شاہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ پلیز مجھے جانے دو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پر میں نے زبردستی ان کا ہاتھ  اپنے لن پر رکھے رکھا ۔۔۔۔۔۔ ۔  اور بولا آنٹی پلیز  بس تھوڑی دیر میرا لن پکڑے رکھیں اور ان کا ہاتھ لن پر دبا دیا ۔۔۔۔    اس پر وہ بولیں ۔۔۔۔۔ دیکھو تم میرے آصف کے دوست ھو اور مجھے آصف ہی کی طرح لگتے ہو ۔۔۔۔ اور میں تمہاری آنٹی ہوں  ۔۔۔۔۔۔ یہ کہا اور ایک گہری سانس لی  اور سر جھکا لیا ۔۔۔۔ تب میں نے ان سے کہا   آنٹی جی  !!۔۔۔۔ بےشک آپ میری انٹی ہو   اور بے شک آپ میرے دوست کی ماں ہو پر آپ  ایک  عورت بھی ہو  ۔۔۔ اور    مجھے پتہ ھے کہ اس وقت   اس عورت کو اس کی  شدید  ضرورت ھے   اس لیۓ کہ میں نے  تھوڑی دیر پہلے آپ کا انکل کے ساتھ  سارا سیکس سین دیکھ لیا تھا ۔۔۔۔ 
میری بات سن کر وہ ایک دم اپنی جگہ سے اُچھلی ۔۔ ایسا لگا کہ کسی نے ان کے پاؤں میں بم  پھوڑ دیا  ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انہوں نے  بڑی بے یقینی سے میری طرف  دیکھا اور بولی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تت۔۔۔ تت ۔۔۔ تم نے کب دیکھا۔۔ ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟   ان کی انکھوں میں ہزاروں سوال تھے۔۔ تو میں نے جواب دیا کہ اب سے کھچھ دیر پہلے ۔۔۔۔۔۔اور میں نے جلدی جلدی ساری سٹوری سنا دی۔۔۔۔ اس دوران وہ پھٹی پھٹی نطروں سے میری طرف دیکھے جا ری تھی ۔۔۔۔  جب میں نے بات ختم کی وہ کافی حد تک نارمل  ہو چکی تھی کہنے لگی ۔۔۔۔۔ اچھا  تو تم یہ سب کھچہ دیکھتے رہے ۔۔۔ بڑے بے شرم ہو تم ۔۔۔  ان کا موڈ دیکھ کر مجھے کچھ اور حوصلہ ہوا اور میں نے کچھ اور آگے بڑھنے کا فیصلہ کر لیا ۔۔۔۔  اور بولا ۔۔ یس س۔س۔س آنٹی جی اس کے ساتھ ساتھ  میں نا اپ کے جسم کا ایک ایک انچ بھی دیکھا ہے  اور آنٹی بڑا زبردست جسم ھے آپ کا ۔۔۔۔۔  اور آنٹی جی مجھے بخار نہیں آپ کے جسم کی گرمی ھے جو میرے   پورے بدن میں پھیلی ہوئ ھے –
میں نے یہ کہا اور ساتھ ھی اپنا منہ ان کے پاس لے گیا اور آنٹی کے ہونٹوں پر ہونٹ رکھ دیۓ ۔۔۔ پہلے تو انہوں نے اپنا منہ ادھر اُدھر کرنے کی کوشش کی  پھر میری مسلسل کوشش کو دیکھ کر اپنا منہ ایک جگہ کھڑا کر دیا اُن کی مزاحمت  دم توڑ چکی تھی  اب میں نے اپنی زبان نکا ل کر ان کے ہونٹ چاٹنا شروع کر دیۓ پہلے تو انہوں نے اپنا منہ سختی سے بند رکھا پھر دھیرے دھیرے ان کے ہونٹوں کی سختی نرمی میں بدلتی گئ اور پھر انھوں نے اپنا منہ میری زبان کے لیۓ پوری طرح کھول دیا اوراب  میں نے  اپنی زبان ان کے منہ میں داخل کر دی  اُف ف ف۔۔۔۔۔۔۔۔

 ان  کا منہ بڑا ہی گرم اور اس میں سے بڑی ہی مست مہک آ رہی تھی میں نے بڑی بے صبری سے ان کی زبان کو اپنے منہ میں لیا اور اس کو چوسنے لگا  ۔۔۔۔۔ اور کافی دیر تک ان کی ٹیسٹی زبان کا رس اپنے منہ میں منتقل کرتا رہا اس دوران پہلی  دفہ مجھے ان کا ھاتھ اپنے لن پر سخت ہوتا ہوا محسوس ہوا- وہ با ر بار میرے لن کو اپنی مُٹھی میں پکڑ کر دباۓ جا ری تھیں-  
کچھ دیر تک ھم کسنکگ کرتے رہے پھر جب ان کا ہاتھ کی گرفت میرے لن پر کافی ٹائٹ محسوس تو میں نے کسنگ چھوڑ دی اور اپنا منہ ان کے منہ سا الگ کر لیا ۔ جیسے ھی ان کا منہ میرے منہ سے الگ ہوا ان کی ساری توجو میرے لن کی طرف منتقل ہو گئ  اور انہوں نے میرا لن ہاتھ میں پکڑا تو پہلے سے ہوا تھا اب انہوں نے میری مُٹھ مارنی شروع کر دی اور بولی ۔۔ شاہ تمھارا لن بڑا ہی  کمال کا ہے اس نے تو مجھے پاگل کر دیا ھے   ۔۔۔ تو میں نے ان سے پوچھا کہ آنٹی میرا لن اچھا ھے نا۔۔۔۔ تو وہ بولی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اچھا  نہیں بہت اچھا  ہے ۔۔۔۔۔ یہ سن کر میں نے ان کا سر پکڑ کر لن کی طرف دبا دیا اور بولا آنٹی جی میرا بھی لن چوسو نا پلیز۔۔۔۔۔۔۔اور کہا جیسے آپ انکل کا چوس رہی تھی ویسے ھی میرا بھی چوسیں –

انہوں نے لن پکڑے پکڑے ایک نظر میری طرف دیکھا اور بولی ۔۔۔۔ فکر نہیں کرو میں  انکل کی طرح  نہیں بلکہ اس سے بھی  اچھا  تمہارا لن  چوسوں گی  یہ کہا اور اپنا سر میرے لن پر جھکا دیا- 
اب انہوں نے اپنی زبان منہ سے باہر  نکالی اور میرے ٹوپے کو چاٹنا شروع کر دیا  پھر  اس کے بعد انہوں نے میرا لن اپنے منہ میں لینا شروع کر دیا انہوں نے میرے سخت لن کو   اپنے نرم ہونٹوں میں بڑی سختی سے  دبا لیا اور  آہستہ آہستہ اپنا منہ لن کے نیچے کی طرف لے جانا شروع کر دیا   اور اس کے ساتھ ساتھ   وہ   لن کو اپنی زبان کا ٹچ بھی دیتی جاتی  تھی  اس طرح  انہوں نے  اپنا منہ جہاں تک ہو سکا میرے لن کے اینڈ تک  لے گیئں جب لن کا منہ آگے جانا ممکن نہ رہا تو انہوں نے اندر ہی اندر لن پر زبان پھیری اور لن کہ اپنے منہ سے   باہر نکال  لیا  اور  پھر ۔۔۔۔ انہوں نے اپنی زبان سے سارا لن چاٹنا  شروع کر دیا اور  نیچے سے لے کراوپر تک  میرے لن کو خوب  چاٹا پھر جب لن کو چاٹتے چاٹتے اوپر تک آئ تو پھر سے لن کو اپنے منہ میں لے کر  پھر سے چوسنا   شروع کر دیا –
     اُف ۔ف۔ف۔فف۔ف۔فف۔  ایک تو آنٹی کے لن چوسنے   کا دلکش  انداز دوسرا  ان کے  منہ کی گرمی  ۔۔۔۔ ان سب چیزوں نے مل کر مجھے پا گل سا کر دیا اور   میرے سارے بدن میں ایک آگ سی بھر گئ چنانچہ   اگلی دفعہ جیسے ہی آنٹی نے میرا سارا لن اپنے منہ میں ڈالا ۔۔۔  تو ۔۔۔۔ مجھے ایسا لگا کہ میرے سارے جسم کا  خون میرے لن کی طرف دوڑ رھا ھے  اور میں نے آنٹی کا  سر بڑی  مضبو طی   سے پکڑ لیا  اور اس کو اپنے لن کی طرف دبانے لگا میرا خیال ہے وہ  سمجھ  گئ   تھی  کہ میں چھٹنے والا ہوں  سو انہوں نے بڑی ٹرائ کی کہ وہ اپنے منہ سے میرا لن باہر نکال سکیں لیکن میں نے ان کا سر اتنی مضبوطی سے پکڑا ہوا تھا کہ وہ چاہ کر بھی ایسا نہ کر سکیں – اس کھیچھا تانی میں وہ بس اتنا ہی کر سکیں کہ میرا ٹوپا  ہی ان کے منہ میں  رہ گیا اور۔۔۔۔۔ 
پھر اچانک ہی میرے لن نے ایک پچکاری ماری اور ساری   منی ان کے منہ میں گرنا شروع ہو گئ ۔۔۔۔



Contact Me For Secret Relation 
Email: farhanrajpoot129@gmail.com
Mobile Number: +923174537033 
Whatsapp: +923030275325

No comments:

Post a Comment