اور پھر جیسے ہی میں دروازہ کھول کر گاڑی کے اندر داخل ہوا تو میں نے دیکھا کہ وہ مجھے دیکھتے ہوئے بڑے ہی قاتلانہ انداز میں مسکرا رہی تھی میرے گاڑی میں بیٹھتے ہی روشا شرارت بھرے انداز میں بولی۔۔ ہاں تو آپ کیا کہہ رہے تھے؟ اس پر میں نے بھی اس کی طرف جگر پاش نظروں سے دیکھتے ہوئے جواب دیا کہ میں کچھ کہہ نہیں رہا تھا ۔۔۔۔بلکہ میں تو آپ کے ہونٹوں کو چومنے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔ میری بات سن کر روشا نے ایک نظر میری طرف دیکھا اور پھر اپنے منہ کو میرے قریب کرتے ہوئے ۔۔۔ مستی بھرے لہجے میں بولی ۔ تو پھر چوم ناں ہونٹوں کو ۔۔۔۔۔منع کس نے کیا ہے؟ ۔ ۔۔۔۔
[/color]۔۔ ۔۔۔ اس کی بات سن کر میں نے دیکھا تو روشا کا چہرہ شدتِ جزبات سے سرخ گلاب ہو رہا تھا۔ اور اس کے ساتھ ساتھ مجھے اس کی آنکھوں میں شہوت کے لال ڈورے بھی تیرتے ہوئے صاف دکھائی دے رہے تھے۔ابھی میں اس کا جائزہ ہی لے رہا تھا کہ روشا کے منہ سے سرگوشی نما آواز نکلی۔۔۔ میرے منہ کی طرف نہ دیکھ۔۔ کس می ۔۔۔۔۔۔ اس کی بات سن کر میں اپنے منہ کو اس کی طرف لے گیا۔ ۔۔۔اور پھر بڑی آہستگی اور نرمی کے ساتھ ۔۔ اپنے ہونٹوں کو اس کے ہونٹوں پر رکھ دیا۔ اُف۔۔اُ۔۔ف۔ف۔فف۔ف ف۔ف روشا کے ہونٹ گلاب کی پتی کی طرح نرم اور بہت سویٹ ۔۔۔۔ اور مزے دار تھے۔۔۔ اس کے منہ سے ایک عجیب طرح کی شہوانی اور مست خوشبو آ رہی تھی۔۔ میں نے جب اپنے ہونٹوں کو اس کے ہونٹوں کے ساتھ ملایا تو ہم دونوں کے جسموں میں لگی دھیمی دھیمی آگ کچھ اور بھی تیز ہو گئی۔۔ابھی میں روشا کے ہونٹوں پہ اپنے ہو نٹ رکھے ان کی نرمی کا مزہ لے رہا تھا کہ اچانک ہی ۔۔۔۔۔۔ اس نے اپنے منہ سے زبان نکالی
۔۔۔اور میرے ہونٹوں پر دستک دینا شروع کر دی ۔۔۔اور اس کی زبان کو اپنے ہونٹوں پر محسوس کرتے ہی ۔۔۔ میں نے اس کے لیئے اپنے ہونٹوں کو وا کر دیا۔۔۔۔ ادھر جیسے ہی میرے ہونٹ کھلے۔۔۔۔ سانپ کی طرح سے لہراتی ہوئی روشا کی زبان میرے منہ میں چلی آئی ۔۔ اور اس کے ساتھ ہی اس نے اپنی ذائقہ بخش زبان کو بڑے ہی لسٹ بھرے انداز سے میرے منہ میں گھمانا شروع کر دیا۔ ۔۔۔۔ پھر کچھ دیر بعد اس نے اپنی زبان کو میرے منہ سے باہر نکالا اور بڑے بوجھل لہجے میں کہنے لگی ۔۔ سک مائی ٹنگ ۔۔۔[/color][/color]اور روشا کی بات سنتے ہی میں کسی بھوکے عقاب کی طرح اس پر جھپٹا ۔۔۔۔اور پھر اس کی زبان کو اپنے منہ میں لے کر چوسنا شروع کر دیا - اسی دوران میں اپنے ایک ہاتھ کو روشا کی سخت چھاتیوں پر لے گیا۔۔۔ اور اس کی زبان چوسنے کے ساتھ ساتھ باری باری انہیں بھی دبانے لگا۔ میرے اس طرح چھاتیاں دبانے ۔۔۔ اور اس کی لزت آمیز زبان کو چوسنے سے ہم دونوں مزے کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوبنا شروع ہو گئے۔۔۔ اور میرے اس اقدام سے خصوصاً روشا بہت زیادہ گرم ہو گئی تھی۔۔اور اسی گرمی کے زیرِ اثر اس نے اپنا ایک ہاتھ میرے بدن کے اس حصے پر رکھ دیا کہ جہاں پہلے سے ہی گھات لگائے۔۔۔۔ سر اُٹھائے ۔۔۔ ایک اژدھا کھڑا تھا ۔۔ چنانچہ جیسے ہی اس کے ہاتھ نے میرے لن کو چھوا۔۔۔تو دوسری عورتوں کی طرح اسے بھی ایک شاک سا لگا۔۔۔لیکن وہ بنا کچھ بولے۔۔۔ بڑی حیران نظروں سے میری دیکھتے ہوئے میرے لن کو ٹٹولنا شروع ہو گئی۔۔۔۔۔۔ اور پھر جب اس نے میرے لن کا اچھی طرح سے ماپ تول کر لیا تو میں نے اس کی آنکھوں میں اپنے لیئے تحسین کے جزبات دیکھے ۔۔۔۔ اور وہ ایک گہرا سانس لے کر بولی۔۔۔ بہت مست اور آؤٹ کلاس ڈِک ہے تمہارا ۔۔۔اس کے منہ سے اپنے لن کی تعریف سن کر میں بہت خوش ہوا۔۔۔۔۔اور پھر اس کی چھاتی کو پکڑ کر دباتے ہوئے بولا کہ مس روشا کیا آپ کو معلوم ہے کہ میں اسلام آباد سے لاہور کیوں آیا ہوں؟
[/color]تو میری بات سن کر جانے کیوں وہ ایکسٹرا بولڈ لڑکی شرما سی گئی۔۔۔اور منہ سے کچھ نہیں بولی۔۔ یہ دیکھ کر میں آگے بڑھا۔۔۔۔۔اور پھر اس کے کان میں شہوت بھری سرگوشی کرتے ہوئے بولا۔۔۔ ۔۔۔بتا نا۔۔۔ روشا ڈارلنگ کہ میں اسلام آباد سے لاہور کیوں آیا ہوں؟ اس وقت وہ کافی حد تک سنبھل چکی تھی اس لیئے میری بات سن کر وہ ایک شرمیلی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولی ۔۔ آئی نو دیٹ۔۔۔ تو اس پر میں ایک بار پھر شہوت بھری آواز میں بولا۔۔۔ بتاؤ نہ روشا کہ میں لاہور کیا کرنے آیا ہوں؟؟؟۔۔ میری بات سن کر اس نے براہِ راست میری طرف دیکھا ۔۔۔اور پھر میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولی۔۔۔ تم یہاں میری " چھوت " مارنے آئے ہو۔۔ یقین کرو دوستو روشا کے منہ سے چوت کی بجائے "چھوت" کا لفظ سن کر مجھے اتنا مزہ آیا کہ میں نے بے اختیار اس سے بولا۔۔۔ کہ پلیز ایک دفعہ پھر بتاؤ کہ میں یہاں کیوں آیا ہوں ۔۔تو تھوڑے سے نخرے کے بعد وہ مجھ سے کہنے لگی ۔۔۔ تم مجھے فک کرنے آئے ہو۔۔ ۔۔۔ اس کے منہ سے فک سن کر میں جلدی سے بولا ۔۔۔۔۔فک نہیں پلیز وہی لفظ دھراؤ جو ابھی تھوڑی دیر پہلے تمہارے منہ سے نکلے تھے۔۔ تو میری بات سن کر وہ مصنوعی غصے سے بولی۔۔۔ آر یو کریزی؟ ۔۔ مگر پھر میرے اصرار پر ۔۔۔۔ اس کے لال چہرے پر وہی دل آویز لیکن شرمیلی سی مسکراہٹ پھیل گئی ۔۔اور وہ میری طرف دیکھتے ہوئے فل مُوڈ میں بولی۔۔۔ تم یہاں میری "چھوت " مارنے کے لیئے آئے ہو۔۔ اور اس کے ساتھ ہی اس نے میرے لن کو پکڑ کر سختی کے ساتھ دبایا اور ایک بار پھر میرے ساتھ کسنگ کرنا شروع ہو گئی۔
ابھی ہمارا کسنگ سیشن جاری تھا کہ اوپر سے حمزہ بھی آ گیا ۔ اسے اندر داخل ہوتے دیکھ کر میں نے روشا کے ساتھ جاری کسنگ کو بند کرنا چاہا ۔۔لیکن اس نے مجھے ایسا کرنے سے روک دیا اور حمزہ کے گاڑی میں بیٹھنے تک ہم دونوں برابر کسنگ کرتے رہے۔ اور گاڑی میں بیٹھتے ہی اس نے پیچھے مُڑ کر ہماری طرف دیکھا اور تحیر آمیز لہجے میں بولا ۔۔۔۔ویری نائیس ۔۔اور پھر اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے بولا۔۔۔ گُڈ !! تو آپ کی لو سٹوری شروع بھی ہو گئی۔ اس کی بات سن کر روشا نے میرے منہ میں ڈالی زبان کو باہر نکالا اور حمزہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگی۔۔ اُف ڈارلنگ تیرے یہ دوست بہت فاسٹ فارورڈ ہے ۔۔ تو آگے سے حمزہ دانت نکالتے ہوئے بولا جس سے حساب سے تم جیسی لڑکی اس کی گود میں بیٹھی کسنگ کر رہی تھی۔۔۔۔ ا س سے تو لگتا ہے کہ میرا یہ دوست فاسٹ فارورڈ نہیں بلکہ۔۔۔۔ جیٹ سپیڈ بندہ ہے۔ حمزہ کی بات سن کر ہم تینوں نے مشترکہ طور پر ایک فرمائیشی سا قہقہہ لگایا اور اس کے ساتھ ہی حمزہ نے گاڑی کو اسٹارٹ کر کیا۔۔۔اور پھر اس نے بیک مرر سے ہماری طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔ کیری آن گائیز تم لوگ اپنا کام جاری رکھو۔۔۔۔۔۔حمزہ کی بات سن کر روشا نے میری اور میں نے اس کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔اور اس کے ساتھ ہی ایک دفعہ پھر سے ہمارے ہونٹ لاک ۔۔ اور گاڑی کی مختصر سی فضا میں پوچ۔۔پوچ۔۔۔کی آوازیں گونجنا شروع ہو گئیں۔۔ ۔۔۔لیکن پہلے کی نسبت اس دفعہ ہمارے کسنگ سیشن کا دورانیہ بہت مختصر رہا۔۔ ۔۔۔۔ اور تھوڑی دیر بعد ہی روشا نے میرے ساتھ کسنگ کرنا بند کر دی ۔۔ یہ دیکھ کر حمزہ جو کہ بیک مرر سے گاہے بگاہے ہماری پرُجوش کسنگ کا نظارہ کر رہا تھا۔۔۔۔ بند ہوتے دیکھ کر بولا۔۔۔ کیا ہوا روشا ڈارلنگ ۔۔ کسنگ کیوں سٹاپ کر دی؟ ۔۔۔۔تو آگے سے وہ کندھے اچکا کر بولی۔۔۔۔ بند نہیں کی ۔۔ بلکہ تھوڑی دیر کے لیئے پوسٹ پون کی ہے ۔ اس پر حمزہ مزے لیتے ہوئے کہنے لگا ۔۔ بٹ وائے ڈارلنگ؟؟؟ ۔۔۔ تو آگے سے روشا مسکراتے ہوئے بولی ۔۔۔ جسٹ فار نتھنگ ۔۔۔ ۔۔۔۔ روشا کی بات سن کر حمزہ نے سر ہلا دیا ۔۔۔۔۔
Contact Me For Secret Relation
Email: farhanrajpoot129@gmail.com
Mobile Number: +923174537033
Whatsapp: +923030275325

No comments:
Post a Comment