اگلے دن میں اور حمزہ ناشتہ وغیرہ کرنے کے بعد ۔۔ تقریباً دس ساڑھے دس بجے گھر سے نکلے اور ظاہری بات ہے کہ ہماری منزل روشا کا گھر تھا کہ جہاں سے اسے ہم نے پِک کرنا تھا۔ راستے میں حمزہ گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے مجھ سے کہنے لگا کہ روشا کو لے کر میں ایک سٹور پر کچھ کھانے پینے کی چیزیں لینے کے بہانے رکوں گا اتنے میں تم اس کے ساتھ اپنی جان پہچان کر لینا تا کہ وہاں جا کر کوئی الجھن نہ رہے اس کی بات سن کر میں نے سر ہلا دیا ۔۔۔اسی دوران ہماری گاڑی روشا کے گھر کے قریب پہنچی تو حمزہ نے اپنے سیل فون سے اسے باہر آنے کو کہا۔۔۔اور میرے خیال میں وہ پہلے ہی اس کام کے لیئے ریڈی بلکہ آل ریڈی تھی کیونکہ جیسے ہی ہماری گاڑی اس کے گھر کے قریب پہنچی تو روشا پہلے سے ہی گیٹ کے باہر موجود کھڑی تھی ۔۔۔
میں نے روشا کو دیکھا تو دیکھتا رہ گیا۔اس کے بارے میں کیا لکھوں کہ حسنِ جاناں کی تعریف ممکن نہیں۔۔۔۔۔۔ بس اتنا ہی کہہ سکتا ہوں کہ کیا ادا کیا جلوے تیرے پارو۔۔دل کے ٹکڑے ہو گئے ہزاروں والا معاملہ تھا۔ قصہ مختصر کہ اس نے بڑی شاندار ڈرسینگ کی ہوئی تھی گاڑی رکتے ہی وہ پچھلا دروازہ کھول کر گاڑی میں بیٹھ گئی۔۔۔۔اور پھر میری طرف دیکھ کر شرارت آمیز لہجے میں بولی ہیلو شاہ کیسے ہو آپ؟ ۔ تو آگے سے میں نے بھی اس کی طرف مسکراہٹ اچھالتے ہوئے کہا کہ ایک دم ٹھیک ۔۔۔ آپ سناؤ؟۔ اس سے پہلے کہ روشا میری بات کا جواب دیتی ۔۔۔۔۔ گاڑی چلاتے ہوئے حمزہ نے ایک نظر میری طرف دیکھا اور کہنے لگا امید ہے کہ تمہارا آج کا دن ہمارے ساتھ اچھا اور یاد گار گزرے گا اور پھر اسی طرح کی ہلکی پھلکی باتیں کرتے ہوئے ہم لوگ سفر کرتے رہے۔۔ کچھ دیر بعد حمزہ نے ایک بڑے سے سٹور کے سامنے گاڑی کھڑے کرتے ہوئے کہا کہ تم دونوں یہیں بیٹھ کے باتیں کرو اتنی دیر میں۔۔۔میں دوپہر کے لیئے کچھ کھانے پینے کا سامان لے آتا ہوں ۔ اور جیسے ہی حمزہ گاڑی سے اتر کر سٹور کی طر ف بڑھا۔۔۔ تو میں نے اپنا منہ پیچھے کی طرف کرتے ہوئے روشا سے کہا کہ اس ڈریس میں آپ بہت غضب ڈھا رہی ہو۔۔میری بات سن کر اس نے میرا شکریہ ادا کیا ۔۔۔اور یوں روشا کے ساتھ میری باتوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔۔ اور پھر اگلے پانچ ، دس منٹوں میں ہی ۔۔رفتہ رفتہ نہیں بلکہ تیری کے ساتھ وہ میری ہستی کا ساماں ہو گئی۔۔پہلے آپ پھر۔۔۔ تم ہوئے اور پھر ۔۔۔
توُ کا عنواں ہو گئی۔۔کچھ دیر بعد ۔۔ روشا کے ساتھ باتیں کرتے ہوئے اچانک ہی میں نے اس کی طرف اپنے ہاتھ کو بڑھا دیا۔ روشا نے میرے بڑھے ہوئے ہاتھ کو دیکھ کر ایک لمحے کے لیئے کچھ سوچا اور پھر اپنا ہاتھ میرے ہاتھ میں دے دیا۔۔۔واؤؤؤؤؤؤؤؤؤؤؤؤ۔۔۔اس کا ہاتھ بہت ہی نرم اور ۔۔۔ انگلیاں مخروطی تھیں ۔۔ چنانچہ جیسے ہی اس نے اپنا ہاتھ میرے دیا۔۔۔۔۔ تو میں نے اس کے ہاتھ کو دباتے ہوئے کہا کہ ایک بات تو بتاؤ روشا جی اور وہ یہ کہ۔۔۔۔۔ رات آپ نے حمزہ کو ۔۔۔ میرے ساتھ اپنا تعارف کرانے سے منع کیوں کیا تھا۔۔؟؟؟
میری بات سن کر وہ بڑی شوخی کے ساتھ کہنے لگی۔۔۔۔۔ میری مرضی۔۔ تو آگے سے میں نے اس کے ہاتھ کو سہلاتے ہوئے کہا ۔۔۔ کہ پتہ ہے جب حمزہ نے مجھے بتایا کہ گاڑی میں بیٹھی ہوئی لڑکی آپ ہی تھیں۔۔۔ تو یہ سن کر میں نے حمزہ کو پوری سوا لاکھ گالیاں دیں تھیں۔۔۔میری بات سن کر وہ ہنستے ہوئے بولی ۔۔ اِن فیکٹ اس کو ایسا کرنے سے میں نے ہی منع کیا تھا تو میں اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا۔۔۔ کہ مجھے یہ بتاؤ کہ آپ نے ایسا کیوں منع کیا تھا؟؟۔۔ میرے اس طرح ٹکٹکی باندھ کر دیکھنے سے وہ تھوڑی گڑبڑا سی گئی۔۔لیکن اگلے ہی لمحے وہ بڑے اعتماد سے کہنے لگی ۔ وہ اصل میں ۔۔۔ میں آپ کو جج کرنا چاہتی تھی۔۔ تو میں نے بدستور اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھتے ہوئے کہا کہ پھر آپ نے کیا جج کیا؟ میری بات سن کر ایک لمحے کے لیئے مجھے روشا کی آنکھوں میں ہوس کی پرچھائیں نظر آئیں۔۔ لیکن پھر اگلے ہی لمحے اس کی آنکھوں میں نظر آنے والی یہ پرچھائیں ۔۔ غائب ہو گئیں اور وہ مجھے حریص نظروں دیکھتے ہوئے بولی۔۔
بظاہر تو آپ بہت کیوٹ اور سیکسی لگتے ہو۔۔۔روشا کی اس بات پر میں اسے اپنی طرف کھینچتے ہوئے بولا۔۔ مس روشا ۔۔۔ پوائینٹ ٹو بی نوٹڈ کہ میں صرف دیکھنے میں ہی سیکسی نہیں۔۔۔۔بلکہ سچ مچ کا بھی سیکسی ہوں۔۔۔ روشا کو اپنی طرف کھینچنے سے وہ سیٹ سے تھوڑا آگے کو کھسک تو گئی تھی ۔۔ لیکن اتنی بھی آگے نہ آئی تھی کہ میں اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ سکتا ۔۔ چنانچہ اس صورتِ حال ۔۔کو دیکھتے ہوئے میں نے اپنے ہونٹوں کو ایک دائرے کی شکل بناتے ہوئے اس کی طرف ایک ہوائی کس اچھال دی۔۔۔۔اور پھر اس سے مخاطب ہو کر بولا۔۔ میری طرف سے آپ کے حسین و جمیل چہرے۔۔۔اور ان جھیل سی آنکھوں کے نام ۔۔ہونٹوں کے نام ۔۔ ادھر میرا روشا کی طرف ۔۔۔۔ کس اچھالنے کی دیر تھی کہ وہ اپنی سیٹ پر بیٹھے بیٹھے تھوڑا اور آگے کو بڑھی۔۔اور پھر میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہنے لگی۔۔۔ یہ آپ اتنے ہری میں کیوں ہو؟ تو اس پر میں نے اسے آخری حد تک ہوس ناک نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔۔ وہ اس لیئے میری جان کہ ۔۔۔ آپ کی اس گرم باڈی سے نکلنے والی ہیٹ مجھے پگھلا رہی ہے ۔۔میری بات سن کر وہ بڑی لگ اوٹ سے بولی۔۔ آپ بڑی رومینٹک باتیں کرتے ہو ۔تو میں نے اس کو مسکہ لگاتے ہوئے کہا۔۔ کہ دل کا کیا کریں صاحب ۔۔۔ اس میں بے اختیار ہیں ہم۔۔ ۔۔اور اس کے ساتھ ہی ۔۔ میں نے اپنے ہاتھ میں پکڑے ہوئے اس کے ہاتھ کو ۔۔۔بڑی نرمی کے ساتھ چھوڑ دیا۔۔۔۔۔۔اور اس کے شہوت یا شاید شرم سے لال ہوتے ہوئے گالوں پر انگلی پھیرتے ہوئے بولا۔۔ شاید آپ میری اس بات کا یقین نہ کرو ۔۔۔۔۔ کہ آپ شہرِ لاہو ر کی سب سے زیادہ خوب صورت اور سیکسی لڑکی ہو۔۔ اور یہ الفاظ ادا کرتے ہوئے میں نے جان بوجھ کر لفظ سیکسی کو بڑے ہی شہوت بھرے انداز میں بیان کیا۔اور میں نے دیکھا کہ میرے اس شہوت بھرے انداز کا اس پر خاطر خواہ اثر ہوا۔۔اور اس کے اندر دبی ہوئی سیکس کی بھوک بیدار ہو کر۔۔۔۔اس کی آنکھوں میں لال ڈورے کی شکل میں ظاہر ہونا شروع ہو گئی۔۔۔۔۔۔
یہ دیکھ کر میں نے اپنی اسی انگلی کو بڑے ہی نفیس لیکن شہوت بھرے انداز سے ۔۔۔ اس کے رس بھرے ہونٹوں پر پھیرتے ہوئے بولا۔۔ روشا ڈارلنگ ۔۔۔ جی چاہتا ہے کہ تمہارے ان رس بھرے ہونٹوں کا سارا رس پی جاؤں۔۔۔تو وہ مست لہجے میں جواب دیتے ہوئے بولی۔۔آج سارا دن تیرے پاس ہوں گی۔۔ جو مرضی ہے کر لینا۔۔۔ یہ بات کرتے ہوئے اس کے لہجے سے واضع طور پر ہوس اور شہوت ایک ساتھ چھلک رہیں تھیں۔۔۔ ادھر اس کے رس بھرے ہونٹوں پر انگلی پھیرتے پھیرتے میں نے اپنی اس کی انگلی کو اس کے منہ میں ڈال دیا۔۔
یہ دیکھ کر اس نے بڑی ہی نشیلی نظروں سے میری طرف دیکھا اور پھر اپنے منہ میں دی ہوئی میری انگلی کو۔۔ہاتھ سے پکڑ کر باہر نکالا ۔۔۔اور پھر اپنی زبان کو منہ سے نکال کر بڑے ہی پرُہوس طریقے سے میری انگلی کو چاٹنا شروع ہو گئی ۔ میری کھردری انگلی پر اس کی لچکیلی زبان کا لمس لگتے ہی نیچے سے میرا لن الف ہو گیا۔۔۔ لیکن میری اس اکڑاہٹ سے بے خبر ۔۔۔۔روشا میر ی انگلی کو کچھ اس طرح سے چاٹے جا رہی تھی کہ جیسے یہ میری انگلی نہ ہو۔۔۔۔ بلکہ ایک موٹا تازہ اور تنا ہوا لوڑا ہو۔۔۔ میری انگلی کو کچھ دیر تک چاٹنے کے بعد ۔۔ اس نے اپنے تھوک سے تر ۔۔میری گیلی انگلی کو پکڑا۔۔ ۔۔۔۔ اور بڑی آہستگی کے ساتھ اپنے نرم نرم ہونٹوں پر پھیرنا شروع ہو گئی۔۔۔۔۔۔ اور پھر اپنے ہونٹوں پر انگلی پھیرتے پھیرتے ۔۔۔۔ ۔۔۔۔ اسے اپنے منہ میں ڈال لیا۔۔۔اور بڑی بے تابی کے ساتھ۔۔۔۔۔۔ چوسنا شروع ہو گئی۔
یہ دیکھ کر میں اپنا ایک ہاتھ اس کی گردن کے پیچھے کی طرف لے گیا اور اس کے سر کو اپنی طرف کھینچتے ہوئے ۔۔ اس کے لال لال ہونٹوں پر ایک کس کرنے کی کوشش کرنے لگا۔۔۔ ۔۔۔لیکن شہوت میں چُور ہونے کے باوجود ۔۔۔۔اس نے اپنے سر کو وہیں روک لیا ۔۔۔اور میری انگلی کو اپنے منہ سے نکال کر۔۔۔۔ بڑے ہی بوجھل لہجے میں کہنے لگی۔۔۔۔۔ کیا کرنے لگے ہو؟ تو میں اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔۔ کہ تمہارے ان ہونٹوں کو چومنے کی کوشش میں لگا ہوں۔۔تو وہ کھڑکی سے باہر کی سمت دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔ سامنے سے نظر آتا ہے۔۔۔۔ اس لئے تم میرے ساتھ پچھلی سیٹ پر آ جاؤ۔۔۔ کھڑکیوں کے شیشے کالے ہونے کی وجہ سے۔۔۔۔ ہمارے دیکھے جانے کا چانس بہت کم ہے ۔۔اس کی بات سن کر میں نے ۔۔ اپنی گاڑی کا دروازہ کھولا۔۔۔۔۔اور کن اکھیوں سے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے پچھلے دروازے کی طرف ۔۔۔۔ چلا گیا۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔[/font]
Contact Me For Secret Relation
Email: farhanrajpoot129@gmail.com
Mobile Number: +923174537033
Whatsapp: +923030275325

No comments:
Post a Comment