Breaking

اُستانی جی پارٹ 11





     اور وہ ٹپ یہ تھی کہ۔۔۔۔۔کام والی کے  مطابق  صنوبر  باجی  کا ایک ٹال  والے لڑکے کے ساتھ  افئیر  تھا   ٹال کا نام سُن کر میں چونک اُٹھی  تھی اور پھر  جب میں نے اس سے   ٹال کے بارے میں پوچھا  تو   اس  نے  اسی  ٹال کے بارے میں بتایا    جو کہ پہلے ہمارے پاس   ہوتا  تھا  پھرجرگہ کی  وجہ سے ہمیں  وہ  ٹال  چا چا کے نام کرنا پڑا   تھا ۔۔ اس  کے بعد  جب میں نے اس سے  متعلقہ  لڑکے کے بارے میں پوچھا  تو   وہ  جس لڑکے کی  بات کر رہی تھی اسے میں اچھی طرح سے جانتی تھی ۔ اس کا نام دلاور خان تھا  جسے دا جی نےہی نوکر رکھا تھا ۔دلاور خان ۔ کافی ہینڈسم ۔۔۔ شریف  اور اپنے کام سے کام رکھنے و الا   لڑکا تھا۔ ۔اسی لیئے میں کام   والی   کے منہ سے   دلاور  خان  کا  نام   سن کر بہت حیران ہوئی تھی کیونکہ رشتے  میں دلاور صولبر  کا   بھانجھا  لگتا  تھا  ایک ہی خاندان ہونے کی وجہ سے    وہ    ہمارا  بھی   رشتے  دار تھا  لیکن صنوبر باجی کے ساتھ اس  کا  بہت ہی قریبی  رشتہ تھا وہ صنوبر  باجی کی چاچا  کی بیٹی  کا لڑکا  تھا  ۔ دلار کی   بڑی  بہن ثمن   میری دوست اور کلاس فیلو تھی  اسی  لیئے اس کے کہنے پر میں نے  کچھ عرصہ دلاور کو  میتھ کی ٹیوشن  بھی  دی تھی ۔ تبھی تو  میں اس کو اچھی طرح  سے جانتی تھی   اس  وقت  یہ کافی بھولا  بھالا اور معصوم  سا لڑکا  ہوا کرتا  تھا ۔۔ ۔ اس کام  والی  کے بقول  اگر میں ان دونوں کو عین حالتِ سیکس میں پکڑ لوں تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرا کام بن سکتا   ۔۔اس میں ایک   مسلہ یہ تھا کہ دلاور خان روز نہیں ۔۔۔بلکہ  ہفتے  میں ایک آدھ  دن  ہی   ہمارے گھر آتا تھا   لیکن مجھے نہیں یاد کہ میں نے کبھی اس کو اپنے گھر دیکھا ہو ۔۔   چنانچہ میں نے  اس سے  پوچھ ہی لیا کہ آخر  دلاور کے آنے کا ٹائم کیا ہے ؟؟ ۔۔  تو اس نے  بتا یا کہ  عام  طور پر یہ لڑکا  اس وقت آپ کے گھر آتا ہے جس وقت آپ  خان جی کو ناشتہ وغیرہ  دے کر ریسٹ کرتیں  ہیں اس  کی بات سُن کر مجھے  یاد آیا کہ  واقعی میں خان  جی کے جانے کے بعد ایک  دو  گھنٹے  سوتی تھی پھر  اس کے بعد میں اُٹھ کر گھر کی صفائی  وغیرہ کیا کرتی تھی اور میں اکثر اس بات پر  بڑی  حیران ہوا کرتی  تھی کہ ویسے تو صنوبر باجی کو میری ہر بات بُری لگتی تھی لیکن آج تک اس نے میرے دوبارہ سونے پر کوئی تنقید نہ کی تھی ۔۔۔۔اور میرے دوبارہ سونے  پر ان کی تنقید نہ کرنے کی وجہ   آج  میری   سمجھ آئی تھی ۔۔ خیر اس کی ساری  کہانی  سننے کے بعد اب میں اس تاڑ میں رہنے لگی کہ کب دلاور صنوبر باجی کے کمرے میں جائے اور میں چھاپہ  ماروں ۔۔ اور اس سلسسلہ میں۔۔  میں نے ساری پلانگ بھی کر لی تھی  کافی دن تک ریکی کرنے کے باوجود بھی جب مجھے کوئی موقعہ نہ ملا تو میرے دل میں شک گزرا کہ کہیں کام والی لڑکی نے پیسوں کے لالچ میں  مجھے بےوقوف تو نہیں بنا گئی ؟ لیکن پھر خیال آتا کہ  جس وقت وہ یہ بات بتا رہی تھی تو اس وقت وہ ڈر کے مارے تھر تھر کانپ رہی تھی کہ اگر کسی کو پتہ چلا گیا کہ اس نے مخبری کی ہے تو اس کی خیر نہیں ۔۔۔۔  پھر  میرے دل میں ایک اندیشہ آیا کہ کہیں اس نے صنوبر باجی کو  نہ بتا  دیا  ہو کہ میں ا ن کی ٹوہ  میں  ہوں ؟ خان اندیشوں کے باوجود بھی  میں نے صنبر کی  رکھوالی  نہ چھوڑی ۔۔ جو کہ بڑی آسان تھی اب میں آپ کو  اپنے   گھر کی لوکیشن کے بارے میں بتاتی ہوں  یہ ایک بڑا سا گھر ہے  جس   میں کافی زیادہ کمرے اور کھلا  صحن اور بڑا سا برآمدہ  تھا ۔۔۔لیکن اس وقت میں آپ کو صرف اپنی  اور صنوبر باجی کے کمرے  کی لوکیشن با  رہی ہوں   ایک طرف خان  جی  کا  یعنی   ہمارا  کمرہ تھا ۔۔ کمرے کے آگے بڑا سا برآمدہ تھا پھر صحن اور صحن کے سامنے دو کمرے  تھے جن میں سے ایک صنوبر باجی کے پاس تھا  اور  مزے کی بات یہ تھی کہ صنوبر  باجی کے کمرے کا  دروازہ   میری کھڑکی میں سے صاف نظر آتا تھا ۔۔۔ میں روز خان  جی  کوناشتہ وغیرہ دیتی  پھر انکو دروازے تک الوداع کرنے جاتی ۔۔  اور پھر مین گیٹ لاک کر کے   بظاہر کمرے میں سونے کے لیئے چلی جاتی تھی ۔۔۔۔  لیکن میں بجائے سونے کے  جا کر کھڑکی کے ساتھ  لگ جاتی تھی لیکن پتہ نہیں کیا بات تھی کہ اتنے دن ہو گئے تھے اور   میرا کام نہ بنا تھا ۔۔۔ اور اب تو میں اس کام سے تھوڑی تھوڑی مایوس سی ہو گئی تھی ۔۔۔پھر۔۔۔۔۔

        ایک دن کی بات ہے کہ میں نے حسبِ معمول خان جی کے آگے ناشتہ رکھا تو ناشتہ کرتے  وقت میں نے محسوس کیا کہ وہ کچھ اپ سیٹ سے ہیں  تو میں نے ان سے پوچھا کہ  کیا ہوا  خان جی کچھ گڑ بڑ ہے کیا۔۔؟؟  تو وہ بولے نہ یارا   گڑبڑ کیا ہو گئی اصل میں مجھے کچہری ایک تاریخ پر جانا ہے اور صنوبر نے بھی جانا ہے سوچ رہا ہوں کہ ٹائم کو کیسے سیٹ کروں کیونکہ مجھے  ٹھیک 8 بجے  کچہری پہنچنا  ہے اور تم کو معلوم ہے کہ ساڑھے آٹھ بجے  بُلارا  شروع ہو جاتا ہے اور نو بجے صنوبر کوبھی  ایک  جگہ چھوڑنا ہے سوچ رہا ہوں کہ  میں وہاں سےکیسے آ کر اسے  لے جاؤں گا کہ ٹائم کی بڑی  پرابلم ہے ۔۔اور مجھے کچھ   سمجھ نہیں آ رہی  کہ کیا کروں ؟؟ ۔۔  ان کی  یہ  بات سُن کر میری ہنسی چھوٹ گئی اور میں نے ان سے کہا بس یہی بات ہے؟؟  جس کے لیئےآپ  اتنے پریشان ہو ؟ تو وہ بولے ۔۔۔ یہ کوئی معمولی بات ہے ؟ پھر میری طرف دیکھ کر بولے ۔۔ نہ یہ تم ہنس کس بات پر رہی ہو ۔۔ تو میں نے کہا ہنسی اس بات پر ہوں خان جی   کہ یہ  واقعہ  ہی  یہ بڑی   معمولی  بات  ہے پھر میں نے ان کو مشورہ  دیتے ہوئے کہا  کہ خان جی آپ ایسا کرو کہ جاتے ہوئے صنوبر باجی کو  بھی ساتھ لے جاؤ اور  تاریخ بھگتا کر ان کو واپس لے آنا ۔۔۔ میری بات سُن کر انہوں نے اپنے سر پر ہاتھ مارا اور بولے ۔۔۔ واقعہ ہی یہ تو بڑی معمولی سی بات تھی  پتہ نہیں  میری سمجھ میں کیوں یہ بات  نہ آئی ۔۔۔ پھر کہنے لگے اصل میں صنوبر کی بچی نے  مجھے اُلجھا دیا تھا  وہ کہتی تھی کہ اسے ٹھیک 9 بجے جانا  ہےتو میں نے ان سے کہا کہ اگر وہ تھوڑا پہلے  چلی جائیں گی تو کیا حرج ہے؟؟  میری بات سُن کر انہوں نے مجھے کہا  بات تو تمھاری ٹھیک ہے پھر مجھ سے بولے   کہ  جا کر صنوبر کو کہو کہ وہ تیاری کر لے کہ وہ  ابھی میری ساتھ جا رہی ہے ۔۔ میں نے جا کر صنوبر باجی کو خان جی کا پیغام دیا تو انہوں نے بغیر کسی ہچکچاہٹ ہے  کے کہا کہ میں نے کون سا تیار ہونا ہے ؟ خان جی کو کہوجب کہیں میں آ جاؤں گی ۔۔۔۔۔ قصہ مختصر ناشتہ کے بعد وہ دونوں گھر سے چلے گئے اور پیچھے میں گھر میں اکیلی  رہ گئی ۔۔۔




 Download Now


Contact Me For Secret Relation 
Email: farhanrajpoot129@gmail.com
Mobile Number: +923174537033 
Whatsapp: +923030275325

No comments:

Post a Comment