Breaking

اُستانی جی پارٹ 2



     دستک  کے  ساتھ جس  آواز  نے میرا  اور  میڈم کا  پِتہ  پانی  کیا  تھا   وہ    میڈم زیبا  کی  کرخت  آواز تھی  جسے   سُن کر  ایک  دفعہ تو میڈم  کے   پاؤں   تلے  سے بھی   زمین  نکل  گئی تھی  لیکن  دوسرے  ہی لمحے انہوں  نے اپنے آپ کو سنبھال  لیا  ۔۔۔ اور پھر مجھ  سے  سرگوشی  میں  کہنے لگیں ۔ ۔    تم جلدی  سے   بیٹھک  کے راستے سے باہر  نکل  جاؤ ۔ ۔ ۔   ان کی بات سُن کر  جیسے ہی میں جانے کے لئے مڑا  ۔ ۔     تو  وہ  ایک بار پھر ہلکی  آواز میں  تیزی سے بولیں   ۔ ۔ ۔  سنو ۔ ۔   کل چھٹی کے بعد ضرور  آنا   اور میں نے  ہاں میں سر ہلا دیا  ۔ ۔ ۔   جیسے ہی میں بیٹھک کی طرف بڑھا  تو    انہوں  نے   دوبارہ  آواز  دیکر کر  مجھے  روکا اور پھر میرے پاس آ کر  آہستہ سے  بولیں   کہ ۔۔   اور ہاں  ۔۔  جب تک  میں نہ کہوں تم  نے ٹیوشن  پر نہیں  آنا ۔۔۔ کیونکہ  ابھی  زیبا  کا مُوڈ   بہت  سخت خراب  ہے    ان  کی آخری بات  سُن کر  میں نے  وہاں  سے  دوڑ  لگا  دی اور دبے پاؤں چلتا  ہوا  بیٹھک میں پہنچ گیا   اور  پھر  ڈرائینگ روم کی کنڈی   کھول کر  باہر چلا  گیا ۔ باہر نکل کر میں نے  کسی سے  ٹائم  پوچھا  تو  چھٹی ہونے میں ابھی تھوڑا    وقت  تھا  اس لیئے  میں نے  ادھر ادھر  گھوم  کر  ٹائم پاس کیا اور پھر چھٹی کے وقت گھر چلا گیا-


           سوری  دوستو ناول استانی جی کی  کھتا  سنانے میں ، میں آپ  سے  ایک بات  شئیر کرنا  تو  بھول  ہی گیا  اور  وہ  یہ کہ ہم  جب  ہم موجودہ   گھر میں نئے  نئے    شفٹ ہوۓ  تھے  تو  گھر کی سیٹنگ  وغیرہ کے  فوراً  بعد  میں نے جوکام  سب سے پہلے کیا  تھا وہ  یہ تھا کہ میں شام کو اپنی چھت پر چلا  گیا اور آس پاس کی تمام  چھتوں کا   جائزہ  لینا   لگا کہ دیکھوں کہ شام کو  اس محلے کا کون کون سا چہرہ چھت پر آتا ہے اور ان میں  سے   کون سا   ایسا  چہرہ ہے جس کے ساتھ  اپنا  ٹانکا  فٹ ہو  سکتا ہے   لیکن اس دن  شاید میں  کچھ زیادہ ہی  لیٹ ہو  گیا تھا   یا  پتہ نہیں کیا بات تھی کہ مجھے   آس  پاس کی  ساری چھتیں  خالی نظر آئیں  مطلب یہ کہ مجھے  کوئ  بھی  خاتون  یا  کوئ  لڑکی اپنی  چھت پر کھڑی نظر نہ  آئ  میں کچھ دیر تک ادھر ادھر گھومتا رہا  پھر  واپس نیچے آ گیا اور  اگلے دن  میں پھر اسی نیت سے اپنی  چھت پر گیا  اور اتفاق سے  دوسرے دن  بھی ایسا ہی ہوا ۔۔۔ اور میں تھوڑا سا  مایوس ہو گیا اور نیچے جانے کے لئے واپس مُڑنے لگا  عین اسی لمحے کہ جب میں واپس جا رہا تھا میرے سامنے والی کھڑکی۔ ۔ ۔ ۔  نہیں ۔ ۔ ۔  نہیں  ۔ ۔ ۔   یار   کھڑکی نہیں  بلکہ چھت پر ایک چاند چہرہ  ستارہ  آنکھوں والی  بڑی ہی  پیاری سی لڑکی نمودار ہوئ ۔  (یا وہ عمر ہی ایسی تھی کہ ہر گوری عورت خوبصورت لگتی تھی ) اس کا    چہرہ   قدرے لمبوترا اور آنکھیں   بڑی  اور   ہونٹ  قدرتی  سُرخ اور   رس  سے بھرے  ہوۓ  نظر آ رہے تھے  اور اس  نے  اپنے  سینے   کو  ایک  بڑی  سی  چادر سے  ڈھانپا  ہوا  تھا ۔ ۔ ۔ اس لئے میں چاہ کر بھی اس کی چھاتی  کا  ناپ  نہ کر سکا  ۔۔  اسے  چھت پر آتے دیکھ میں نے  نیچے  جانے  کا  ارادہ ترک کر دیا   اور واپس   جا کر اس لڑکی  کو  تاڑنے  لگا   اور  پھر میں نے دیکھا کہ اس لڑکی نے اپنی چھت کا ایک چکر لگایا اور پھر وہ واپس جانےکے لیئے مڑی   اور  ۔ ۔  ۔ جاتے جاتے اس نے ایک نظر مجھے دیکھا  ۔ ۔ ۔   اور پھر    وہ  اپنے چھت کی  ری لینگ    کی طرف آئ اور ایک نظر  نیچے گلی میں جھانک کر دیکھا اتنی دیر میں میں بھی اپنی چھت کی ری لنگ پر  پہنچ  چکا  تھا     ۔۔۔ چنانچہ جیسےہی اس نے گلی میں جھانکنے کے بعد    اپنا سر اٹھایا  تو اس نے مجھے عین اپنے سامنے والے چھت پر  موجود پایا ۔۔۔ یہ دیکھ کر وہ تھوڑی سی حیران ہوئی  ۔۔   اور  پھر اس کے بعد  اس نے مجھ پر ایک  بھر پوُر نگاہ   ڈالی ۔ ۔  اور    چند سیکنڈ  تک میری آنکھوں میں آنکھیں  ڈال کر دیکھتی رہی  اور ۔ ۔  ۔ اور  ۔۔۔۔ ہائے  مار  ڈالا ۔  ۔  دوستو  جیسا کہ آپ لوگ اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ کچھ تو  ٹھڑکی مزاج تھے ہم بھی ۔  ۔ ۔ اور کچھ اس    خاتون کا  اس طرح  سے مجھ کو دیکھنا     ۔۔۔ سچ کہتا ہوں کہ مجھ سے تو ۔ ۔ ۔  دیکھا  نہ گیا ۔ اس کی نگاہ  میں ایک  عجیب سی مستی اورایک گہری  اداسی تھی      اور  اس مستی اور اداسی   کے امتزاج  نے میرے اندر ایک عجیب سی فیلنگ بھر دی تھی  ۔  ۔ ۔ ۔ ضرور اس کی نگاہ  میں ایسی کوئ بات تھی کہ میں کچھ  بے چین   سا  ہو گیا  اور اس کا  اس طرح  میری طرف دیکھنے  سے ۔  ۔ ۔ سچ مانو  میں تو گھائل   سا ہو گیا  اور مجھے  ایسا  لگا کہ جیسے   کوئ  چیز   میرے دل  میں جا کر کُھب سی گئ ہو 


۔ خیر    وہ   تو  ایک نگاہ  ڈال کر چلی گئی ۔ ۔ ۔ ۔  ۔ اور   میں کافی دیر تک وہاں کھڑا خالی خالی نظروں سے اس کی چھت کو دیکھتا رہا ۔۔۔ پھر کافی دیر کے بعد میں نیچے اترا  اور  سیدھا  اپنے  ایک  جاننے  والے کے پاس  کہ جو  اسی محلے کا قدیمی  رہنے والا تھا اور جس نے ہمیں یہ گھر لے کر دینے میں بڑی مدد کی تھی کے پاس چلا گیا۔ ۔ ۔  وہ   میرا  دوست  تو نہیں تھا لیکن اچھا جاننے والا   ضرور تھا اور اس کے ساتھ  میری  اچھی خاصی  فرینک نس بھی  تھی  اس کے ساتھ ساتھ وہ میری طبیعت  سے بھی اچھی طرح واقف تھا  اس لیئے سلام دعا کے بعد جب میں نے اس پوچھا کہ ایک بات تو بتا یار   !!!   یہ ہمارے گھر کے سامنے کون لوگ رہتے ہیں ؟ تو میری بات سنتے ہی اس نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ تم نے ارمینہ خان  عرف  مینا کو دیکھ لیا ہے ۔ ۔ ۔ تو میں نے کہا کون سی  ارمینہ اور کون سی مینا  ۔ ۔  ۔ ۔ ۔ تو میری بات سُن کر اس  نے  اپنی  بائیں  آنکھ  میچی  اور ہنس  کر بولا ۔ ۔  ۔ ہم سب  جانتے  ہیں بچہ  ۔ ۔ اور پھر کہنے لگا مینا کے پیچھے ایک تو  ہی نہیں  بیٹا    سارا  محلہ ہی   پاگل   ہوا  پھرتا  ہے  پھر وہ    میری طرف دیکھ کر کہنے  لگا  لیکن  یار  میری بات  کا  یقین کرو کہ وہ  ایک  نہایت شریف عورت ہے تو میں نے اس سے کہا یار توبہ کر وہ عورت نہیں وہ تو ایک سندر سی لڑکی ہے پیاری سی ناری ہے ۔ ۔ ۔  تو میری بات سُن کر وہ ہنس  پڑا   اور کہنے لگا   سالے وہ لڑکی نہیں پوری عورت ہے اور عورت بھی  وہ  جو عمر میں تم  سے   دو گُنی  ہو   گی تو میں نے قدرے حیران ہو کر اس سے  کہا یار لگتی تو وہ  بلکل لڑکی جیسی  ہے تو وہ کہنے لگا  ۔ ۔  تمھاری یہ بات بھی  ٹھیک ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ  وہ  کافی عمر چور  واقعہ ہوئ  ہے اور شکل  واقعہ ہی  کوئ  الہڑ مٹیار لگتی ہے    اور پھر کہنے  لگا ویسے  دوست  وہ ہے  بڑی شریف عورت ۔۔۔۔ تو میں نے جل کر کہا یار تم سے  اس کی شرافت کی گواہی نہیں لینے آیا بلکہ  یہ بتاؤ کہ اس کا حدود  دربہ کیا ہے؟ ۔ ۔  ۔  اور اس کی  بائیو گرافی کے بارے میں کچھ  روشنی ڈالو۔ ۔  ۔تو وہ میری طرف دیکھ کر بولا یار  مینا جتنی خوبصورت عورت ہے نا یہ اتنی ہی بدقسمت واقعہ ہوئ ہے پھر اس نے مجھے مختصراً بتلایا  کہ یہ   ٹال والے کی  سب  چھوٹی بیٹی ہے اور اس کی شادی اپنے کزن سے ہوئ تھی جو شادی کے بعد اپنے سسرال میں ہی  رہتا  تھا  اور اپنے سسر کے ساتھ ٹال پر کام کرتا تھا تو میں نے اس سے پوچھا کہ کیا ٹال والے کا اپنا کوئ  بیٹا نہیں ہے؟؟؟    تو  جواباً   وہ کہنے  لگا   نہیں یار اس کی پانچ چھ لڑکیاں ہیں اور آخر میں ایک بیٹا پیدا ہوا ہے ارصلا خان ۔۔۔  جو  ابھی بہت چھوٹا  ہے  اور تم نے اسے دیکھا  ہی  ہو گا   وہ بھی تمھارے ساتھ میڈم زیبا کے ہاں پڑھتا ہے پھر کہنے لگا یار مینا کی شادی کے دو سال بعد ٹال والوں کا  کسی تگڑی پارٹی کے ساتھ  لین دین کے معاملے میں جھگڑا ہو گیا تھا جس میں مینا کے شوہر نے  اس پارٹی کے کسی بندے کا کلہاڑا مار کے سر کھول دیا  تھا  اور اس پر دفعہ   307  اقدامِ قتل کا مقدمہ درج  ہو گیا تھا  اوربعد میں  اسے چھ سات سال کی سزا ہو گئی تھی  اور اس بات کو اب  دو سال ہو گئے ہیں اور پھر کہنے لگا یار اس لڑکی مینا پر محلے کے  بہت  سارے  سے لوگوں نے بہت ٹرائ ماری لیکن یہ کسی کے بھی  ہاتھ نہ آئ ہےہاں اسکا دیکھنا اس طرح کا ہے کہ جس کو بھی ایک بار دیکھ لیتی ہے  وہ یہی سمجھتا ہے کہ ۔ ۔  ۔۔  وہ اس کے ساتھ  سیٹ ہو گئی ہے ۔۔ ۔ ۔ ۔ لیکن  ایسی کوئی بات نہ  ہے ۔ ۔ بس    اس کا دیکھنا ہی ایسا ہے ۔ ۔  ۔ سو دوست اگر  اس نے تم کو بھی نظر بھر کے دیکھ لیا ہے تو کسی خوش فہمی میں نہ رہنا ۔ ۔ ۔ ۔ پھر کہنے لگا     میں تم سے دوبارہ کہہ رہا ہوں کہ    اگر تم اس عورت کے چکر میں ہو تو  اس بات کو بھول جاؤ کیونکہ    وہ تم کو کبھی بھی نہیں ملنے والی ۔۔۔۔ 


         اس کی بات سُن کر  ایک بات تو کلیئر ہوگئی  کہ  ارمینہ خان  عرف  مینا  ایک شریف عورت تھی لیکن اس نے جس انداز میں مجھ کو دیکھا تھا میرا دل اس بارے میں کچھ اور ہی گواہی  دے  رہا  تھا ۔۔ کہ آخر وہ بھی ایک عورت تھی  ۔ ۔ ۔ایسی عورت جو  شادی شدہ  اور لن آشنا تھی اور گزشتہ   کافی عرصہ سے ۔ ۔  ۔ ۔ پیاسی تھی     اور ظاہر ہے جزبات بھی رکھتی ہو گئی ۔۔۔   مزید کچھ گپ شپ کے بعد میں وہاں سے آ گیا لیکن میں نے اسے یہ بات ہر گز  نہ بتائ تھی کہ اس دن ارمینہ  نے مجھے کن نظروں سے دیکھا تھا  ۔ ۔ ۔ کیونکہ ہو سکتا ہے وہ ٹھیک ہی کہہ رہا ہو  ۔۔ اور  جو میں سمجھ رہا ہوں  وہ  میرا وہم ہی ہو ۔ ۔ ۔ لیکن میں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ ٹرائی کرنے میں کیا حرج ہے ضروری نہیں مجھے بھی  اورں  کی  طرح      No response   ہی  ملے  ۔۔۔ کیونکہ اس قسم کی خواتین  کے  معاملے میں  میری قسمت بہت   اچھی  تھی ۔   سو  اس  دن کے بعد میں    ارمینہ  کی  تاڑ  میں   اپنے چھت پر کھڑا ہونا شروع ہو گیا ۔ ۔ ۔  مینا کبھی آتی کھبی نا   آتی۔ ۔ ۔ لیکن جب بھی  وہ   اپنی  چھت  پر آتی تو میں یوں ظاہر کرتا کہ میں صرف اسی کے لیئے کھڑا ہوتا ہوں ۔۔۔  رفتہ رفتہ اس نے  میری اس  ان کہی بات کو  پِک کر لیا  اور مجھے لفٹ تو ہر گز  نہ کرائی۔۔۔۔   لیکن    اس نے میرے چھت پر کھڑے ہونے کا نوٹس لینا  شروع کر دیا  تھا چنانچہ اب  وہ  بھی اسی  مخصوص ٹائم پر چھت پر آنے لگی  جس ٹائم میں چھت پر کھڑاہوتا تھا ۔ ۔ ۔ اب اس کی روز کی روٹین  یہ ہو گئی تھی کہ وہ   اپنی چھت پر آتی پھر وہاں سے باؤنڈری وال کی طرف جاتی جس کے سامنے میں کھڑا ہوتا تھا  اور پھر وہ   ایک گہری نظر مجھ پرڈالتی اور پھر  واپس چلی جاتی تھی ۔۔۔ میرے لیئے یہی بہت تھا ۔ اس کی نظروں میں ایسا طلسم تھا کہ میں کافی دیر تک اس کی ان نظروں کو سوچ سوچ کر دل ہی دل میں مختلف منصوبے بناتا  رہتا تھا    ۔  ۔ ۔  ۔ ایک دن کی بات ہے کہ وہ  حسبِ معمول اپنے ٹائم پر آئی  اور پھر اپنی چھت کے ایک کی بجاۓدوتین چکر لگاۓ آج  وہ  مجھے  کچھ  بے چین سی  لگ رہی تھی کیونکہ  چھت پر چکر لگاتے ہوۓوہ چور نظروں سے مجھے بھی دیکھتی جاتی تھی ۔ ۔ ۔  پھر حسبِ  روایت  وہ  اپنی  چھت کی ری لنگ   کی طرف آئی  اور اس نے ایک نظر نیچے گلی میں ڈالی ۔ ۔ ۔  میں بھی حسبِ روایت اس کے بلکل سامنے والی چھت پر کھڑا اسی کی طرف  دیکھ رہا تھا گلی میں نظر ڈالنے کے بعد اس ے اپنا سر اٹھایا اور پھر میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنے لگی ۔۔۔۔ پہلے کی نسبت آج اس کا آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنے کا دورانیہ کچھ طویل تھا ۔۔  اور اس پھر اس نے جاتے جاتے  دوبارہ  ایک نظر مجھ پر ڈالی۔ ۔ ۔ ۔ اور  پھر ۔ ۔ ۔  اپنا  نیچے  والا ہونٹ اپنے دانتوں میں داب لیا ۔۔۔۔۔ اُف ف فف اس کی یہ ادا  اس قدر  دل کش اور سیکسی تھی کہ بے اختیار میں نے اپنا ایک ہاتھ اپنے سینے پر رکھا   اور اپنی طرف سے تو بڑے  ہی   رومینٹک انداز میں ۔ ۔  ۔   ایک آہ بھر ی  ۔ ۔ جیسا کہ میں نے آپ کو بتایا ہے کہ اپنی طرف سے تو میں نے بڑا  ہی رومینٹک انداز اپنایا تھا لیکن میرا خیال ہے کہ میں رومینٹک انداز اپناتے اپناتے کچھ زیادہ ہی جزباتی ہو گیا تھا  یا پھر   میں   اس انداز میں مصالحہ کچھ زیادہ ہی ڈال گیا تھا  نتیجہ یہ نکلا کہ میرا یہ    انداز  اس کو متاثر کرنے کے چکر میں کچھ زیادہ ہی      بھونڈا اور مزاحیہ    ہو گیا تھا اتنا مزاحیہ کہ میرا  وہ   ایکشن   .... دیکھتے ہی  اس کے منہ  سے ہنسی کا فوارہ چھوٹ  گیا  لیکن فوراً ہی اس  نے ( بڑی مشکل سے )  اپنی ہنسی پر  قابو پایا   اور پھر  وہ  اپنے منہ  پر  ہاتھ رکھ کر میری طرف دیکھتے ہوۓ   نیچے کی طرف بھاگ گئی اس کی یہ  ادا    دیکھ کر میرے دل میں مسرت کے لڈو  پھوٹ گئے ۔ ۔ ۔




 آمنے سامنے گھر ہونے کی وجہ سے ہمارا  ایک دوسرے کے گھر آنا جانا   تو شروع ہو گیا تھا لیکن یہ آنا  جانا  ابھی  صرف  لیڈیز تک ہی محدودتھا  وہ بھی بہت کم    . . . مطلب ابھی اتنی بے تکلفی نہ ہوئی تھی کہ ہم لوگ  مطلب میں  بھی  ان کے گھر فرینڈلی آ جا سکوں  ۔ خیر  اس سے    اگلے  دن  وہ  مجھ  سے  پہلے ہی چھت پر موجود تھی شاید کپڑے دھو رہی تھی اور اس کے ساتھ اس کی امی بھی تھی جسے سب لوگ ماسی پٹھانی کہتے تھے   ماسی  پٹھانی سفید ٹوپی والا برقعہ پہنتی تھی جس کی ٹوپی کم از کم میں نے تو  کبھی بھی نیچے گری ہوئی  نہ  دیکھی تھی   وہ سارا  دن محلے میں  ادھر ادھر پھرتی  رہتی تھی جبکہ  گھر کے سارے کام کاج ارمینہ ہی کرتی تھی – اور مزے کی بات یہ ہے کہ میں نے آج پہلی دفعہ  ماسی پٹھانی کو  بغیر  برقعے کے  دیکھا  تھا    ماسی کو دیکھ کر میں ادھر ادھر ہو گیا   اور  ارمینہ کی طرف دیکھنے  سے  پرہیز  ہی  کیا ۔۔۔ ماسی کچھ دیر تک ارمینہ کے پاس کھڑی رہی پھر وہ واپس نیچے چلی  گئی اسے نیچے جاتے دیکھ کر میں بھی اپنے خفیہ ٹھکانے سےباہر  نکل آیا   اور  ارمینہ کو  تاڑنے   لگا  جیسے ہی اس کی نظر مجھ پر پڑی وہ مسکرا دی اور پھر  کچھ دیر بعد وہ  حسبِ معمول اپنی گرل کے پاس آئی اور ایک نظر نیچے گلی میں جھانکا اور پھر میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مجھے دیکھنے لگی پھر کچھ دیر کے بعد  وہ  واپس جا کر اپنے کپڑوں کے ساتھ لگ گئی یہ دیکھ کر میں نے بھی اپنا  ناکا  سخت کر دیا اور وہیں کھڑا  رہا    اب  وہ  کپڑے دھونے کے ساتھ ساتھ کھبی کھبی  میری طرف بھی دیکھ لیتی تھی  ۔۔۔۔  اس وقت شام اندھیرے میں بدل رہی تھی جب اس نے اپنے آخری  کپڑے  مشین میں ڈالے اور  پھر  اس  نے مشین کو چلا دیا      اور  وہاں  سے ہوتے  ہوۓ  وہ ان کپڑوں کی طرف گئی کہ جو اس نے پہلے سے سوکھنے کے لئے  تار پر ڈالے ہوئے تھے پھر  اس نے تار سے سوکھے ہوۓ کپڑے اتارے اور میرے سامنے آ کر کھڑی ہو گئی ۔۔۔ اور میری طرف دیکھنے لگی   اب میں نے بات آگے بڑھانے کی غرض کسی پرانے  عاشق  کی طرح  اس کی طرف دیکھتے ہوۓ اپنے سر پر ہاتھ پھیرا مطلب میں نے اس کو سلام کیا اس نے میرے اشارے کو بڑے غور سے دیکھا لیکن کوئی رسپانس  دئیے بغیر وہ  نیچے کی طرف اتر گئی  ۔

        اس  سے اگلے دن کی بات ہے اور یہ  وہ   دن تھا کہ جب  میڈم ندا نے مجھے کہا تھا کہ کل چھٹی کر کے میرے گھر آنا ۔۔۔ چنانچہ اس دن سکول سے چھٹی ہوتے ہی میں بھاگم بھاگ میڈم کے گھر کی طرف روانہ ہو رہا تھا اور دل میں سوچ رہا تھا کہ آج تو میں میڈم کی ننگی چھاتیاں جی بھر کے چوسوں گا اور اس کے ساتھ ہی میرے ذہن میں میڈم کی ننگی چھاتیوں کا  تصور  آ گیا   اور میں  آنے والے لمحات کے تصور کی لزت میں گُم چلا   جا رہا تھا یہاں میں یہ بات آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ  سکول سے گھر آتے ہوۓ راستے میں ایک  گندا نالہ  بھی آتا تھا  جس   پر ایک ٹوٹا  ہوا  پُل  بھی   تھا  اور  یہ    کافی   ویران سی جگہ تھی  جب میں وہاں پہنچا  تو  وہاں  پر  میں نے دیکھا کہ تین چار لڑکے مل کے ایک لڑکے کو مار  رہے  ہیں    میں  نے  ان پر کوئ  خاص توجہ نہ دی کیونکہ   مجھے میڈم کے گھر جانے کی بڑی     جلدی تھی لیکن جونہی  میں  نے  وہ گندا   نالہ عبور  کیا تو میرے کانوں میں ایک آواز سنائی دئ  ۔ ۔ ۔ ۔ بھائی جان !!!  ۔بھا ئی جان ۔۔۔ ۔ لیکن میں نے  وہ آواز سنی اَن سُنی کر دی اور جھگڑے میں نہ پڑنے کا فیصلہ کر لیا لیکن پھر  جب اسی آواز نے مجھے میرا نام لیکر پکارا   تو مجھے رُکنا پڑا اور پھر جب میں نے مُڑ کر دیکھا  تو وہ آواز دینے والا اورکوئی نہیں ۔۔ارصلا  خان تھا  ارمینہ  کا  چھوٹا بھائ ۔ اور۔ ۔ ہمارا ہمسایہ  ۔  ۔۔۔ ۔ جیسے ہی میری نظریں اس کی نظروں سے ٹکرائیں  تو اس نے ایک بار پھر التجائیہ لہجے میں مجھے پکارا ۔۔۔۔۔ اور پھر  میں نے دیکھا کہ ایک بچے نے ارصلا  خان کو   گریبان سے پکڑا ہوا تھا جبکہ باقی دو بچوں نے اس کا ایک ایک بازو پکڑ کر اسے  مروڑا  ہوا تھا اور وہ لڑکا جس نے اس کو گریبان سے پکڑا تھا وہ ارصلا کو مسلسل  تھپڑ  مار  رہا  تھا   ۔۔    ارصلا  مار کھاتے ہوئے میری ہی طرف دیکھ رہا تھا  اور جب اس نے دیکھا کہ میں اس کو دیکھ رہا ہوں تو وہ  جلدی سےبولا  بھائی جان  مجھے ان سے بچائیں   یہ مل کر مجھے کافی دیر سے  مار رہے ہیں ۔ اس کی بات سُن کر میں ان کی طرف بڑھا اور ان بچوں کو ارصلا خان کو چھوڑنے کو کہا لیکن وہ تینوں اس وقت بڑے غصے میں تھے اس لیئے انہوں نے میری بات نہ سُنی  بلکہ مجھے بھی  ماں کی گالی دے دی  جسے سُن کر مجھے بھی طیش  آ گیا اور میں نے اس لڑکے کو کہ جس نے ارصلاکو گریبان سے پکڑا ہوا تھا اور گالی دی تھی اسے  بالوں سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا اور ایک زور کا مکا اس کی گردن پردے  مارا ۔ ۔ جس سے وہ چکرا کر نیچے گرا ۔۔


۔۔۔اس کے بعد میں ان دو بچوں کی طرف متوجہ ہوا  جنہوں نے  ارصلا کو بازؤں سے پکڑا ہوا تھا  اور ان کو بازو چھوڑنے کو کہا اپنے ساتھی کا حال وہ دیکھ ہی چکے تھے اس لئے انہوں نے تھوڑی سی مزاحمت کے بعد اس کے بازو چھوڑ دیئے اب میں دوسری طرف وہ بچہ جو میرے مکے سے نیچے گرا تھا  اسے اُٹھتا دیکھ کر ارصلا  تقریباً روتے ہوۓ بولا بھائی اس نے مجھے بہت مارا ہے اس کی بات سُن کر میں نے اس بچے کو دونوں بازؤں سے پکڑا اور ارصلا کو کہا کہ اب تم اس کو مارو  یہ سن کر ارصلا آگے بڑھا اور اس نے اس بچے کو کافی تھپڑ مارے  تھپڑ کھا کے بچہ اور بھی غصے میں آ گیا اور ارصلا کو  گندی گندی گالیاں دینا شروع ہو گیا لیکن  پھر چوتھے پانچوں تھپڑ پر ہی وہ بس کر گیا اور رونے لگ گیا   وہ روتا بھی جاتا اور ہم دونوں کو گندی گندی گالیاں بھی دیتا جاتا تھا ۔۔ وہ چونکہ چھٹی کا ٹائم تھا اس لئے تھوڑ ی ہی دیر میں وہاں پر لڑکوں کا کافی رش لگ گیا  اور پھر ان کی کوششوں سے ہی  ہمارے درمیان  بیچ  بچاؤ  ہو گیا   اور پھر جب ہماری لڑائی ختم ہو گئی تو میں  ارصلا کو لیکر گھر کی طرف چل پڑا راستے میں میں نے اس سے پوچھا  کہ  یہ تم لوگ کس بات پر جھگڑ رہے تھے تو اس نے مجھے اس بات کا کوئی واضع جواب نہ دیا بلکہ  ٹرکانے کو شش کیاور   میں سمجھ گیا کہ وہ مجھے اصل بات نہیں بتانا  چاہتا  اس لئے میں  نے بھی  اس سے   اس  موضو ع پر مزیدکوئی بات نہ کی اور چپ ہو گیا پھر تھوڑی دیر بعد میں نے  اس سے پوچھا کہ  یہ بتاؤ کہ تم کو کوئی چوٹ وغیرہ تو نہیں لگی تو وہ تقریباً  روہنسا ہو کر بولا  بھائی جان آپ کے آنے سے پہلے ان لوگوں نے مجھے  بہت   مارا  تھا  اور پھر وہ  ا پنے سر پر ہاتھ رکھ کر  بولا   بھائی  جان ان لوگوں نے میرے  سر پر شاید  کوئی پتھر وغیرہ  بھی   مارا  تھا اس کی بات سُن کر میں نے چونک گیا
 اور رُک کر اس کے سر پر ہاتھ پھیرا تو مجھے  وہاں  دو تین  جگہ پر گومڑ سے بنے نظر آئے اور ایک آدھ جگہ سے اس کا سر بھی  پھٹا ہوا  نظر آیا   جس سے بہت تھوڑی  مقدار میں   خون بھی  رس رہا تھا اس کی یہ حالت دیکھ  میں اسے  ایک قریبی کلینک لے گیا جہاں کا ڈسپنسر  میرا  اچھا    واقف اور سابقہ محلے دار  تھا  اس سے میں نے ادھار پر ارصلا کی مرہم  پٹی  وغیرہ  کروائی اور اس کے  ساتھ اسے  ایک  پین کلر ٹیکہ بھی لگوا دیا ۔ اور اس کے بعد ہم گھر کی طرف چل پڑے


 کچھ دور جا کر میں نے اس سے  پوچھا کہ اب تمھاری طبیعیت کیسی ہے ؟ تو وہ کہنے لگا کہ درد میں  کچھ آرام ہے لیکن  مجھے آپ سے ایک بات کہنی  ہے تو  میں نے کہا ہاں بولو  تو وہ کہنے لگا میں گھر میں جا کر خوب واویلا کروں گا اور کہوں گا کہ
 انہوں نے مجھے بہت  مارا  ہے تو میں نے اس سے پوچھا اس سے کیا ہو گا تو وہ میری طرف دیکھ کر بولا اور کچھ ہو نہ ہو کل ٍمجھے سکول سے ضرور  چھٹی مل  جائے گی پھر وہ مجھ سے منت بھرے لہجے میں بولا ۔۔ پلیز بھائی جان آپ میرا ساتھ دینا اور امی سے بولنا  ۔ ۔کہ مجھے بہت مار پڑی ہے   ۔ اس کی بات سُن کر میں ہنس پڑا  اور کہا کہ جیسا وہ کہے گا ویسے ہی کروں گا اور اتنی دیر میں ہم ارصلا کے گھر کے قریب پہنچ گئے  ارصلا کے گھر کےسامنے پردہ لگا ہوا تھا اور یہ ہمارے  محلے کا واحد گھر تھا کہ جس کے دروازے کے سامنے ہر وقت پردہ لٹکا رہتا  تھا  گھر  قریب آتے ہی  ارصلا نے شور مچانا اور  قدرے اونچی آواز میں رونا شروع کر دیا اور اس کے ساتھ ہی وہ پردہ ہٹا کر اندر داخل ہو گیا جبکہ میں باہر کھڑا سوچنے لگا کہ مجھے اندر داخل ہونا چاہئیے کہ نہیں ؟ ابھی میں یہ سوچ ہی رہا تھا کہ ان کے گھر کا پردہ ہٹا اورارصلا کی ماں ماسی پٹھانی  باہر نکلی  وہ کافی غصے میں  لگ رہی تھی  اس نے باہر نکلتے ہی مجھ سے کہنے لگی  تم   بتاؤ کہ  ہمارا  بیٹے  کو کس  کنجر نے مارا   ہے  ؟؟ہم اس کو  زندہ نہیں چھوڑے گا   ابھی میں اس کو جواب دینے والا ہی تھا کہ ان کا پردہ ایک دفعہ پھر ہٹا اور اس دفعہ پردے سے باہر آنے والی ہستی اور کوئ  نہیں ارمینہ تھی   وہ   باہر آئی اور اپنی ماں سے مخاطب ہو کر بولی " شور مکاوا  مورے " (امی شور نہیں کرو)  پھر وہ اس سے کہنے لگی کہ اس سے  جو بات بھی پوچھنی ہے   اندر لے جا کر پوچھو  ۔ ۔ ۔گو کہ ماسی بڑے غصے میں تھی لیکن  ارمینہ کے کہنے پر وہ  گالیاں بکتی ہوئی اپنے گھر کے اندر  داخل ہو گئی   جیسے ہی ماسی  گھر میں داخل ہوئی  ارمینہ  مجھ سے مخاطب ہوئی اور بولی ۔ بھائی آپ بھی اندر آ جاؤ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  سو میں بھی ارمینہ کے کہنے پر ان کے گھر  کے اندر چلا گیا ۔ ۔  جہاں ماسی     شدید غصے میں کھڑی ارصلا کو مارنے والوں کی ماں بہن ایک کرتی نظر آ رہی تھی خیر ارمینہ مجھے اور ماسی کو لے کر ایک کمرے میں  آ گئی  جہاں  ارصلا پہلے ہی   بیڈ پر لیٹا ہوا تھا وہاں جا کر ارمینہ نے مجھے کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا اورجب میں کرسی پر بیٹھ گیا تو وہ مجھ سے بولی ہاں بھائی اب  آپ   مجھے تفصیل سے  بتاؤ کہ یہ واقعہ کیسے ہوا  تھا ۔  اسی دوران ماسی ارصلا کو مارنے والوں کو مسلسل اونچی آواز میں   بددعائیں دیتی جا رہی تھی جس کی وجہ سے مجھے بات کرنا مشکل ہو رہا تھا یہ بات ارمینہ نے بھی بھانپ لی اور وہ قدرے تیز لہجے میں اپنی ماں سے کہنے لگی ۔۔۔  یو منٹ   صبرو  کا ۔۔ مورے ( امی ایک منٹ صبر کرو  )  مجھے  بھائی سے واقعہ کی تفصیل تو پوچھنے دو ۔ ۔   ۔   ارمینہ کی بات سُن کر ماسی حیرت انگیز طور پر چُپ ہو گئی اور میری طرف دیکھنے لگی  چنانچہ موقعہ غنیمت جان کر میں نے   بلا کم  و کاست سارا   واقعہ ان  ماں بیٹی کے  گوش گزار کر دیا ۔


 جسے سُن کر  انہوں نے میرا بہت بہت  شکریہ ادا کیا اور پھر ماسی   ارصلا کی طرف متوجہ ہو گئی وہ ابھی تک رونے کا ڈرامہ کر رہا تھا جبکہ ماسی  اس کے پاس بیٹھ کر اس کو چُپ کرانے کی کوشش کر رہی تھی  پھر ماسی نے ارمینہ کو کہا کہ جا کر بھائی کےلئے پانی لائے اور وہ اُٹھ کر کچن کی طرف چلی گئی کچھ دیر بعد  وہ پانی  کا گلاس لیکر آئی جبکہ اسی  دوران  جب ماسی کسی کام سے اُٹھ کر باہر نکلی تو  موقعہ دیکھ کر ارمینہ نے   ارصلا  سے کہا ۔ ۔  بس بس اب  زیادہ  ڈرامہ نہ کر  مجھے پتہ چل گیا ہے کہ تم کواتنی چوٹیں  نہیں آئیں جتنی تم شو  کر رہے ہو ۔ ۔  ارمینہ کی بات سُن کر ارصلا نے میری طرف دیکھا اور بڑی معصومیت سے بولا بھائی جان آپ نے  آپا  کو کیوں بتا یا ہے؟؟  ۔ ۔ اس کی بات سُن کر ارمینہ کھلکھلا کر ہنسی  اور بولی  بھائی نے   مجھے  کچھ نہیں  بتایا ۔ ۔  بلکہ مجھے    ویسے ہی تمھاری  کرتوتوں  کا  سب علم ہے  تو  ارصلا کہنے لگا آپی اگر پتہ چل ہی گیا ہے تو پلیز امی سے اس بات کا زکر نہ کرنا تو وہ بولی  ایک شرط پر نہیں کروں گی کہ تم آئیندہ میرا کہا مانو گے ؟ تو ارصلا نے جھٹ سے اس بات کا وعدہ کر لیا  اتنی دیر میں ماسی بھی کمرے میں داخل ہو گئی تھی جسے دیکھتے ہی ارصلا نے ہائے ہائے کرنا شروع کر دیا ۔۔  ماسی نے ایک نظر اپنے بیٹے کی طرف دیکھا اور پھر میری طرف منہ کر کے بولی ۔ ۔  ابھی ابھی ایک بات میرے زہن میں آئی ہے وہ  یہ کہ   اس کی ان لڑکوں سے لڑائی تو ابھی ختم نہیں ہوئی  ہے نا  تو میں نے کہا جی جی ماسی ایسی ہی بات ہے تو وہ کہنے لگی اس کا مطلب ہے کہ ان میں پھر سے جنگ ہو سکتی ہے  تو میں نے کہا جی ایسا چانس ہے تو وہ میری بات سُن کر فکر منڈی سے بولی اس کامطلب ہے کہ  اب میں خود ارصلا کو چھوڑنے جایا کروں   اور لے کر بھی آیا کروں  ۔ ۔  تا کہ بچوں کی اس لڑائی سے بچا جا سکے ۔۔    تو ماسی کی بات سُن کر ارمینہ فوراً بولی ۔ ۔ ۔ امی  ارصلا کو چھوڑنے کے لیئے  آپ کو جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی ؟ تو ماسی حیران ہو کر بولی وہ کیسے ؟ تو ارمینہ کہنےلگی وہ ایسے کہ یہ چھوٹا بھائی بھی تو روز سکول جاتا ہے نا ہم اس سے درخواست کریں گے کہ یہ ہمارے بھائی کو اپنے ساتھ لے بھی جائے اور چھٹی کے بعد اس کو اپنے ساتھ لے آیا کرے پھر وہ میری طرف دیکھ کر بولی کیوں بھائی آپ ہمارا یہ کام کرو گے نا؟  اس سے پہلےکہ میں کوئی جواب دیتا   ماسی بڑے جوش سے بولی ۔ ۔ ۔ ۔ ارے ہاں یہ بات تو  میں نے سوچی  ہی   نہ تھی۔۔ ۔ واقعی ہی ارمینہ تم ایک  سمجھدار لڑکی ہو  پھر  وہ میری طرف گھومی اور کہنے لگی  بیٹا ۔ ۔ ۔ کیا آپ کل سے  اپنے چھوٹے بھائی کوبھی  اپنے ساتھ لے جایا کرو گے نا ؟ تو میں نے ایک نظر ارصلا پر ڈالی اورپھر  ارمینہ کی طرف دیکھا کر  بولا   جو آپ کا حکم ماسی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اور ماسی نے خوش ہوکر میرا ماتھا چوم لیا اور بولی  شکریہ بیٹا اب  میری ساری فکر دور ہو گئی ہے ۔۔  ۔۔  



          اسی دوران  ماسی کے گھر میں محلے کی دو چار عورتیں داخل  ہوئیں اور  سیدھا  ارصلا والے کمرے میں آ گئیں اور پھر ماسی سے مخاطب ہو کر بولیں کہ انہوں نےابھی  ابھی سنا ہے  کہ ارصلا کو کسی نے بہت پیٹا ہے ؟؟  انہوں نے یہ بات کی اور پھر سیدھی ارصلا کے پاس چلی گئیں    ۔ اور اس سے اس کا حال احوال دریافت کرنے لگیں ۔۔۔  ان خواتین کو دیکھ کر میں نے ان کے لیئے جگہ خالی کی اور میں جو ارصلا کے بیڈ کے پاس کھڑا تھا وہاں سے ہٹ کر تھوڑا پیچھے کھڑا ہو گیا جبکہ ان خواتین میں سے کچھ تو پاس پڑی کرسی پر اور کچھ ارصلا کے پاس بیڈ پر بیٹھ گئیں  اب صورتِ حال یہ تھی کہ ہمارے آگے لیڈیز بیٹھی بڑی ہمدردی سے ارصلا کے ساتھ پیش آئے واقعات کو ۔۔۔۔کچھ ماسی اور کبھی ارصلا کی زبانی سن رہیں تھیں جبکہ میں اس سے تھوڑی دور کھڑا تھا میرے سے کچھ فاصلے پر ارمینہ کھڑی تھی اب میں نے ایک نظر لیڈیز  اور ماسی کو دیکھا تو وہ سب آپس میں بزی نظر آئیں  ۔ ۔ ۔ پھر میری دماغ میں ایک بات آئی اور ۔۔۔۔ میں ان لیڈیز کی طرف دیکھتے ہوئے ۔۔۔۔ تھوڑا      کھسک کر ارمینہ کے پاس  کھڑا ہو گیا ارمینہ نے بھی ایک نظر میری اس جسارت کو دیکھا لیکن کچھ نہ بولی نہ ہی اس نے کوئی ہل جل کی۔۔۔۔  یہ دیکھ کر میں تھوڑا  سااور اس کی طرف  بڑھ گیا اور ۔پھر  ۔ ۔ ۔ ۔  ۔ کرتے کرتے میں ارمینہ کے ساتھ بلکل  جُڑ کر کھڑا ہو گیا – اور پھر ایک نظر لیڈیز کی طرف دیکھا تووہ   بڑے   زور  و شور سے باتیں کرنے میں لگی ہوئیں تھیں ان کا جائزہ لینے کے بعد میں نے کھڑے کھڑے  اپنا  ایک باتھ ارمینہ کے ہاتھ سے ہلکا سا ٹچ کر دیا  اور پھراس کے ردِعمل کا  جائزہ  لینے  لگا  اور پھر جب وہاں سے کوئی رسپانس نہ ملا تومیں نے ایک قدم آگےبڑھنے کا فیصلہ کیا  اور دوبارہ  اپنا  ہاتھ  اس کے ہاتھ کے ساتھ ٹچ کر دیا ۔۔۔اور ارمینہ کے ردِ عمل کا انتظار کرنے لگا لیکن جب وہاں سے کوئی ردِعمل نہ آیا تو  ۔۔۔۔۔ اور پھر کچھ دیر بعد میں نے اپنا وہ ہاتھ ان کے ہاتھ پر رکھ دیا۔ ۔ آہ ہ ہ   ہ ہ ہ ۔۔مزے کی بڑی ہی تیز لہر اُٹھی جو میرے سارے جسم میں سرائیت کر گئی  اور میں نے جلدی سے ارمینہ کا ہاتھ پکڑ لیا اور اس پر   ہلکا  ہلکا مساج کرنے لگا ۔۔۔




پھر میں نے اس کی طرف دیکھا تو وہ بظاہر عورتوں کی طرف متوجہ تھی  چنانچہ اب کی بار میں نےارمینہ  کی ایک انگلی کو پکڑا اور اس پر اپنی شہادت کی انگلی پھیرنی شروع کر دی اور دوبارہ  چوری چوری اس کی طرف

دیکھا لیکن وہاں ایک طویل خاموشی تھی اوراس کہ  یہ خاموشی   میری  ہلہ شیری  میں مسلسل  اضافہ کر رہی تھی سو اب   میں نے ایک سٹیپ اورآگے  بڑھنے  کا سوچا  اور پھر میں نے تھوڑی جرات سے کام لیتے ہوۓ اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا اور اسے دبا دیا اور پھر اسی پر بس نہیں کیا بلکہ میں نے ان کا ہاتھ دبانے کے کچھ دیر بعد ۔ ۔ ۔ ۔ میں اپنا ہاتھ  ہولے ہولے  ان کی  ہپس پر لے گیا اور ان کی ہپس پر رکھ دیا آہ ۔ ۔ ہ ۔ ہ  کیا بتاؤں دوستو ۔ ۔ ۔  ۔ ان کی ہپس بڑی ہی نرم تھی اور اس کا لمس محسوس کرتے ہی  میری شلوار میں سرسراہٹ سی ہونے لگی اور ۔ ۔  ۔ ۔۔ لیکن  ابھی  میرے ہاتھ نے ان کی ہپس کو
چھوا ہی تھا کہ وہ ایک دم تن گئی اور میرا ہاتھ پکڑ کرایک جھٹکے سے پرے   ہٹا  دیا ۔ ۔ ۔ ۔ اور ویسے ہی کھڑی رہی لیکن میں نے ہمت نہ ہاری  اور دوبارہ اپنا ہاتھ اس کی گانڈ  کی طرف بڑھایا ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن اس دفعہ وہ تیار تھیں اس لیئے جیسے ہی میرے ہاتھ نے اس کی ہپس کو چھوا ۔ ۔  ۔ تو اس نے اپنے ہاتھ میں  میرا ہاتھ پکڑ لیا
اور پھر ۔ ۔ میرے ہاتھ کی پشت پر ایک زور دار چٹکی کاٹ لی ۔ ۔ ۔ ۔ اُف ۔ف۔ف۔ف ۔ ۔  ۔ ۔ ارمینہ  نے اس قدر زور سے چٹکی کاٹی تھی کہ مجھے سچ مُچ نانی یاد آگئی اور میں نے بڑی مشکل سے اپنی چیخ کو ضبط کیا اور اپنے ہاتھ کو چھنکاتے ہوۓ بڑی مسکین سی شکل بنا کر  اس کی طرف دیکھا تو وہ  سامنے کی طرف منہ کر کے  ایسے دیکھ رہیں تھی کہ جیسا کچھ ہوا ہی نہیں تاہم جب اس کی نظر میری  رونے والی  شکل  پر  پڑی  تو میں نے دیکھا کہ ارمینہ اپنا منہ دوسری طرف کر کے مسکرا رہی تھی ۔ ۔ ۔ اب میں نے اس کی طرف دیکھنے ہوئے  اپنے  ہاتھ کو ملنا شروع کر دیا اور ایسے ری ایکٹ کیا کہ جیسے مجھے بڑا سخت  درد ہواہو (اور ہوا بھی تھا   لیکن اتنا نہیں جتنا کہ میں شو کر رہا تھا ) اور پھر جیسے ہی ارمینہ نے میری طرف دیکھا تو  میں نے اور زیادہ درد میں مبتلا  ہونے کی ایکٹنگ شروع کر دی اور خواہ مخواہ  برے برے  منہ بنا کراپنا چٹکی ولا  ہاتھ ملنے لگا ۔۔ ۔  ۔ میرا تیر نشانے پر لگا ۔ ۔ 



۔ ۔ ۔ ۔ اور اس کے چہرے پر  مجھے کچھ تشویش کے
 آثار نظر  آئے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن وہ ایسے   ہی کھڑی رہی لیکن  کچھ  ہی دیر بعد مجھے ان کا ہاتھ اپنی چٹکی والی جگہ پر محسوس ہوا اور پھر ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ یا حیرت۔۔۔۔۔۔۔ یہ میں کیا محسوس کر رہا ہوں ۔۔اورپھر اس   نے اپنا نرم و نازک سا  ہاتھ میرے ہاتھ پر رکھ دیا ۔ ۔ ۔ اور ۔ ۔ ۔ اور ۔ ۔ چٹکی والی جگہ پر مساج کرنے لگی ۔ ۔ ۔  اس کا یوں میرے ہاتھ پر اپنا نرم ہاتھ رکھ کر مساج کرنے سے  میری روح  تک تو  اس کی ۔۔۔۔  مسیحائی  نہ گئی ہاں لن ضرور تن گیا  جسے میں نے بڑی مشکل سے  قابو گیا  اور یہ بات بھی   اچھی طرح محسوس کر لی کہ ارمینہ ۔ ۔ ۔  راضی ۔ ۔ہے  ۔ ۔ ۔ یا یہ بھی  ہو سکتا ہے کہ یہ میری خوش فہمی ہو   جیسے  بقول شاعر ۔ ۔ ۔   زندگی تم نے کب وفا کی ہے ۔ ۔ ۔ ۔  ۔ اپنی خوش فہمی ہی بلا کی ہے ۔۔ ۔ ۔ اور اس بلا کی خوش فہمی    کا میں اور میرا لن دونوں  شکار ہو چکے تھے ۔ ۔   ابھی میں یہی  بات سوچ کر  انجوائے کر  رہا تھا کہ اچانک ماسی کی آواز سنائی دی وہ ارمینہ سے کہہ رہی تھی ارمینہ بیٹی مہمانوں کے لیئے چائے تو بنا لاؤ ۔ ۔  ۔ ہر چند کہ آنے والی لیڈیز نے بہت کہا کہ  چائے رہنے دیں ہم ابھی پی کے آئی  ہیں پر ماسی نہ مانی ۔۔۔۔اور ارمینہ کو جانے کا اشارہ کیا  اور میں نے ارمینہ کو کچن کی طرف جاتے دیکھ کر  دل ہی دل میں ماسی کو گالیاں سو کروڑ  گالیاں دینے لگا  کہ اگر ارمینہ کو تھوڑی دیر بعد کہہ دیتی  تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  پر   ۔ ۔ ۔ ۔  مجھ غریب کی یہاں سننے والا کون تھا  ؟؟   سو چُپ چاپ  رہا اور  ماسی کی طرف دیکھ کر اسے منہ ہی منہ میں گالیاں دیتا رہا ۔ ۔ ۔  ۔ ۔۔

   


   کچھ دیرتک  تو میں ایسے ہی منہ بسورے کھڑا  رہا ۔ ۔  ۔۔ پھر سوچا کہ آج کے لیئے اتنا ہی کافی ہے  اب گھر چلا  جائے  اور ابھی میں  جانے کے بارے میں سوچ ہی رہا تھا کہ اچانک  ان میں سے ایک عورت مجھ سے مخاطب ہو کر بولی ۔ ۔  ۔ بیٹا   زرا  ایک گلاس پانی تو پلا دینا   اس کی بات سُن کر ماسی مجھ سے بولی ہاں ہاں بچہ کچن میں جاؤ اور باجی  سے کہہ کر ایک ٹھنڈا گلاس پانی لے آؤ   میں  ماسی کی بات سُن کر کچن کی طرف چلا  گیا اور جب میں کچن میں داخل ہوا تو ارمینہ سنک  کے پاس کھڑی    چائے  والے   برتنوں کو ہنگال   رہی تھی  چانچہ میں نے اس کو ماسی کو پیغام دیا تو وہ کہنے لگی کولر  سے پانی لے جاؤ  تو میں نے اس سے کہا باجی  گلاس کہاں ہے ؟ تو وہ کہنے لگی اندھے ہو کیا نظر نہیں آ رہا  ۔۔ پھر وہ   سنک کے اوپر اشارہ کر کے بولی  دیکھو  کتنے  گلاس پڑے  ۔ ۔ ۔  ہیں ۔۔۔۔ واقعی میں نے نظر  اٹھا کر اوپر دیکھا تو ان کے سنک کے اوپر ایک شلف سی بنی ہوئی تھی اور اس میں  بڑی ترتیب سے  کانچ  و سٹیل کے جگ گلاس  رکھے ہوئے تھے ۔ لیکن مسلہ یہ تھا کہ شلف کے عین نیچے ارمینہ برتن  ہنگال رہی تھی اس لیئے میں نے اس سے کہاکہ باجی  زرا ہاتھ بڑھا کر مجھے گلاس تو  پکڑا دیں تو وہ میری طرف دیکھ کر بولی خود پکڑ لو نا  ۔ ۔ اور پھر برتن  ہنگالنے  میں مصروف ہو گئی ۔ ۔  ۔ ۔۔  اس کی بات سُن کر میں نے ایک نظر حالات کا جائزہ لیا اور پھر اچانک  میرے  ۔ ۔ دماغ میں ایک چھناکا   سا ہوا اور  ایک سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں سارا نقشہ میرے ذہن میں آ گیا اور میں ارمینہ سے بولا ٹھیک ہے باجی میں خود ہی لے لیتا ہوں اور پھر میں چلتا  ہوا  اس کے عین پیچھے ہو لیا اور  اپنا ہاتھ شیلف کی طرف بڑھا دیا ۔۔۔ لیکن شیلف تھوڑی اوپر ہونے کی وجہ سے میرا ہاتھ نہ پہنچا  چانچہ اب  میں تھوڑا اور آگے بڑھا اور شلف پر ہاتھ بڑھانے  کے انداز میں اپنا اگلا حصہ ارمینہ کی پشت کے ساتھ لگا لیا ۔ ۔  آہ ۔ ۔  کیا مزے کی پشت تھی ۔۔۔ اور  ارمینہ کا ردِعمل دیکھنے لگا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  لیکن وہ  بڑی مگن ہو کر  برتن  ہنگال  ۔ ۔  رہی تھی  اب میں تھوڑا اور آگے بڑھا اور اپنا لن اس کی نرم گانڈ پر لگا کر جان بوجھ کر  ایک گلاس  (جو کہ سٹیل کا تھا ) اٹھایا اور ارمینہ کے سامنے کر کے بولا  باجی  یہ ٹھیک رہے گا ؟



 تو وہ میری طرف دیکھ کر  بولی  بےوقوف مہمانوں کو کانچ کے گلاس میں پانی دیتے ہیں  اس کی بات سُن کر میں  دوبارہ آگے بڑھا اتنی دیر میں میرا لن ارمینہ کی نرم گانڈ کا لمس پا کر  نیم کھڑا ہو چکا تھا  ۔ ۔ ۔ اور اتنی دیر میں ۔۔  میں  یہ بی جان گیا تھا کہ ۔ ۔ ۔  ارمینہ اب کچھ نہ کہے گی چنانچہ میں نے  بے دھڑک  ہو کر ارمینہ کے گانڈ کے ساتھ اپنا نیم کھڑا لن چپکا  کر ایک کانچ  کا  گلاس لیا اور لن کو  اس کی گانڈ کے ساتھ چپکائے ہوئے بولا ۔۔ ۔ ۔ باجی یہ کیسا ہے ؟ تو و  ہ بولی ٹھیک ہے پر تم ایسا کرو  کہ جگ اور دو تین گلاس اور بھی نکال لو ایسا نہ ہو کہ اور خواتین بھی پانی مانگ لیں اور میں اس کی وہ بات سمجھ گیا جو اس نے نہیں کہی تھی اور  بظاہر اس سے بولا اچھا باجی ۔ ۔ ۔ ۔اور اس کے ساتھ ہی میں نے  اپنا لن  جو اس وقت تک فُل کھڑا ہو چکا تھا ارمینہ  کی گانڈ  کی دراڑ میں پھنسا  لیا  اور شلیف سے  گلاس نکالنے لگا  ۔۔۔ اور پھر  ایک ایک کر کے سارے گلاس وہاں سے نیچے اتار کر سنک کے  پاس پڑی  ٹوکری میں رکھتا گیا ۔ ۔ جب سارے گلاس اُتر گئے تو وہ بولی ۔ ۔ ۔ ارے اتنے سارے گلاسوں کا کیا کرنا ہے ۔۔  وہاں  تو       بس ایک دو گلاس  بھی کافی ہوں گے ۔ ۔ ۔  دو تین گلاس نیچے چھوڑ کر باقی واپس رکھ دو ۔ ۔ ۔ ۔ یہ اس بات کا واضع اشارہ تھا کہ وہ  اپنی  گانڈ  میں میرے لن کوابھی مزید انجوائے کرنا چاہتی تھی ۔۔۔ ۔۔۔۔



     اتنے واضع اشارے کے بعد بھی اگر میں موقعہ سے فائدہ نہ اُٹھاتا تو میرے جیسا  چُغد اور  بے وقوف اور کوئی نہ تھا  چنانچہ اس کی بات سُن کر میں نے اپنا لن   ہاتھ میں  پکڑا۔ ۔ ۔ اور  ارمینہ جو کہ تھوڑا جھک کر برتن  ہنگال رہی تھی کی کمر پر ہاتھ رکھ کر اس کو تھوڑا  سا اور نیچے کی طرف  جھکایا  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔اور حیرت انگیز طور پر۔ ۔ ۔  جیسے ہی ارمینہ نے   میرا  ہاتھ اپنی کمر پر محسوس کیا  وہ خود ہی کچھ  اس طرح  سے نیچے کو جھکی کہ جس سے اس کی بہت خوبصورت اور موٹی گانڈ مزید باہر کو نکل  آئی  اور اس نے سنک پر اپنی دونوں کہنیاں ٹکا دیں  ۔ ۔ ۔ یہ دیکھ کر  میں نے  اس کی گانڈ کے  دونوں پٹ الگ الگ کر کے  اپنی ایک انگلی اس کی گانڈ کی دراڑ میں ڈالی اور  سیدھا  اس کی  موری  پر لے گیا اور پھر وہاں اپنی انگلی رکھ کر دوسرے ہاتھ سے لن کو پکڑا اور  اپنا ٹوپا  عین ارمینہ  کی موری پر رکھ کر پیچھے  سےایک ہلکا سا دھکا لگایا اور  ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔میرے اس عمل سے  ٹوپا سیدھا جا کر اس کی گانڈ کی موری سے  ٹچ ہوگیا  ۔اُف ۔ف۔ف۔ اس کی  گانڈ کا رنگ بہت ہی گرم اور نرم تھا جسے محسوس کرنےہی میرا لن اور بھی تن گیا ۔ ۔ ۔ اس کے ساتھ ہی میں     نے آگے بڑھ کر  ایک گلاس اٹھایا اور اس کو اوپر  شلیف پر رکھنے سے پہلے ایک نظر ارمینہ  پر ڈالی تو ۔ ۔ ۔ ۔ میں  نے دیکھا کہ اس کے ہاتھ میں ایک چائے کی پیالی تھی  ۔ ۔  سنک کا نل کھلا ہو تھا جس سے پانی نکل کر بہہ  رہا تھا ، ، ،   ارمینہ کی آنکھیں بند تھیں اور وہ سٹل حالت میں  جھکی  میرے  لن کو  اپنی خوبصورت گانڈ میں انجوائے کر رہی تھی ۔۔  ۔ ۔ یہ دیکھ کر میرا جوش کچھ اور بڑھ گیا اور میں نے وہ گلاس نیچے سنک پر رکھا اور  ارمینہ کو کمر سے پکڑ لیا اور ایک ذور دار گھسا مارا ۔ ۔ ۔۔ لن کا اگلا سرا جو پہلے ہی ارمینہ کی گانڈ کے رنگ کر ٹچ کر رہا تھا اب تھوڑا کھسک کر اس کے رنگ میں داخل ہو گیا اور  ۔ ۔ ۔  جیسے ہی ٹوپا اس کی موری میں داخل ہوا  ۔ ۔ ۔ پہلی بار میں نے ارمینہ کے منہ سے ایک ہلکی مگر لذت آمیز سسکی کی آواز سُنی ۔۔۔ وئی  ۔ ۔وئی  ۔  ۔  اس کے ساتھ ہی اس نے اپنی گانڈ کو تھوڑا گھوٹ لیا ۔ ۔ ۔  ۔ جس سے مجھے  کنفرم ہو  گیا کہ لن کا تھوڑا سا  اگلا حصہ اس کی گانڈ میں داخل ہو گیا ہے ۔۔۔۔۔۔  اور پھر اس نے مستی میں آ کر دو تین دفع اپنی گانڈ کو اوپن کلوز کیا ۔۔ ۔ ۔ آہ کیا بتاؤں دوستو. . . !! ۔۔۔۔۔ کہ مجھے اس کام میں کتنی لزت ملی ۔۔۔۔ اور میرا لن لوہے کی طرح سخت ہو گیا اور بُری طرح سے اکڑ گیا  ۔ ۔ ۔ پھر میں نے اس کو کمر سے پکڑا اور تھوڑا پیچھے ہو کر پہلے سے زرا زیادہ گھسہ مارا  ۔  ۔۔ اور اس دفعہ کپڑوں سمیت  تقریباً آدھا ٹوپا اس کی  گرم گانڈ میں اُتر گیا ۔۔ ۔ اور ارمینہ نے اس دفعہ پھر پہلے سے کچھ بلند آواز ۔ ۔ ۔ اور ۔ ۔  فُل   لزت میں ڈوبی ہوئی سسکی لی ۔ ۔ اُف ۔ف۔ف۔ مم ۔ ۔ آہ ہ ہ ہ ۔  مورے ۔ ۔ ۔۔ ۔اور اپنا ہاتھ بڑھا کر مجھے پیچھے سے اپنی طرف پُش کرنے لگی ۔ ۔ ۔ اس کے بعد ابھی میں تیسرا گھسا مارنے  ہی والا تھا کہ اچانک ماسی کی آواز سنائی دی وہ کہہ رہی تھی ارمینہ بچہ ۔  ۔ ۔ پانی جلدی سے بھیجو ۔ ۔   ماسی کی آواز سُن کر  ہمارا لزت بھرا سارا طلسم  ٹوٹ گیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔اور آواز سنتے ہی ارمینہ بجلی کی سی پھرتی سے میرے آگے سے ہٹی اور سنک سے  فوراً ایک گلاس اٹھا کراس میں پانی بھرا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور مجھے دیتے ہوئے بولی جلدی جاؤ ۔۔ ورنہ امی آگئیں نا تو  ہمیں اس حالت میں دیکھ کر ہم دونوں کے ہی  ڈکرے (ٹکڑے )  کر دے گی ۔۔


پھر اس کی نظر میری شلوار میں تنے ہوۓ لن پر پڑی جس کی وجہ سے شلوار آگے کو کافی آگے کو اُٹھی ہوئی تھی اور ایک  تنبو سا بنا نظر آ رہا تھا  کو دیکھ کر  فکر مندی سے بولی اس کو کیا کرو گے؟؟  تو میں نے اس سے کہا کہ باجی آپ  اس کی پرواہ  نہ کریں اس  کا  بھی  بندوبست  ہے میرے پاس ۔ ۔  ۔۔ اور پھر بنا کوئی بات کیے میں نے لن پکڑ کر اپنی  شلوار کے نیفے میں اڑوس لیا اور پھر شرارتاً اپنی قمیض کو آگے سے اُٹھا کر اسے  اپنا موٹا سا ٹوپا دکھایا جو شلوار کے نیفے سے باہر نکلا   ہوا  صاف نظر آ رہا تھا اور منہ کھولے کھڑا تھا   ارمینہ نے تھوڑا  آگے بڑھ کے میرے ٹوپے کا یہ حال دیکھا اور  بولی ۔۔۔ بے چارہ ۔۔۔   پھر میں نے اس نے پوچھا یہ بندبست ٹھیک ہے نا  ارمینہ باجی ؟ ۔ ۔ تو وہ میری طرف دیکھ کر بولی ۔۔۔ مجھے نہیں معلوم ۔۔۔ اور پھر مصنوعی غصے سے مجھے دھکا دیکر کر  بولی  ۔۔۔ اب  دفعہ بھی ہو جاؤ  ۔۔۔۔  اور میں وہاں سے چلا گیا ۔۔۔   اور آنٹی کو پانی کا  گلاس دیکر بھاگا بھاگا    گھر پہنچا   کیونکہ میرا لن  مجھے کسی طور بھی چین نہیں لینے دے رہا تھا  کہ آنکھوں کےسامنے ابھی تک ارمینہ کی نرم گانڈ کا ہیولا  آ رہا تھا  اس لیئے لن کا علاج کرنے کے لیئے میں سیدھا   واش روم میں  گیا  اور ارمینہ کی مست اور نرم  گانڈ کے نام پر  ایک زور دار مُٹھ ماری کہ اس کے بغیرچارہ نہ تھا ۔   


  مُٹھ مار کے جب میں  کچھ ٹھنڈا ہوا  اور ارمینہ کی گانڈ کی خماری کچھ کم ہوئی  تو   مجھے یاد آیا کہ ۔ ۔ ۔ ۔  ۔  میں نے تو  میڈم  کے گھر جانا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ یہ سوچ آتے ہی میں  وہاں سے بھاگا  بھاگا میڈم کے گھر پہنچا ۔ ۔ اور دروازہ کھٹکھٹایا ۔  ۔ ۔ تو میڈم نے اندر سے ہی  آواز  دی  کون  ہے؟؟  آ جاؤ  دروازہ کھلا ہے ان کی آواز سُن کر میں گھر کے اندر داخل ہو گیا    دیکھا  تو   وہ  سامنے برآمدے میں کھڑی  دروازے  ہی کی طرف دیکھ رہی تھیں ۔ مجھ پر نظر پڑتے ہی وہ بولی  ۔ ۔ تم۔۔ !! ۔تم نے تو  کافی دیر پہلے آنا  تھا یہ اتنی لیٹ کیوں  آئے  ہو ؟؟ تو میں نے جواباًً    ا رمینہ کے بھائی کا سارا واقعہ سُنا دیا  لیکن درمیان میں      ارمینہ والی بات سرے سے ہی گول کر گیا سُن کر  بولی خیر یہ کام بھی تم نے اچھا کیا ہے۔ ۔ ۔ پھر میری طرف دیکھ کر بڑے ہی معنی خیز لہجے میں بولی ۔ ۔   پر تم لیٹ ہو گئے ہو؟؟   تو میں نے جواب دیا وہ کیسے  میڈم ۔ ۔ ۔  تو وہ کہنے لگی  وہ اس طرح جان  ۔ ۔ کہ تمھاری استانی جی  میرا مطلب  ہے  زیبا کی  امی  جو کہ لاہور کے ایک مشہور ہسپتال میں  گزشتہ  کافی دنوں سے داخل تھیں   کو آج  ڈاکٹروں  نے جواب دے دیا ہے اور وہ آج کل والی پوزیشن میں آ گئی ہے سو اس کو لیکر زیبا کے بھائی اپنے گاؤں چلے گئے ہیں اور اس کے ساتھ یہاں سے میں اور زیبا بھی ابھی اس کے گاؤں کے لیئے روانہ  ہو  رہے  ہیں  میرا بیٹا  دکان سے گاڑی لیکر کر  آتا ہی ہو گا اور پھر ہم نکل جائیں گے میڈم کی یہ بات سن کر میرے تو ٹٹے  ہی ہوائی ہو گئے اور میں نے  انتہائی پریشانی سے کہا  کہ ۔ ۔ میڈم وہ میرا ناول ۔۔۔؟؟؟  میری بات سُن کر وہ اچانک ہی چونک اٹھی اور سر پر ہاتھ مار کر بولی ۔ ۔ ۔ اوہ ۔ ۔ ۔ سوری یار مجھے یاد نہیں رہا پھر مجھ سے کہنے لگی ۔ ۔ ۔۔ یقین کرو میں صبع  زیبا کے پاس تمھارے ہی کام گئی تھی لیکن اس کی امی کی پریشانی سُن کر بھول گئی اور جب میں واپس آ رہی تھی یقین کرو میرے دماغ میں یہ بات گھوم رہی تھی کہ میں زیبا کے پاس کسی کام سے آئی تھی وہ کیا کام تھا ۔۔۔ یقین کرو یاد  نہیں آ رہا تھا اب تم نے بتایا تو یاد آ گیا ہے کہ میں کس کام  سے  وہاں گئی تھی ۔ ۔ ۔ ۔ تو میں  نے کہا میڈم سے کہا کہ پلیز میڈم اب جا کر میرا کام کر دیں  نا  تو  وہ کہنے لگی  سمجھا کرو نا  اس  وقت تو یہ بات ناممکن ہے ۔ ۔ ۔ ۔  ان کی بات سُن کر میں نے مایوسی سے ان کی طرف دیکھا اور بولا ۔  ۔۔ میڈم آپ لوگ کب واپس آؤ گے ؟ تو وہ بولی یار کچھ کہہ نہیں سکتے اگر خدانخواستہ  زیبا کہ امی فوت ہو گئیں تو  ظاہر ہے کہ  ہم لوگ   دسواں کر کے ہی آئیں گے یہ سُن کر میں نے ان سے کہا  اتنی دیر میں تو میڈم ربا میری جان نکال دے گا ۔ ۔ ۔ ۔


Contact Me For Secret Relation 
Email: farhanrajpoot129@gmail.com
Mobile Number: +923174537033 
Whatsapp: +923030275325

No comments:

Post a Comment